افغان مسئلے کا پائیدار حل، وقت کی ضرورت

افغان مسئلے کا پائیدار حل، وقت کی ضرورت
افغان مسئلے کا پائیدار حل، وقت کی ضرورت

  


کیا سترہ برس بعد افغان مسئلہ حل ہونے جا رہا ہے؟۔۔۔ شنید ہے کہ امریکہ اور طالبان میں ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی ایک غیر ملکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے امکان ظاہر کیا ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے امریکہ اور طالبان کے درمیان جو مذاکرات ممکن ہوئے، اُن کے نتیجہ خیز ہونے کی امید ہے۔بالآخرامریکہ طالبان کی موجودگی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا۔لاکھوں افراد کو مارنے کے بعد امریکیوں کو عقل آ گئی۔یہ عقل اِس لئے نہیں آئی کہ اُن کی عقل داڑھ نکل آئی ہے،بلکہ اِس لئے آئی ہے کہ تمام تجربے کر کے دیکھ لئے، طالبان کی افغانستان میں عملداری ختم نہیں کی جا سکی۔

تمام تر طاقت اور فوجی آپریشن کے باوجود امریکہ اپنی کٹھ پتلی حکومت کو کابل سے باہر اپنی رٹ قائم کرانے کی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ پس ثابت ہوا کہ طالبان کوئی غیر ملکی نہیں،بلکہ اصل افغان ہیں، جنہوں نے افغانستان کے بیشتر علاقے میں اپنی حکومت قائم کر رکھی ہے۔اُن کی کارروائیوں سے کابل بھی محفوظ نہیں اور وہ جب اور جہاں چاہتے ہیں امریکی و افغان آرمی کو وہاں نشانہ بناتے ہیں۔

امریکہ جو ہمیشہ مختلف حربوں کے ذریعے افغان مسئلے کا حل نکالنے کی کوششیں کرتا رہا ہے اور جس نے پاکستان کو بھی دباؤ میں لانے کے لئے کبھی دہشت گردی، کبھی دراندازی اور کبھی عسکری مداخلت کے الزامات لگائے، نہ صرف یہ بلکہ بھارت کے اثر و نفوذ کو افغانستان میں بڑھایا،کابل میں اُسے پاکستان سے زیادہ اہمیت دی،پھر پاکستان کو خوفزدہ کرنے کے لئے بھارت نے بلوچستان اور شمالی سرحدی علاقوں، نیز کراچی اور پشاور میں دہشت گردی کرائی، اُس پر زبان بند رکھی، کبھی بھارت کی مذمت نہیں کی، اُن سب کے باوجود اُسے افغانستان میں کوئی کامیابی نہ ملی۔ جب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا ہے، وہ جلد سے جلد افغانستان کو چھوڑنا چاہتے ہیں،لیکن یہ وہ کمبل ہے جو اب امریکہ کو نہیں چھوڑ رہا۔

امریکہ اگر اس مسئلے کا پائیدار حل نکالے بغیر افغانستان سے نکل جاتا ہے تو دُنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔ پھر یہ بھی ہے کہ افغانستان میں کسی نمائندہ حکومت کو اقتدار منتقل کئے بغیر اگر وہ جاتا ہے تو افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی اور دہشت گردی کو مزید فروغ ملے گا،اِس لئے اُس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ افغانستان میں طالبان کو ایک حقیقت تسلیم کرے اور افغانستان میں شراکتِ اقتدار کا کوئی ایسا فارمولا دے جسے طالبان بھی قبول کرتے ہوں۔

اب سُنا ہے کہ یہ بیل منڈھے چڑھنے والی ہے۔ طالبان نے یقین دہانی کرا دی ہے کہ وہ معاہدے کی صورت میں جنگ بند کر دیں گے، دہشت گردی نہیں کرائیں گے اور افغانستان میں پائیدار امن کے لئے اجتماعی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ پاکستان نے امریکہ اور طالبان کو ایک ساتھ بٹھایا ہے تو اب اس معاہدے پر عملدرآمد کی ضمانت بھی اسے ہی دینی پڑے گی۔

سب سے پہلا کام تو غالباً یہ ہو گا کہ افغان صدر کے انتخاب کی جو سرگرمیاں جاری ہیں،انہیں روکنا ہو گا۔ اس میں طالبان کو شامل کر کے آگے بڑھا جا سکے گا۔امریکہ کے لئے سب سے دشوار مرحلہ یہی ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان کے حقِ حکمرانی کو تسلیم کرے۔ طالبان وہاں شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ ملا عمر نے جب یہی کام کیا تھا تو امریکیوں نے دہشت گردی کا الزام لگا کر افغانستان پر حملہ کر دیا تھا۔ پھر ایک لمبی جنگ چلی، جس میں امریکی فوجی بھی بڑی تعداد میں مارے گئے۔ امریکہ نے فوج پر فوج اُتاری، خود کامیاب نہ ہوا تو نیٹو فورسز کو بھی افغانستان میں لے آیا۔

پوری طاقت جھونکنے کے باوجود آج نتیجہ یہ نکلا ہے کہ امریکہ افغانستان سے انخلا کے لئے آمادہ ہو گیا ہے۔ یہ بہت بڑی شکست ہے، لیکن امریکی اسے فتح کا رنگ دینے کی کوشش کریں گے۔ وہ کہیں گے ہم نے افغانستان میں ترقی اور امن بحال کر کے وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا اور طالبان سے مذاکرات اور معاہدہ صرف اِس لئے کیا ہے کہ انخلا کے بعد وہاں صورتِ حال خراب نہ ہو۔ امریکیوں کے لئے اصل مسئلہ اپنے عوام کو مطمئن کرنا ہے۔

وہ عوام جنہوں نے اپنے فوجیوں کے تابوت آتے دیکھے اور جنہیں یہ کہہ کر مطمئن کیا جاتا رہا کہ اگر افغانستان میں امریکی آپریشن نہ ہوتا تو دہشت گردوں نے امریکہ کہ تباہ کر دینا تھا۔ اسامہ بن لادن کا ہوا کھڑا کر کے امریکی پینٹاگان نے جو سودہ سترہ سال تک بیچا وہ اب بکتا نظر نہیں آرہا۔ پھر اتنے بھاری اخراجات بھی امریکی معیشت اب برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی، سو یہ مجبوریاں امریکہ کو طالبان کے دروازے پر لے آئیں۔۔۔ تاہم صرف یہی ایک وجہ نہیں، جس نے امریکہ کو مجبور کیا کہ وہ طالبان کو انخلاء کی تاریخ دے، کیونکہ طالبان نے ہمیشہ پہلی شرط یہ رکھی کہ امریکہ افغانستان سے نکل جانے کا ٹائم فریم دے۔

ایک اور وجہ جو امریکہ کی مجبوری کا باعث بنی، وہ پاکستان کی تبدیل شدہ پالیسی ہے۔امریکہ ہمیشہ ڈومور کہتا رہا ہے اور پاکستان نے سر تسلیم خم کیا ہے۔ طالبان کے خلاف ہمیں استعمال کرنے کی کوشش کی، جس میں کامیاب بھی ہوتا رہا، جس کے نتیجے میں افغان جنگ پاکستان کے شہروں اور علاقوں میں منتقل ہوئی۔

پاکستان کی سٹرٹیجک پالیسی میں پہلی تبدیلی تو یہ آئی کہ اپنے علاقے سے ہر قسم کے دہشت گرد کیمپ اور گروپ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔دہشت گرد کو صرف دہشت گرد قرار دیا گیا،اُس کی شناخت کے لئے پسند نا پسند کے خانے نہیں رکھے گئے۔ فوج نے بڑی کامیابی سے پے در پے آپریشن کئے۔ شمالی و جنوبی علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کر کے وہاں ریاست کی رٹ قائم کر دی۔ جتنے بھی دہشت گرد تھے، وہ جان بچا کر افغانستان فرار ہو گئے، پھر پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کیاگیا۔

اس سرد ترین موسم میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس طرح وہ فری آمدورفت جو دہشت گردوں کے لئے پاکستان کی سرزمین کو ایک چراگاہ بناتی تھی،بند ہو گئی۔ پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر اپنے سرحدی علاقوں کو محفوظ بنایا۔اب یہ اتنی بڑی حقیقتیں ہیں، جن سے کوئی نظریں نہیں چرا سکتا۔ اگر امریکہ کا مقصد افغانستان میں صرف دراندازی روکنا ہوتا تو وہ پاکستان کی اِن کاوشوں کو سراہتا،مگر وہ چونکہ طالبان کو پاکستان کے ہاتھوں مروانا چاہتا ہے تاکہ نزلہ پاکستان کی افواج پر گرے اور امریکی فوجی محفوظ رہیں، اِس لئے وہ پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کرتا رہا۔ امریکی وزیر خارجہ پومپیو پاکستان آئے تو اُنہیں دو ٹوک جواب دیا گیا کہ پاکستان نے جو کرنا تھا کر دیا، اب امریکہ قدم بڑھائے۔

امریکیوں کو یہ بھی واضح پیغام دیا گیا کہ پاکستان طالبان پر دباؤ نہیں ڈالے گا، خود امریکہ کو اُن کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہئے۔ اس پیغام کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آگ بگولا ہوئے، کانگریس نے پاکستان کی امداد بند کر دی۔ یہ تک کہا گیا کہ پاکستان ہر سال امریکہ سے اربوں ڈالرز لیتا ہے، مگر امریکی مفاد کے لئے کچھ نہیں کرتا، مگر اُس کی یہ تمام دھمکیاں اور حربے ناکام ثابت ہوئے۔

یہ واضح اشارہ دے دیا گیا کہ پاکستان سے اب مزید کسی تعاون کی توقع نہ کی جائے۔ جب پاکستان نے ہاتھ کھینچا تو طالبان بھی امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکاری ہو گئے، دوہا میں مذاکرات کا پہلا راؤنڈ وقت سے پہلے بے نتیجہ ختم ہو گیا۔امریکہ کو دوسری بار پاکستان سے رجوع کرنا پڑا۔ زلمے خلیل زاد نے ڈونلڈ ٹرمپ کا وزیراعظم کو پیغام پہنچا کر طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے تعاون مانگا۔

عسکری و سول قیادت نے سوچ بچار کے بعد کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا،یوں قطر میں دوبارہ مذاکرات ہوئے، جن میں بہت سے نکات پر اتفاق رائے ہو گیا۔پاکستان نے ایک مرتبہ پھر خطے میں اپنی اہمیت منوا لی۔ پاکستان کی ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ ایشیا کے اس اہم ترین علاقے میں امن قائم ہو، ترقی و خوشحالی آئے۔ہماری خارجہ پالیسی میں ہمیشہ یہ نکتہ بھی سرفہرست رہا کہ افغانستان میں ایک ایسی نمائندہ حکومت قائم کی جائے،جس میں طالبان کی بھی شراکت ہو۔

آج امریکہ خود اس کا قائل ہو گیا ہے اور اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ اس معاہدے کے بعد طالبان خود ایک سیاسی قوت کے طور پر کابل حکومت سے شراکتِ اقتدار کی بات کریں گے۔

اس افغان جنگ نے بہت سے سبق دیئے ہیں۔ سب سے بڑا سبق تو یہی ہے کہ طاقت کے بل بوتے پر افغانستان کو غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ چاہے ایسا دُنیا کی سپرپاور ہی کیوں نہ کرے۔ اُسے بالآخر ہزیمت اٹھا کر واپس لوٹنا ہی پڑتا ہے۔

مزید : رائے /کالم