مبینہ کرپشن بمقابلہ مبینہ دیانت

مبینہ کرپشن بمقابلہ مبینہ دیانت
مبینہ کرپشن بمقابلہ مبینہ دیانت

  


28جولائی 2017ء کوجب نواز شریف کو عدالتی حکم کے ذریعے برطرف کیاگیا تو سب سے بلیغ اور جامع، لیکن افسردگی بھرے لہجے میں چودھری سیف نے تبصرہ کیا: ’’نواز شریف سے بدلے لینے والوں نے پاکستان کے ساتھ جو ہاتھ کیا ہے، اس کی تلافی کیسے ہو گی؟‘‘ چودھری محض میٹرک تک پڑھا ہوا ہے۔ کاروباری آدمی ہے۔

نانا دادا بن چکا ہے اور زندگی میں اس نے ایک ہی بار محبت کی ہے اور محبت ایک ہی بارکی جاتی ہے۔ اس محبت کی قیمت پر وہ کوئی اور کام کاروبار کرنے کو تیار نہیں ہے۔ پس اس نے چاہا ہے تو تبلیغی جماعت کو۔ اس جماعت نے اسے کہا کہ تم چار ماہ بیرون مُلک لگانے کے بعد اب باہر باہر رائے ونڈ رپورٹ کرو، رمضان کا بقیہ حصہ وہاں گزارو اور پھر عید کے ایک ہفتہ بعد تم آزاد ہو۔

اس نے ایسے ہی کیا۔ کہاں ہیں وہ دوسری قسم کی محبت کرنے والے؟ یہ منظرکشی میں نے اس لئے کی کہ قارئین کو اندازہ ہو سکے کہ مذکورہ بالا الفاظ میں تبصرہ کرنے والا کوئی دانشور نہیں۔ ٹی وی دیکھنا تو کیا ، اخبار پڑھنابھی ان لوگوں کی لغت میں نہیں ہوا کرتا۔

اگر چلّے سہ روزے پر ہوں اور ووٹ کا دن آ جائے تو کون سی جماعت اور کون سا ووٹ؟ یہ ان لوگوں کو سکھایا ہی نہیں جاتا۔ اختلاف ان سے ضرورکریں، لیکن ان جیسا بن کر تو دکھائیں! ہاں یاد آیا، یہ کوئی ایک ہی تبصرہ مجھے سننے کو نہیں ملاتھا۔ ہر وہ شخص جسے وطن سے غیرمشروط لگاؤ ہے، وہ سیاسی ہو یا غیر سیاسی 28جولائی 2017ء کو اس کا تبصرہ آپ کو بھی کم و بیش انہی الفاظ میں سننے کوملا ہو گا۔

اب جب میں اس ڈیڑھ دو سطری تبصرے پرآج غور کرتا ہوں تو ابن عربی کے مشہور نظریۂ وحدت الوجود پر ذرا دیر کے لیے غور کرنے پر مجبور ہو جاتا ہوں۔ ’’مخلوق کے پردے میں خالق بولتا ہے‘‘۔

میرے قارئین جانتے ہیں کہ میں خود سیاسی اعتبار سے نواز شریف کا یا ان کی جماعت کا ذرہ برابر حامی نہیں ہوں۔ یہ البتہ ایمان رکھتا ہوں کہ میرے جیسا فہم و ادراک رکھنے والے لاکھوں ووٹر اگرنواز شریف کو پسند کرتے ہوئے اقتدار میں لے آئے ہیں تو ہم سب کو ان ووٹروں کی رائے کا احترام کرنا چاہئے، جس دن میری پسندیدہ جماعت کی جدوجہد رنگ لائی، اسے حق حاصل ہو گا کہ وہ حکومت کرے اور وہ دوسروں سے احترام کی توقع کرے۔ قارئین کرام !پاکستان کے کروڑوں میرے آپ جیسے عام افراد بس اسی طرح سوچتے ہیں، لیکن اقتدار کے ایوانوں میں دھما چوکڑی مچانے والے میرے، آپ یا ہمارے نمائندے نہیں، بلکہ کوئی اور لوگ ہیں جن پر کسی قاعدے قانون کا اطلاق فی الحال ناممکن ہے۔

چودھری سیف نے جو بات فطری انسانی بھولپن میں کہی تھی کہ ’’نواز شریف سے بدلے لینے والوں نے پاکستان کے ساتھ جو ہاتھ کیا ہے، اس کی تلافی کیسے ہو گی؟‘‘، وہ اب نوشتۂ دیوار بن کر اپنے خونی پنجے ہر ادارے پر جما چکی ہے۔ 28جولائی 2017ء کو عدالتی حکم نامے کے ذریعے جب نوازشریف کو معزول کیا گیا تو ماہرین معاشیات کے مطابق ایک دن میں ملکی معیشت کو 14ارب ڈالر کا خسارہ دیکھنا پڑا۔

تب اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری عدد باون ہزار پر جھلملا رہا تھا۔ امپائر کے اشارے پر دھرنے کے باوجود ڈالر ایک سو سات روپے پر ٹھہرا ہوا تھا۔ آج صورتِ حال کیا ہے، وہ تو ہم سب بھگت ہی رہے ہیں، یہ سوچ کر ہول اُٹھتا ہے کہ آنے والے دِنوں میں مُلک کس ویرانے اور خندق میں لڑھکنے جا رہا ہے۔ حزبِ اختلاف یا مخالف سیاست دانوں کی باتوں کو تو ہم تھوڑی دیر کے لئے نظرانداز کرتے ہیں۔ آج ٹھیک ڈیڑھ سال بعد مُلک کی صورتِ حال یہ ہے کہ اسٹاک ایکسچینج انڈکس52ہزار سے پھسل کر 38 اور 40ہزار کے درمیان رہتا ہے۔

ڈالر پاکستان کے ستر برسوں میں اتنا مہنگا کبھی نہیں ہوا تھا جتنا تحریک انصاف کی حکومت اسے صرف پانچ ماہ میں کر گزری ہے اور یہ سب کچھ مالی لحاظ سے ایک ’’دیانتدار‘‘ شخص کی حکومت میں ہوا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی ششماہی رپورٹ بابت ملکی معیشت از جولائی تا دسمبر2018ء ملاحظہ ہو: تحریک انصاف کی حکومت کے اس عرصے میں غیرملکی سرمایہ کاری میں 77 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اسٹاک ایکسچینج سے پونے تین ارب ڈالر نکل گئے۔ اصل اعداد ملاحظہ ہوں۔

نواز شریف کی برطرفی کے باوجود مسلم لیگ کی حکومت باقی تھی، لہٰذا نواز شریف کے ساتھی وہی فکر لئے چل رہے تھے جو نواز شریف کے دورِحکومت میں تھی۔چنانچہ جولائی،دسمبر 2017ء کی ششماہی رپورٹ میں اسٹیٹ بینک کے مطابق مُلک میں تین ارب 95کروڑ ڈالر کی غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی، لیکن ادھر انتخابی نتائج آئے، ادھر ملکی معیشت پر کالے بادل اُمڈ آئے۔ ملاحظہ ہو، جولائی، دسمبر 2018ء کے اتنے ہی عرصے میں غیرملکی سرمایہ کاری صرف 95کروڑ ڈالر رہ گئی۔

اب مجھے تبلیغی جماعت والا وہ غیرسیاسی چودھری سیف کیوں نہ یاد آئے۔وہ لوگ جو دن رات ٹی وی اسکرین کے آگے منہ اٹھائے مسحور بیٹھے ہیں ،کیا وہ مجھے بتا سکتے ہیں کہ اس سے زیادہ بلیغ تبصرہ کیا کبھی انہوں نے پڑھا ہے؟ مخلوق کے پردے میں خالق بولتا ہے۔اہلِ لغت نے بھی ایک فقرہ وضع کر رکھا ہے: ’’زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو‘‘۔

یہاں پہنچ کر مجھے کچھ جمع تفریق کرنا پڑی۔ نواز شریف، آصف علی زرداری اور دیگر سیاست دانوں کی تمام مبینہ بدعنوانی اور لوٹ مار کو میں نے جمع کیا تو بھی اس کا میزان اس ہندسے کے قریب تک نہ پہنچ سکا، جو صرف ایک دن میں 28جولائی 2017ء کو ملکی معیشت کو نقصان کی صورت میں جھٹکا لگا۔ روپے کی قیمت میں کمی کے باعث غیرملکی قرضوں میں اضافہ اس قدر ہولناک ہے کہ سیاست دانوں کی ستر سالہ موہومہ اور مبینہ کرپشن اس کے مقابلے میں ہیچ ہے۔ رہی وہ کرپشن جسے ہم آج تک لکھنے سے معذو ر ہیں، کیونکہ اس کا تعلق خالص حب الوطنی کے دائرے سے ہے، جس سے سیاست دان باہر ہیں تو اس کا ایک آئس برگ یااس کی ایک نوک پرویزمشرف کی شکل میں موجود ہے۔

باقی قیاس آپ خود کر سکتے ہیں۔ تو اے محبان وطن مُلک کبھی کرپشن سے تباہ نہیں ہوئے۔ مکان بنتے وقت مستری ، مزدور سیمنٹ سریا چوری کرتے ہی رہتے ہیں اور مالکان سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی آنکھیں بند کر لیتے ہیں کہ ان لوگوں کو نکالا تو دوسرے آنے والے بھی یہی کچھ ہوں گے۔

لاکھوں کی مالیت سے بننے والے مکان میں چند ہزار کی چوری چکاری کو مالک مکان سہہ لیتا ہے۔ کھربوں روپے کی معیشت پر کھڑے مُلک میں چند لوگ کرپشن کر گزریں، چند ارب روپے لے اُڑیں تو بھی مُلک ترقی کرتا رہتا ہے۔ ذرا پڑوسی مُلک ہندوستان ہی کو دیکھ لیں ہمارے چند ارب ڈالر کے زرِمبادلہ کے مقابلے میں اس کا زرِمبادلہ400 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکا ہے۔

اور یہ سب کچھ وہاں کے سیاست دانوں کی کرپشن کے باوجود ہے تو اے محبان وطن، پڑوسی سے کچھ سبق سیکھنے کا داعیہ آپ کے پاس ہے ’’پیش کر غافل عمل کوئی اگردفتر میں ہے‘‘۔

چار جماعتیں پڑھنے او ر گھاٹ گھاٹ کاپانی پینے کے باوجود میں ایک بات نہیں سمجھ سکا اور بالکل نہیں سمجھ سکا۔ مَیں نے اپنے ساتھی ماہرین معاشیات سے بھی یہ سوال کیا، انہوں نے بھی بے بسی ظاہر کی۔

سوال بڑا سادہ سا ہے۔ پانچ سال دن رات ہم یہی چیخ و پکار سنتے پڑھتے رہے کہ نواز شریف کرپٹ آدمی ہے اور اس کے مقابلے میں جو صاحب لائے گئے ہیں،وہ دیانتدار ہیں اور دیانتدار ہی نہیں دیانتداری کا مرقع ہیں۔

یہ دونوں دعاوی ماننے میں مجھے بحث نہیں۔ سوال یہ ہے کہ نواز شریف کے دور کی ابتدا ہی میں بجلی گھر، موٹروے، میٹرو، او رینج ٹرینیں، ہوائی اڈے، رابطہ سڑکیں بننا شروع ہو گئے تھے اور تمام منفی سرگرمیوں، دھرنوں، عدالتی احکام امتناعی کے باوجود وہ کرپٹ آدمی ملک کو لوڈشیڈنگ سے پاک کر کے جیل گیا۔ دہشت گردی بھی کم و بیش صفر کے قریب پہنچ چکی تھی۔

گیس کی لوڈشیڈنگ کو بھی وہ شخص ختم کر کے قید خانے میں گیا۔ دوسری طرف ’’دیانتدار‘‘ صاحب کی یہ حالت ہے کہ تمام چلتے ہوئے منصوبے بند، اسلام آباد ایئرپورٹ سے شہر تک میٹرو تکمیل کے قریب تھا کہ اسے بند کر دیا گیا۔ موٹروے جہاں جہاں بن رہی تھیں یا تو بند ہیں یا ان پر کام کی رفتار بے حد سست ہے۔ ہاں سی پیک کے تحت بننے والی سڑکیں کس حال میں ہیں؟ ریلوے ٹریک دور رویہ کرنے کا منصوبہ بند، کرال چوک تا روات سڑک کا ٹھیکہ منسوخ، پنڈی تا کروٹ ہائیڈروپاور پراجیکٹ کی دو رویہ سڑک اور یہ تمام مذکورہ بالا منصوبے کچھ اس طرح بند ہیں کہ جو مشین جہاں پڑی ہوئی تھی، وہیں زنگ آلود ہو رہی ہے۔

قرضے کچھ اس رفتار سے لئے جا رہے ہیں کہ نواز شریف ہمیں بے چارہ معلوم ہو رہا ہے۔ اب میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ تمام منصوبے بند کر دئیے گئے۔ نئے منصوبے شروع کرنے کے آثار دور دور تک نہیں ہیں۔

تو یہ قرضے کہاں جا رہے ہیں؟ نواز شریف کے دور میں اگر ان لوگوں کے بقول مُلک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا تو وہ کرپٹ آدمی پیسے لاتا کہاں سے تھا؟ اور یہ دیانتدار صاحب اربوں کھربوں روپے کے قرضے لے لے کر کہاں جھونک رہے ہیں؟لوڈشیڈنگ پر بھی مستزادیہ کہ مہنگائی اس رفتار اور شرح سے بڑھ رہی ہے کہ متوسط طبقے کو سفید پوشی برقرار رکھنے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔

رہے غریب اور بے بس افراد تو اللہ کا شکر ہے کہ مُلک میں مخیرحضرات نے جگہ جگہ لنگر شروع کر رکھے ہیں۔ وہ لوگ وہاں اور مزاروں پر پکنے والی دیگو ں سے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ورنہ اس چنیدہ حکومت نے غریب کشی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہی وجہ ہے کہ اب عام آدمی دیانتدار صاحب کی دیانت داری پر دن رات تین حرف بھیج رہا ہے۔

سوال وہی سادہ سا ہے کہ ایک طرف مبینہ ’’کرپٹ ‘‘شخص تھا تو لوگ سکھ اور چین سے زندگی میں بہتری کی امید لئے بیٹھے تھے، تاوقتیکہ عالمی اسٹیبلشمنٹ اپنے مقامی گماشتوں کے ذریعے ایک ’’دیانتدار‘‘ شخص کو لے آئی۔

قارئین کرام! مسئلہ نہ کرپشن کا ہے اور نہ دیانت داری کا۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ نے اس ’’دیانت دار‘‘ آدمی سے چند کام کروانا ہیں جن میں سے چند ہو چکے ہیں، چند ہو رہے ہیں،چند پائپ لائن میں ہیں۔ بس اللہ سے کسی معجزے کی دُعا کریں ورنہ سٹرٹیجک تعاون کی جڑیں خاصی گہری ہیں۔ محبان وطن، حب الوطنی کی حدیں پھلانگ چکے ہیں۔

’’نواز شریف سے بدلے لینے والوں نے پاکستان کے ساتھ جو ہاتھ کیا ہے، اس کی تلافی کیسے ہو گی؟‘‘

مزید : رائے /کالم