مشرق وسطیٰ اوباما کی پالیسیوں سے 20 سال پیچھے چلا گیا: شہزادہ بندربن سلطان

مشرق وسطیٰ اوباما کی پالیسیوں سے 20 سال پیچھے چلا گیا: شہزادہ بندربن سلطان
مشرق وسطیٰ اوباما کی پالیسیوں سے 20 سال پیچھے چلا گیا: شہزادہ بندربن سلطان

  

ریاض (آن لائن) سعودی عرب کے واشنگٹن میں سابق سفیر اور ماضی میں اہم عہدوں پر فائز رہنے والے شہزادہ بندربن سلطان نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کی اختیار کردہ پالیسیوں کو مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ خطے کو ان پالیسیوں سے 20 سال پیچھے لے گئے تھے۔ ان ہی سے شام میں جاری بحران کی راہ ہموار ہوئی اور سعودی عرب نے امریکی رجیم کے بارے میں عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

عرب ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر شاہ ایران صدام حسین کو خمینی کو عراق سے بے دخل کرنے پر مجبور نہ کرتے تو آج خطے کی تاریخ مختلف ہوتی۔ آیت اللہ خمینی تب عراق میں ایک گھر میں نظر بند تھے اور انہیں بے دخل کرکے فرانس بھیج دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قطر کو اپنی ہی پالیسیوں کی وجہ سے انشقاق ذہنی (شیزوفرینیا) کا مرض لاحق ہوچکا ہے مگر امریکہ کے ایک فوجی اڈے کی موجودگی کا مطلب دوحہ میں ںظام کا تحفظ کرناہرگز بھی نہیں ہے کیونکہ یہ اڈا صرف امریکیوں کے زیر استعمال ہے اور قطر کے استعمال کے لئے نہیں ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں ہی نے برطانوی حکومت سے بشارالاسد کی لندن میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بات چیت کی تھی تاکہ وہ طب میں گریجوایشن کے بعد لندن میں شعبہ بصارت (آفتھلمالوجی) کے خصوصی کورس میں داخلہ لے سکیں۔

مزید :

عرب دنیا -