پاکستان میں تشدد کو   قبولیت کےرجحان نے کمزور طبقات کے لیے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے: لالا حسن

پاکستان میں تشدد کو   قبولیت کےرجحان نے کمزور طبقات کے لیے خطرات کو مزید ...
پاکستان میں تشدد کو   قبولیت کےرجحان نے کمزور طبقات کے لیے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے: لالا حسن

  


عمرکوٹ (سید ریحان شبیر)پاکستان میں تشدد کو   قبولیت کےرجحان نے کمزور طبقات کے لیے خطرات کو مزید بڑھا دیا ،ایسی صورتحال میں ان کے لیے صحافی اہم کردار ادا کرسکتا ہے ان خیالات کا اظہار لیگل رائیٹس فورم کے تحت پریس کلب میں ہونے والے مذاکرے کے شرکا نے کیا ۔ شرکا کا کہنا تھا کہ آگاہی  نہ ہونے کے باعث لوگ خواتین اور بچوں پر ہونے والے تشدد کو درست سمجھتے ہیں جو کہ خطرناک رجحان ہے ان کا کہنا تھا کہ میڈیا لوگوں میں اس حوالے سے شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔

سینیئر صحافی لالا حسن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں روزانہ پانچ خواتین کو قتل کر دیا جاتا  جبکہ بچوں  مذھبی اقلیتوں ٹرانسجینڈر اور معذور افراد کو بھی تشدد اور نظر انداز کیا جاتا ہے شرکا کو بتایا گیا کہ کسی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو میڈیا اور سماجی اور سرکاری اداروں کو ان کے دیے گیے مددگار نمبرز پر آگاہ کیا جانا چاہیے  سب کو اپنی معاشرتی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے صحافیوں کولیکچر دیتے     ہوئے سینئر صحافی لالہ حسن  کا کہنا تھا کہ محکوم طبقات کے حوالے سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اس حوالے سے گاؤں گوٹھوں میں لوگوں میں بیداری شعور پیدا کرنےکے لیے آگاہی مہم    کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر ممتاز آریسر گل منیر ولہاری سید ریحان شبیر ،ناہید حسین خٹک بھگوان داس عمرسومرو  و دیگر نے کہا کہ میڈیا کو غریبوں کی آواز بننا چاہیے اور ایک اچھے صحافی کو اپنے قلم سے معاشرے کے مظلوم طبقے خصوصاً دیہاتوں میں مظلوم خواتین کی مدد کےلیے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔

مزید : علاقائی /سندھ /عمرکوٹ