وفاق بجلی کی مد میں صوبے کو بقایا جات فوری اداکرے ، امیرحیدر ہوتی

وفاق بجلی کی مد میں صوبے کو بقایا جات فوری اداکرے ، امیرحیدر ہوتی

  

صوابی(بیورو رپورٹ)اے این پی کے صوبائی صدر و سابق وزیر اعلی امیر حیدر خان ہو تی ایم این اے نے وفاق سے فاٹا کو قومی دھارے میں لانے پر وہاں قانونی و آئینی اصلاحات ، تعمیر و ترقی اور نئے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے فوری طور پر ایک سو ارب روپے کی فراہمی کا مطالبہ کر تے ہوئے واضح کیا ہے کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے بعد اب تک نہ وہاں نیا قانون بن سکا نہ ہی ان علاقوں میں نئی یونیورسٹیاں، کالجز ، ہسپتالیں اور دیگر منصوبے شروع کئے جا سکے اور اب تک وہاں وہی پرانا کالا قانون چل رہا ہے لہٰذا اس خلاء کو ختم کرنے کے لئے جلد از جلد عملداری شروع کی جائے ان خیالات کااظہار انہوں نے دارالعلوم مظہر العلوم ڈاگئی میں بزرگ عالم دین مولانا حمد اللہ جان باباجی اور صوابی میں اے این پی کے کارکنوں کی وفات پر فاتحہ خوانی کے بعد کارکنوں سے غیر رسمی گفتگو کر تے ہوئے کیا ۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وفاق بجلی کے مد میں خیبر پختونخوا کی بقایہ رقم بھی جلد از جلد ادا کرنے کو یقینی بنایا جائے تاکہ دہشت گردی سے متاثرہ اور پسماندہ صوبہ آباد و خوشحال ہو سکے انہوں نے کہا کہ عوام کے مسئلوں کا حل ناجائز ٹیکسز اور بد ترین مہنگائی ، دو مرغی اور آٹھ مرغیوں پر نہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت اب تک تین منی بجٹ پیش کرنے میں گیس ، بجلی، پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ ٹیکسز میں بھی اضافہ کر دیا انہوں نے کہا کہ اگر شفاف الیکشن ہو تی تو آج اے این پی ایک بار پھر اقتدار میں ہو تی لیکن جعلی مینڈیٹ کے ذریعے مرکز اور صوبے میں پی ٹی آئی کو مسلط کر دیا گیا انہوں نے واضح کیا کہ یہ ہمارا گھر ''صوبہ''ہے اور گھر کی حفاظت کرائے دار کی نہیں بلکہ مالک کی ذمہ داری ہے ۔ پی ٹی آئی کو جس نے بھی لایا ہے لیکن خیبر پختونخوا کے حقوق دینی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں جب اپوزیشن جماعتیں آپس میں بیٹھ گئی تو فوری طور پر حکومتی بیان آیا کہ سارے چور اقتدار کے لئے اکٹھے ہو گئے لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ آج عمران کی کابینہ میں سب چور، ڈاکو ، دہشت گرد اور چپڑاسی شامل ہیں اور یہ الفاظ عمران خان نے اقتدار سے قبل استعمال کئے تھے میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں انہوں نے واضح کر دیا کہ اگر طالبان، امریکہ اور پاکستان کے مذاکرات میں افغان حکومت اور وہاں کی قیادت شامل نہ کی گئی تو اس کے نتائج خطر ناک ہو نگے اور ایک بار پھر افغانستان میں روس کے نکلنے کے بعد خانہ جنگی کے جو حالات پیش آئے تھے وہ دوبارہ پیش ہونگے کیونکہ ہم اس مرحلے سے گزر چکے ہیں حکومتی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ماضی میں افغانستان میں لگی آگ قبائل اور خیبر پختونخوا تک پھیل گئی اور در اصل پاکستان ایک بار نہیں دو بار آزاد ہوا ایک بار 1947میں باچا خان بابا اور ان کے خدائی خدمتگار ساتھیوں نے انگریز کو بھگا کر آزاد کیا تھا اور دوسری بار ہماری حکومت نے اپنے دور میں دہشت گردی سے آزاد کیا تھا انہوں نے کہا کہ نئے تحصیلوں کے قیام کے لئے بیس کروڑ روپے دیئے ہیں جب کہ ہماری حکومت نے انگریز کی کھینچی ہوئی لکیر کو ختم کرنے کے لئے نئے اضلاع کے قیام کے لئے چار ارب روپے دیئے تھے انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا اور ولی خان بابا نے جو باتیں کی تھی اگر اس پر عملدر آمد ہو سکتا تو 1970میں ہم اپنا نصف ملک نہ ہار جاتے افغانستان پر روس کے یلغار کے بارے میں بھی بابا اور ولی خان بابا نے اس وقت بتایا کہ یہ امریکہ اور روس کے مفادات کی جنگ ہیں اگر ان کی یہ بات مان لی جاتی تو روس کے نکلنے کے بعد افغانستان میں تیس سال سے بے گناہ پختونوں کا خون نہ بہایا جارہا ہو تا ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے حکمران ماضی کی غلطیاں آج بھی دہرا رہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہو گیا تھا اور اس کے علاوہ افغانستان اور پاکستان کے بے گناہ پختونوں کا خون بہہ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے آٹھارویں ترمیم کے باوجود صوبوں کو ان کے وسائل منتقل نہیں کی جب کہ چھوٹے صوبوں کے خلاف حکومت سازش کر رہی ہے پختون قوم پر جو ظلم ہو رہا ہے وہ بر صغیر کے کسی قوم پر نہیں ہو ا تھا ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -