نظام شہادت میں جھوٹی گواہیاں

نظام شہادت میں جھوٹی گواہیاں

ہمارے مُلک میں دیوانی اور فوجداری قوانین بہت پرانے اور دورِ غلامی کی یاد گار ہیں۔ تعزیراتِ پاکستان اور ضابطہ دیوانی ایسے قوانین ہیں، جن کے تحت مقدمات کے فیصلے ہوتے ہیں اور ان مقدمات کی اصل بنیاد شہادت ہے۔دوسرے معنوں میں تمام تر انحصار گواہوں پر ہوتا ہے کہ گواہی سچی اور صحیح ہو تو عدالتیں درست فیصلے پر پہنچتی ہیں،لیکن بدقسمتی سے ایک رجحان پختہ ہو چکا ہے کہ صحیح اور درست واقعات کی شہادت کے لئے بھی جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں،اس سلسلے میں فوجداری مقدمات میں تفتیشی افسر یا ایجنسیاں بھی ملوث ہوتی ہیں،اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ قتل کے مقدمات میں ملزموں کے نام لکھاتے وقت بے گناہ افراد کے نام بھی لکھوا دیئے جاتے ہیں کہ کوئی ایسا فرد جو مقدمہ سے باہر رہ کر پیروی کرنے والا ہو وہ بھی اندر ہو جائے۔ ایسے مقدمات عموماً عدالتوں میں معیار پر پورا نہیں اُتر پاتے۔ اس کے علاوہ اب تو صورتِ حال یہ بھی ہے کہ ضلع کچہریوں میں باقاعدہ جھوٹے گواہ کرائے پر مل جاتے ہیں معمولی نوعیت کے مقدموں میں یہ’’ریڈی میڈ‘‘ گواہ ہر وقت دستیاب رہتے ہیں اور پولیس نے اپنے لئے ایسے گواہوں کی فہرست مرتب کر رکھی ہوتی ہے۔ یوں نظام عدل میں یہ بہت بڑی رکاوٹ اور مشکل ہے،جس کی وجہ سے انصاف دشوار ہو جاتا ہے۔ فاضل چیف جسٹس، مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے شیخوپورہ کے ایک مقدمہ میں عمر قید کے سزا یافتہ ملزم کی بریت کے فیصلے کے وقت جو ریمارکس دیئے وہ اس سلسلے میں چشم کشا ہیں۔ متاثرہ لڑکی کے والد کی شہادت کے حوالے سے فاضل جج نے کہا مدعی نے دو بار اپنا بیان بدلا اور یوں جھوٹی گواہی کا مرتکب ہوا، ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا بحال رکھی اور گواہی کی جانچ نہ کی۔ فاضل چیف جسٹس کے مطابق اس طرح انصاف نہیں ہو گا، جو جج انصاف نہیں کر سکتے گھر چلے جائیں۔ مُلک کی سب سے بڑی عدالت کے سربراہ کے یہ ریمارکس بہت واضح ہیں اور ہمارے نظام شہادت میں کمزوریوں اور خرابی کی نشان دہی کرتے ہیں،اب یہ مقننہ اور انتظامیہ کا کام ہے کہ وہ قوانین میں ترامیم کر کے نقائص دور کریں اور انتظامیہ(سول+ پولیس) یہ دیکھے کہ جھوٹی گواہی کی بنا پر مقدمہ بنا کر عدالتوں میں نہ بھیجا جائے اور تفتیش کی سطح پر ہی اس کا ازالہ ہو جائے۔ اس کے بعد عدالتوں کے سربراہوں کو بھی انصاف کرنا ہو گا اور شہادتوں کا بغور جائزہ لے کر ہی فیصلے کرنا ہوں گے اس سے ہی عوام کو ریلیف مل سکے گا۔

مزید : رائے /اداریہ