’’ایماء غالب‘‘

’’ایماء غالب‘‘

’’محبوب کا چشم یا جنبش ابرو سے اشارہ‘‘

لفظ ایماء کا ایک ترجمہ یہ بھی سامنے آیا تو دِل نے کہا کہ غالب کے سیاق و سباق میں انگریزی لفظ انٹیمیشن کا اس سے بہتر شاید کوئی ترجمہ نہ ہو سکے۔چنانچہ غالب کی غزلوں کے ترجمے کی کتاب ’’انٹیمیشنز آف غالب‘‘ کا اُردو میں ترجمہ ’’ایماء غالب‘‘ ہی بھلا سا لگا۔

اِس مرحلے سے گزرنے کے بعد خیال آیا کہ کتاب کی غزلوں کو انگریزی میں ڈھالنے کے لئے پروفیسر ڈاکٹر شاہد عالم کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے ہوں گے،اِس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اس کام میں ایک عمر لگ گئی۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اُردو شاعری اور غالب سے عشق میں موصوف نصف صدی سے مبتلا ہیں۔

اس وقت سے جب وہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں اکنامکس کے طالب علم تھے۔اس وقت بھی ان کی اسی نوعیت کی سرگرمیوں کے سبب ان کا شمار یونیورسٹی کے دانشورانہ حلقے میں ہوتا تھا۔ پھر حالات نے پلٹا کھایا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا اور وہ اپنا تعلق بہار سے ہونے کے باعث کراچی آ گئے،جہاں وہ اپنے بڑے بھائی پاکستان کے قومی ہیرو ایم ایم عالم کی کفالت میں رہے۔

انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے اکنامکس میں ایم اے کیا اور پھر اسی مضمون میں ویسٹرن یونیورسٹی کینیڈا سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں تاآنکہ1988ء میں نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی نے ان کی خدمات حاصل کر لیں۔ علم و تدریس کے دہائیوں پر پھیلے ہوئے اس سلسلے کے دوران وہ جہاں بھی رہے ادب ان کے ساتھ ساتھ رہا۔ اپنی مادری زبان اُردو سے ان کی الفت اپنی جگہ،لیکن لکھنے میں ملکہ اُنہیں انگریزی زبان میں ہی حاصل ہے،جس میں وہ پڑھاتے اور شاعری بھی کرتے ہیں۔

ان کی اپنی شاعری اور غالب کی غزلوں کے انگریزی میں ترجمے امریکہ کے معروف ادبی رسائل میں گاہے بگاہے شائع ہوتے رہتے ہیں۔

مختلف تحقیقی مقالوں کے علاوہ ان کی پانچ کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں، جن میں سے دو عالمی نوعیت کے معاشی موضوعات پر ہیں، جبکہ باقی تین سیاسی اور مذہبی موضوعات پر ہیں،جو ان کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو ہے۔ ان میں سے ایک کتاب اسرائیل کے بارے میں ہے، جس کی اشاعت پر اسرائیل کے علاوہ امریکہ میں بھی تہلکہ مچ گیا تھا اور امریکہ کے معروف زمانہ ٹی وی چینل ’’فاکس نیوز‘‘ نے ان کے خلاف آدھے گھنٹے کا پروگرام کیا تھا، جس میں انہیں ملازمت سے نکالنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔انٹرنیٹ کے ذریعے نفرت آمیز خطوط کا سلسلہ اس کے علاوہ تھا۔ یہ اور بات ہے کہ ان کے خلاف برپا ہونے والے اس شور و غوغے کی گونج پاکستان میں کچھ زیادہ سنائی نہیں دیتی، شاید اِس لئے کہ کتاب علمی تحقیقی نوعیت کی تھی اور شاید اِس لئے بھی شاہد عالم اگرچہ پاکستان سمیت دُنیا بھر کے مسلمانوں کی بہتری چاہتے ہیں، لیکن سیاست کے روایتی طریقے اختیار نہیں کرتے۔

ان کی یہ ادبی کتاب بھی پاکستان کے ادبی حلقوں میں کوئی ہلچل نہیں مچائے گی، کیونکہ انگریزی ادب میں گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستان نے اگرچہ بین الاقوامی شہرت کے حامل جوہر پیدا کئے ہیں،لیکن ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔اُنہی میں سے ایک مشرف فاروقی ہیں جو نہ صرف ایشیا کے اعلیٰ ترین ادبی انعام کے لئے نامزد ہوئے ہیں،بلکہ وہ اس لحاظ سے ایک بڑے مترجم بھی ہیں کہ انہوں نے ’’داستان امیر حمزہ‘‘ کے انگریزی میں ترجمے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔

انہوں نے شاہد عالم کی کتاب پر اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا ہے کہ انگریزی میں نفاست سے پیش کی گئی غالب کی شاعری سے کتاب کے قارئین بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔یہ کتاب نوجوانوں کو اُردو کے سب سے بڑے شاعر کی حِس ادراک اور نگاہ تصوّر سے متعارف کروائے گی، جسے مترجم نے اپنی زبان کی روانی میں بڑی خوبصورتی سے قید کر لیا ہے۔

مشرف کا خیال ہے کہ اُردو کی کلاسیکی شاعری کے چند ایک ترجموں میں نمایاں مقام کی حامل یہ کتاب آفاقی شاعری کے طلبا کے لئے ایک شاندار تعارف کا کام دے گی۔ ہندوستان کے اعلیٰ مرتبت نقاد پروفیسر ڈاکٹر ایم اے آر حبیب نے جو کنگسٹن یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر رہے ہیں اور آج امریکی یونیورسٹی رَٹگر میں پڑھا رہے ہیں۔

کتاب کے بارے میں اپنی رائے ان الفاظ میں دی ہے ’’یہ کتاب غالب کی غزلوں کا محض ترجمہ ہی نہیں، بلکہ شاہد عالم نے کلام غالب کے تمام تر مفہوم اور بلاغت کو اپنے تصور میں لاتے ہوئے اکیسویں صدی کے پیرائے میں اتنی خوبصورتی سے باندھا ہے کہ یہ کتاب نہ صرف غالب کو نئے سرے سے بیان کرنے، بلکہ غزل کے زبردست جوہر کو مغربی سماعت سے ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی‘‘۔

یہ کتاب شاہد عالم نے اپنے جواں سال دانشور بیٹے جنید عالم مرحوم کے نام منسوب کی ہے، جو ٹریفک کے ایک حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے، اوریسون بکس نے شائع کی ہے۔

کتاب کا دیباچہ بھی قابلِ ذکر ہے، جو نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے انگریزی ادب کے پروفیسر ایمریٹس گی روٹیلا نے لکھا ہے۔ ان کا غالب سے تعارف اُس وقت سے چلا آ رہا ہے جب وہ گریجویٹ سکول میں شاعری کے طالب علم تھے۔انہوں نے شاہد عالم کے ترجمے کو دلکش قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ غزل کی شان، قدر، نوعیت، مواد، سنجیدگی اور حاضر جوابی،قافیہ ردیف کی دولت،پہلے مصرع میں تناؤ، دوسرے میں رہائی، شعروں کی آپس میں لاتعلقی، معنی و مضمون، آفرینی، غرض تمام خوبیوں کو ساتھ لے کر چلے ہیں۔

پروفیسر روٹیلا کا خیال ہے کہ انگریزی کی تنگ دامانی کی نسبت اُردو، تصوراتی، کثیر گرفت اور تحریک خیال سے مالا مال زبان ہے، یعنی یہ کہ ایک مصرع یا شعر کے کئی معنی لئے جا سکتے ہیں، چنانچہ شاہد عالم نے بھی ترجمے کو کلام غالب سے قریب تر رکھنے کے لئے ایک غزل کے ایک سے زیادہ ترجموں کا طریقہ اختیار کیا ہے،جس کے تحت ایک ہی غزل کے پانچ مختلف پہلوؤں کے حامل ترجمے کتاب میں شامل ہیں۔

شاہد عالم کی تمام کتابوں کے علاوہ اس کتاب کے بارے میں بھی درکار معلومات گوگل سے حاصل کی جا سکتی ہیں،جس نے آفاقی شاعر کے طور پر غالب کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے 2017ء میں 27دسمبر کو ان کی دو سو بیسویں سالگرہ اپنے روایتی انداز میں منائی تھی۔

مزید : رائے /کالم