ڈیورنڈ لائن اب ڈیڈ ایشو ہے ، امریکی انخلا سے افغانستان میں حالات خراب ہوئے تو پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں آئیگا ،ترجمان پاک فوج

ڈیورنڈ لائن اب ڈیڈ ایشو ہے ، امریکی انخلا سے افغانستان میں حالات خراب ہوئے تو ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہاہے افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد حالات خراب ہوئے تو پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں آئے گا ، ڈیورنڈ لائن اب مرد ہ ایشو ہے۔جیو نیوز کے پروگرام ’’کیپٹل ٹاک‘‘ میں حامد میر کیساتھ انٹرویو میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد اگر حالات خراب ہوئے تو آہنی باڑ کے باعث پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں آئے گا۔ پاک افغان سرحد پر آہنی باڑ لگانے کا عمل رواں برس کے اختتام تک مکمل ہوجائے گا۔ آہنی باڑ دہشت گردی کے الزامات ختم کردے گی اور دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موقع پر میڈیاسے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا افغانستا ن میں امن قائم ہوتا ہے تو پاکستان کیلئے فائدہ ہے اور ہماری خواہش ہے افغانسان میں امن کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ جب ہمسایہ ملک عدم استحکام کا شکار ہو تو اس کا اثر ضرور پڑتا ہے افغان طالبان سیاسی عمل کا حصہ بن کر حکومت میںآئیں تو استحکام آئے گا اس طرح داعش اور تحریک طالبان پاکستان کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے، جہاں جہاں باڑ لگ چکی وہاں سے دہشت گردوں کا گزرنا ناممکن ہوگیا ہے بارڈر فینسینگ نہ ہونے ہونے کی وجہ سے دہشت گرد حملہ آور ہوتے تھے اور آرمی چیف کا خیال تھا ہمیں بارڈر محفوظ بنانا چاہیے اب باڑ لگانے سے سرحد سے حملوں کا سلسلہ رک گیا ہے، فاٹا کے ضم ہونے سے ہمیں خوشی ہوئی ہے کیونکہ جو علاقہ 70 برس سے علاقہ غیر کہلاتا تھا اب پاکستان کا حصہ ہے اس انضمام سے فاٹا کے لوگوں کو مساوی حقوق ملیں گے مقامی لوگ تمام انتظامات سے بہت مطمئن ہیں اور ہماری خواہش ہے مقامی انتظامیہ مضبوط ہو اور پولیس کا نظام جیسے بہتر ہوگا تو حالات مزید بہتر ہوں گے جبکہ چیک پوسٹس مقامی انتظامیہ کے حوالے کردی گئی ہیں اورشمالی وزیرستان میں جتنی پابندیاں تھی وہ ختم ہوگئی ہیں۔ ہم نے امن کے لئے 20 برس جنگ لڑی اب پاکستان میں مجموعی طور پر امن قائم ہوچکا ہے انضمام شدہ علاقے میں برسہا برس جنگ رہی ہے لہذا مسائل کو حل کرناترجیح ہے ریاستی ادارہ ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری ہے کہ مسائل کا مداوا کریں یہاں کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کا حل نہ ہوان لوگوں کے مسائل کا حل ملک کے باہر نہیں بلکہ اندر ہی تلاش کرنا ہے اورلوگوں کا خیال رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ افغان طالبان سیاسی عمل کا حصہ بن کر حکومت میں آئیں تو استحکام آئے گا اس طرح داعش اور تحریک طالبان پاکستان کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جہاں جہاں باڑ لگ چکی وہاں سے دہشت گردوں کا گزرنا ناممکن ہوگیا ہے اب بارڈر کو کراس کرنامشکل ہوگیا ہے،بارڈر سینسینگ نہ ہونے ہونے کی وجہ سے دہشت گرد حملہ آور ہوتے تھے اور آرمی چیف کا خیال تھا کہ ہمیں بارڈر محفوظ بنانا چاہیے اب باڑ لگانے سے سرحد سے حملوں کا سلسلہ رک گیا ہے۔فاٹا کے ضم ہونے سے ہمیں خوشی ہوئی ہے کیونکہ جو علاقہ 70 برس سے علاقہ غیر کہلاتا تھا اب پاکستان کا حصہ ہے ا س انضمام سے فاٹا کے لوگوں کو مساوی حقوق ملیں گے،مقامی لوگ تمام انتظامات سے بہت مطمئن ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ مقامی انتظامیہ مضبوط ہو اور پولیس کا نظام جیسے بہتر ہوگا تو حالات مزید بہتر ہوں گے جبکہ چیک پوسٹ مقامی انتظامیہ کے حوالے کردی گئی ہیں اورشمالی وزیرستان میں جتنی پابندیاں تھی وہ ختم ہوگئی ہیں۔دریں اثناشمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کیخلاف جاری آپریشنز کے بعد میڈیا نے پہلی بار براہ راست وہاں کے عوام سے ملاقات کی ہے۔ملکی اور غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ میرانشاہ اور غلام خان بارڈر ٹرمینل کا دورہ کیا۔ صحافیوں نے کمانڈر پشاور کور اور جی او سی شمالی وزیرستان سے ملاقات بھی کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں آپریشنز کے بعد میڈیا نے پہلی بار عوام سے براہ راست ملاقات کی۔ عوام نے میڈیا نمائندوں کو اپنے درمیان پا کر خوشی کا اظہار کیا۔ صحافیوں نے میران شاہ بازار میں عوام کیساتھ امن کی بہتر صورتحال اور درپیش انتظامی مسائل پر گفتگو کی۔عوام کی جانب سے پاک فوج کی بحالی امن اور تعمیرو ترقی کے اقدامات کو سراہا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کیساتھ لوگوں نے سیلفیاں بھی بنوائیں۔ میڈیا نمائندوں نے بارڈر پر خاردار تار لگانے کے مشکل کام کو سراہا۔

مزید : صفحہ اول