ناقص پالیسیوں سے افغانستان کیساتھ تجارت انتہائی خراب ہوگئی ، زاہداللہ شنواری

ناقص پالیسیوں سے افغانستان کیساتھ تجارت انتہائی خراب ہوگئی ، زاہداللہ ...

خیبر (عمران شنواری ) قبائلی علاقے کھبی بھی ٹیکس فری زون نہیں تھے قبائلی علاقوں میں لانے پر تمام اشیاء پر ٹیکس وصول کیا جاتا تھا اگر ٹیکس فری ہو تے تو پھر قبائلی علاقوں کا رخانے صنعتیں کیوں نہیں لگائے گئے اور نہ کاروبا ر بندوبستی علاقوں منتقل نہیں ہو تاحکومت کی غلط پالیسوں کی وجہ سے افغانستان کے ساتھ تجا رت انتہائی خراب ہو گئی ہیں حکومت کے ساتھ تجا رت بڑھانے کیلئے کوئی منصوبہ نہیں ہیں اور سنجیدہ ہیں ان خیالات کا اظہار خیبر پختو نخوا ہ چیمبر آف کامرس کے سابق صدر زاہداللہ شینواری نے لنڈیکوتل پریس کلب میں میٹ دی پر یس سے خطاب کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ 2010میں امریکی ڈکٹیشن پرجو ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ ہوا اس سے بہت بڑا نقصان ہوا اس وقت بھی انہوں نے انکی مخالفت کی تھی اور حکومت کو بار بار آگاہ بھی کیا لیکن کچھ نہیں کیا گیا کیونکہ معاہدہ تیار ہونے کے وقت اس میں نہ کوئی تاجر اور نہ چیمبر سے کوئی موجود تھا اس معاہدے سے افغانستان کے ساتھ عمومی تجارت کو بہت بڑا نقصان ہوا زاہد شینواری نے کہا کہ پاسپورٹ ویزہ شر ط لاگو ہونے سے بھی بہت نقصان ہوا کیونکہ پہلے تاجر آسانی سے پاکستان آتے تھے لیکن اسکے بعد مخالف افغان تاجروں نے دوسرے راستوں اور ملکوں سے تجا رت شروع کیا انہوں نے کہا کہ پاکستان کا فری ٹریڈ چائینہ اور ملایشاء کے ساتھ ہیں اور اب ترکی کے ساتھ بھی کیا جا رہا ہیں لیکن بد قسمتی افغانستان اس میں شامل نہیں ہیں بلکہ افغانستا ن کے ساتھ تجارت کو فروغ دینا چاہئے اور اس میں آسانی پیدا کرنا چاہئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کیلئے حکومت سنجیدہ نہیں ہیں اور نہ اس سلسلے میں کوئی مذکرات ہو رہیں مذاکرات میں ڈیڈ لاک ہیں مذاکرات شروع کرنا چاہئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کی طرف سے مشکلات ہیں انکے شرائط سخت ہیں وہ ہندوستان کو پاکستان کے راستے رسائی دی جائے جبکہ پاکستان سری لنکا اور نیپال ہندوستان کے راستے رسائی دینا چاہتے ہیں جو ہندوستان نہیں مانتے انہوں نے کہا کہ افغانستان کو پاکستان سے ایکسوپورٹ زیا دہ اور امپورٹ کم تھا جس فائدہ ہو رہا تھا جبکہ سنٹرل اشیاء تک بھی بہت زیا دہ مشکلات ہیں افغانستان میں ٹریڈ میکرز اور ایمبسی کا کوئی کردار نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر طورخم پر انٹرنیشنل بارڈر کی طرح سہولیا ت نہیں ہیں وی باک سے فائد ہ ہیں لیکن اس کے ساتھ جو سہولیات ہیں وہ دئیے جائیں زاہد شینواری نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت خراب ہونے سے سب سے زیا دہ نقصان قبائلی علاقوں کے عوام ہوا ہیں اس وقت پورے ملک میں سب سے زیا دہ غربت اور بے روز گاری قبائلی علاقوں میں ہیں جب تک افغانستان کے ساتھ تجارت اچھی نہیں ہو تے اس وقت تک بے روزگا ری اور غربت میں کمی نہیں آسکتے کیونکہ قبائلی علاقوں میں روزگار کے دوسرے مواقع نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ اب قبائلی علاقوں میں امن اومان قائم ہو گیا ہیں لیکن اس تجارت اور روزگا رکیلئے کوئی فائدہ نہیں ہوا امن اومان سے فا ئد ہ اٹھانا چاہئے لیکن حکومت اس سے فائدہ نہیں اٹھا تے انہوں نے کہا کہ طورخم بارڈر کے علاوہ خر الچی اور غلام خان بارڈر کے مسائل ختم کرنے کیلئے کسی قسم کے اقدامات نہیں کئے وہا ں پر تا جروں کیلئے بہت مشکلات ہیں انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت کا حجم اب تقریبا ایک ارب ڈالر ہیں ہیں جو بہت کم ہیں اور اس کا بنیادی وجہ سخت پالیسی ہیں زاہد شینوری نے کہا کہ قانون میں ایکزامینشن پان فیصد یا دس فیصد ہیں لیکن طورخم میں سوفیصد ایکزامینشن ہو رہی ہیں ان تمام مشکلات اور غلط پالیسوں کی وجہ سے بازار ،مارکیٹس ،ہوٹلز ،ہسپتالزاور دوسرے کا ربار پر اثر پڑا ہیں انہوں نے کہا کہ کلیئر نس زیر وپوائنٹ پر ہونا چاہئے لیکن طورخم میں سہولیات کی عدم دستیابی اور مشکلات سے جمرود میں بعض اشیاء کی کلیئرنس ہو رہی ہیں زاہد شنواری نے کہاکہ طورخم بارڈر پر اسمگلنگ ہو رہی ہیں پاکستان کے دوسرے بارڈر کے دس فیصد برابرب بھی نہیں ہیں دوسرے بارڈر پر طورخم سے زیا دہ اسمگلنگ ہو رہی ہیں آخر میں انہوں نے کہا کہ طورخم کسٹم پر ودہولڈنگ ٹیکس وصول کرنا غیر قانونی اور ناجائز ہیں اگر وصول کیا جائے تو کورٹ میں رٹ کیا جائے سی پیک کے حوالے سے قبائلی اضلاع کیلئے جو نئے پالیسی بنائے اس سے فائدہ ہو گا

مزید : کراچی صفحہ اول