احتساب نہیں انتقام لیا جارہا ہے ،ثاقب نثار کے فیصلوں نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ،مقررین

احتساب نہیں انتقام لیا جارہا ہے ،ثاقب نثار کے فیصلوں نے جمہوریت کو نقصان ...

لاہور( این این آئی) تحریک انصاف حکومت میں آنے کے باوجود ابھی تک کنٹینر سے نہیں اتری ،احتساب نہیں انتقام لیا جارہا ہے ،پی ٹی آئی ڈرائی کلین کی دکان اور عمران خان اس کا مالک ہے،حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں ، ججز کی تقرری تحریری ٹیسٹ سے ہونی چاہیے،سب اداروں کو اپنا اپنا کام کرنا چاہیے ،جسٹس منیر کے فیصلوں نے ملک توڑا اور جسٹس ثاقب نثار کے فیصلوں نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا،یہاں سلیکٹڈ نہیں الیکٹڈ وزیراعظم کی ضرورت ہے،صوبوں کے حقوق چھینے گئے تو اس کا انجام برا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے عوامی نیشنل پارٹی پنجاب کے زیر اہتمام باچا خان اور خان عبدالولی خان کی برسی کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سیمینار میں مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنما وسابق سپیکر سردار ایاز صادق ، عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین ،احسان وائیں،اے این پی پنجاب کے رہنما امیر بہادر خان ہوتی، منظور احمد خان ، پیپلز پارٹی کے رہنما بیرسٹر عامر حسن سمیت دیگر نے شرکت کی۔سردار ایاز صادق نے کہا اب جو ہوگیا سو گیا ہم جمہوری سوچ رکھنے والے لوگ ہیں۔2014 میں دھرنا دیا گیا ،جعلی اسمبلی ،جعلی سپیکر اورجھوٹا سپیکر کی بات کی گئی ،غلیظ گفتگو کی جاتی رہی لیکن 8ماہ کی تنخواہیں بھی وصول کی گئیں۔ اپوزیشن کی جانب سے منی بجٹ تقریر کے دوران کچھ نعرے لگائے گئے لیکن حکومت نے بحث کی بجائے اجلاس ہی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا ۔ ہمیں پیغام آیا نیازی صاحب بہت غصہ میں ہیں کہتے میں اجلاس نہیں چلنے دوں گا۔پی ٹی آئی حکومت میں آنے کے باوجود ابھی تک کنٹینر سے نہیں اتری ،وزرا ء طیش دلاتے ہیں کہ انہیں اسی زبان میں جواب دیا جائے۔ حکومت آزادی صحافت کا گلہ دبانا چاہتی ہے ،میڈیا ریگولیٹری کابل پاس نہیں ہونے دیں گے۔ افتخار حسین نے کہا باچاخان کی سوچ اور فکر ملک کیلئے تھی،باچا خان نے لڑکیوں کی تعلیم کیلئے آواز بلند کی ،وہ امن کی بات کرنا چاہتے تھے جو بہت ساری قوتوں کو منظور نہیں تھا۔باچا خان نے 100سے زائد سکول بنائے،باچا خان نے عوام میں سوچ کو بیدار کرنے کے لئے تعلیم کیلئے کام کیا ،عدم تشدد کی بات کی۔ ہم سر کٹوادیں گے لیکن سر نہیں جھکائیں گے ۔ نیشنل ایکشن پلان اور 20نکاتی ایجنڈے کی بات کی جاتی ہے لیکن کالعدم تنظیموں پر پابندی نہیں لگائی جاتی،باچا خان نے نظر بندی اور قید میں 38سال جیل کاٹی اورولی خان اسی سوچ کو آگے لائے۔احسان وائیں نے کہا کہ باچا خان انسانی حقوق کی بات کرتے تھے ،وہ کہتے تھے کہ ہم غلامی سے نکلیں گے ،باچا جان نے کہا کہ میں لوگوں کو حقوق دینا چاہتا ہوں اور مجھے غدار کہا جارہا ہے۔مجھے فخر ہے کہ میں نے ولی عبدالولی اور باچاباچا خان کے ساتھ وقت گزارا۔سیمینار سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔

مقررین

مزید : صفحہ آخر