سندھ ہائی کورٹ نے ماتحت عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا

سندھ ہائی کورٹ نے ماتحت عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا

کراچی (اسٹاف رپورٹر) قتل کے مقدمے میں سندھ ہائی کورٹ کے جناب جسٹس آفتاب احمد گورر اورجناب جسٹس امجد علی سہتو پر مشتمل ڈبل بنچ نے مقدمہ قتل میں ماتحت عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا اور مدعی مقدمہ چوہدری اعجاز احمد کی اپیل 444/2016مسترد کردی۔ تفصیلات کے مطابق 21/09/2015کو تھانہ اسٹیل ٹاؤن میں 26سالہ ارسلان اعجاز کے قتل کا مقدمہ نمبر 246/2015میں نامزد ملزمان جن میں راجہ محمد اکرام، راجہ نثار احمد، عمارہ ملک اور معظم نثار شامل تھے جن میں سے ملزمان راجہ نثار احمد ، عمارہ ملک اور معظم نثار مورخہ 28/10/2016کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر کی عدالت سے عدم ثبوت کی بناء پر باعزت طور پر بری ہوگئے تھے استغاثہ جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف مدعی مقدمہ چوہدری اعجاز احمد نے سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائرکی تھی جو کہ ہائی کورٹ کے ڈبل بنچ جناب جسٹس آفتاب احمدگوررجناب جسٹس امجد علی سہتو کی عدالت میں سماعت کے بعد معزز عدالت نے اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ماتحت عدالت کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے فیصلے کو برقرار رکھا اور اپیل خارج کردی۔ واضح رہے کہ مذکورہ مقدمے کا مفرور ملزم راجا محمد اکرام نے مورخہ 07/11/2018کو مقامی عدالت میں ازخود گرفتاری پیش کردی جس کا مقدمہ فرسٹ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں دائر اپیل میں نامزد ملزمان کی جانب سے مقدمے کی پیروی سائبان لیگل ایڈ کمیٹی کے قانونی مشیر ممتاز قانون داں بیرسٹر عامر جمیل نے کی اور مدعی مقدمہ کے وکیل کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا بھرپور جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان پر جو الزامات لگائے گئے ہیں اُس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ماتحت عدالت میں بھی استغاثہ جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا جس کی وجہ سے مذکورہ تینوں ملزمان راجہ نثار احمد، عمارہ ملک اور معظم نثار باعزت طور پر بری ہوگئے تھے اور سندھ ہائی کورٹ نے بھی مدعی مقدمہ چوہدری اعجاز کی اپیل خارج کرکے ماتحت عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر