امریکہ اورافغان طالبان میں معاہدے کے امکانات

امریکہ اورافغان طالبان میں معاہدے کے امکانات

  

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں چھ روز تک جاری رہنے والے مذاکرات میں امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد اور افغان رہنماؤں کے درمیان ایک مسودے پر اتفاق رائے پایا گیا ہے، جس پر اگر دستخط ہو گئے تو امریکہ اٹھارہ ماہ میں کابل سے اپنی افواج نکال لے گا اور طالبان جنگ بند کر دیں گے۔ یہ معاہدہ افغانستان میں سترہ سالہ امریکی جنگ کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے، جس پر امریکہ اب تک کھربوں ڈالر خرچ کر چکا ہے اور کم جانی نقصان کے باوجود اس کے تین ہزار سے زائد فوجی اس جنگ میں جان ہار چکے ہیں، البتہ لاکھوں افغان اس جنگ کی نذر ہوگئے، جس مسودے پر اتفاق رائے ہوا ہے اس کے تحت نہ صرف ساری امریکی افواج افغانستان سے نکل جائیں گی،بلکہ امریکہ اور طالبان قیدیوں کا تبادلہ بھی ہو گا، اُن طالبان رہنماؤں پر سفری پابندیاں بھی ختم ہو جائیں گی جو امریکہ نے لگا رکھی ہیں اور طالبان یہ مطالبہ کرتے رہتے ہیں کہ یہ پابندی ختم کی جائے۔ایک تجویز یہ بھی آئی ہے کہ عبوری عرصے کے لئے افغانستان میں ایک غیر جانبدار حکومت قائم کی جائے۔

معاہدے کا مسودہ اگرچہ حتمی نہیں ہے اور فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ طے شدہ مسودے پر دستخط بھی توقع کے مطابق ہو جائیں گے یا نہیں،کیونکہ یہ اپنی نوعیت کے انتہائی مشکل اور پیچیدہ مذاکرات ہیں، جن میں تعطل بھی آتا رہتا ہے،اِس لئے جب تک معاہدے پر دستخط نہیں ہو جاتے ، اُس وقت تک کوئی بھی بات وثوق سے کہنا مشکل ہے خود طالبان کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم جنگ بندی پر معاہدے اور کابل حکومت سے مذاکرات کی رپورٹس سچ نہیں ہیں، طالبان اب تک افغان حکومت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لئے تیار نہیں ہوئے، جبکہ پاکستان بھی اُن سے کہہ چکا ہے کہ وہ کابل کے ساتھ مذاکرات کریں، ابھی یہ دیکھنا ہو گا کہ اِس سلسلے میں طالبان اپنے موقف میں کس حد تک لچک دکھاتے ہیں تاہم یہ تو نظر آتا ہے کہ مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔ زلمے خلیل زاد دوحہ سے کابل پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ اس پیش رفت کے بارے میں افغان حکومت کو اعتماد میں لیں گے۔ افغانستان میں جولائی میں صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں، جن میں صدر اشرف غنی دوسری مرتبہ حصہ لے رہے ہیں، اب عبوری انتظامیہ کی جو تجویز سامنے آئی ہے اس پر صدر اشرف غنی کا ردعمل معلوم نہیں۔ اگر یہ تجویز معاہدے کا باقاعدہ حصہ بنتی ہے تو امریکہ صدر اشرف غنی کو قائل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

کابل میں موجود زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی رفتار اگرچہ اطمینان بخش ہے تاہم جب تک سب باتوں پر اتفاق نہیں ہو جاتا کچھ بھی منظور نہیں ہو گا،انہوں نے ان ’’سب باتوں‘‘ کی وضاحت میں یہ بھی کہا ہے کہ ان میں افغانوں کے مابین مذاکرات(یعنی کابل حکومت کے ساتھ براہِ راست بات چیت) اور جامع جنگ بندی شامل ہے۔ طالبان نے اِس بات پر تو اتفاق کر لیا ہے کہ افغان سرزمین داعش یا القاعدہ کو استعمال نہیں کرنے دی جائے گی تاہم ابھی تک وہ ’’انٹرا افغان مکالمے‘‘ کے لئے تیار نہیں ہوئے نہ ہی انہوں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ اگر مذاکرات آگے بڑھتے ہیں تو اِن امور پر بھی اتفاق ہو سکتا ہے، مذاکرات کے بعد اِس ضمن میں زیادہ پُرامیدی کا اظہار کیا جا سکتا ہے، زمینی حقیقتوں پر اگر نگاہ دوڑائی جائے تو یہ اہم بات سامنے آتی ہے کہ امریکہ نے اگرچہ 2001ء میں ایک ماہ کے فضائی حملوں کے بعد کابل سے طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا اور اس وقت کے امریکی صدر بش نے اعلان کیا تھا کہ ’’چوہے بلوں میں گھس رہے ہیں‘‘لیکن زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ بلوں میں گھسنے والے نہ صرف واپس آ گئے، بلکہ عملاً آدھے سے زیادہ افغانستان پر آج بھی افغان طالبان کا قبضہ ہے،جہاں اُن کا حکم چلتا ہے اور ان علاقوں میں افغان انتظامیہ کی کوئی رٹ نہیں، صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اب افغانستان کا مسئلہ فوجی طریقے سے حل کریں گے،لیکن جلد ہی نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ وہ اپنے جرنیلوں کی مخالفت کے علی الرغم افغانستان سے نصف امریکی فوج نکالنے کا یک طرفہ اعلان کر چکے ہیں،اِس لئے یہ مذاکرات کامیاب ہوں یا ناکام، آدھی فوج (سات ہزار ٹروپس) تو بہرحال طے شدہ پروگرام کے تحت واپس جائے گی اور اگر معاہدہ بخیرو خوبی ہو گیا تو اٹھارہ ماہ میں پوری امریکی فوج واپس چلی جائے گی۔

جو مسودہ تیار کیاگیا ہے اس پر اتفاقِ رائے سے دستخط ہو جاتے ہیں تو یہ دوسری مرتبہ ہو گا کہ ایک سُپر طاقت افغانستان کے پہاڑوں سے سے ٹکرا کر بے نیل و مرام واپس جا رہی ہو گی،اس سے پہلے سوویت یونین اس سرزمین میں داخل ہو کر اپنے اتحاد کو پارہ پارہ کر بیٹھا تھا۔ سوویت یونین نے بھی افغانستان سے رختِ سفر باندھنے سے پہلے جنیوا معاہدہ کیا تھا،اُس وقت جنرل ضیاء الحق اس کے مخالف تھے، لیکن وزیراعظم جونیجو کی منظوری سے اُن کے وزیر خارجہ زین نورانی نے جنیوا معاہدے پر دستخط کر دیئے، جنرل ضیاء الحق کا خیال تھا کہ اگر افغانستان میں کسی مستحکم حکومت کے قیام کے بغیر سوویت یونین واپس جاتا ہے تو افغانستان میں خانہ جنگی ہو جائے گی، ان کے اندازوں کے مطابق یہی کچھ ہوا اور طالبان کا ظہور اسی خانہ جنگی کے بطن سے ہوا۔انہوں نے متحارب فریقوں کو شکست دے کر یا اُنہیں بے اثر کر کے کابل کی حکومت قائم کی اور اپنے فکرو فلسفہ کے مطابق امورِ حکومت انجام دینا شروع کئے، جو مغرب کو پسند نہیں تھے۔ سوویت یونین کے جانے کے بعد امریکہ کو بھی اس علاقے کے امن سے زیادہ دلچسپی نہ رہی تھی اور وہ سوویت یونین کی شکست و ریخت کی مسرتوں ہی میں کھویا رہا۔

اب اگر امریکی افواج واپس جاتی ہیں تو یہ بہت ضروری ہے کہ کابل میں نوے کے عشرے کی تاریخ نہ دہرائی جائے اور طویل جنگ و جدل کی ستم رانیوں کی شکار افغان ملت کو اب سکون اور اطمینان کے لمحات میسر آئیں ایسا تبھی ہو سکے گا جب افغانستان میں اُن کے حقیقی نمائندوں کی حکومت قائم ہو، سوویت یونین کے بعد اب امریکہ نے بھی دیکھ لیا کہ کٹھ پتلیوں سے مختصر عرصے کے لئے تو کام لیا جا سکتا ہے، لیکن ان میں اتنی دانش و حکمت نہیں ہوتی کہ وہ پوری قوم کو ساتھ لے کر چل سکیں، کل اگر سوویت یونین کے پسندیدہ حکمران یہ نہیں کر سکے تھے تو آج امریکہ کے دوست بھی کوئی ایسا کردار ادا نہیں کر سکیں گے، جن سے امن و امان کی راہ ہموار ہو، افغانستان میں استحکام اسی وقت آئے گی جب امورِ مملکت ملت کی مجموعی خیر خواہی کے جذبے سے انجام پائیں گے۔ اِس لئے امریکی افواج کی واپسی کے بعد جو منظر نظر آ رہا ہے اس پر گہری نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔پاکستان چونکہ قریب ترین ہمسایہ ہے اِس لئے افغانستان کے حالات براہِ راست اُسے متاثر کرتے ہیں اِس لئے امریکہ پہلے کی طرح اگر خطے کو بے یارو مددگار چھوڑکر جائے گا تو مشکلات پیدا ہوں گی، معاہدے کے ساتھ ہی بعداز معاہدہ حالات کی بہتری کی منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔

مزید :

رائے -اداریہ -