اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 121

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 121

  

جس وقت میں دہلی پہنچا اس وقت تک عراق، ترکستان، ماوراء النہر، خراسان، فارس، روم اور شام کے ملکوں سے کتنے ہی علماء اور شہزادے چنگیز خان کی ہلاکت خیزیوں سے تنگ آکر دہلی میں پناہ گزین ہوگئے تھے اور یہ سب شہزادے اور علماء غیاث الدین بلبن کے درباری امراء میں شامل تھے اور بڑی عزت و تکریم کے مالک تھے۔ ان غریب الدیار شہزادوں میں سے دو بنی عباس کی نسل سے تھے۔ یہ دونوں تخت شاہی کے قریب بیٹھے تھے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب کوئی شہزادی یا مسلمان حکمران کسی مصیبت کی وجہ سے اپنے وطن سے نکل کر بلبن کے دامن میں پناہ لیتا تو بلبن خدا کی درگاہ میں سجدہ شکر بجالاتا۔ بلبن کا یہ قاعدہ تھا کہ وہ اپنے مہمانوں کے لئے علیحدہ علیحدہ محلے آباد کرتا۔ اس طرح سے دہلی میں اس زانے میں پندرہ محلے ان عالی نسبت مہمانوں کے نام سے آباد ہوگئے تھے۔ ان محلوں کے نام آج بھی مجھے یاد ہیں۔ آپ کی دلچسپی کے لئے میں ان کے نام یہاں لکھے دیتا ہوں۔ محلہ عباسی، محلہ سنجری، محلہ خوارزم شاہی، محلہ ویلمی، محلہ علوی، محلہ اتایکی، محلہ غوری، محلہ چنگیزی، محلہ رومی، محلہ سنقری، محلہ یمنی، محلہ موصلی، محلہ سمرقندی، محلہ کاشغری اور محلہ خطائی۔ غیاث الدین بلبن ایک باشعور، زیرک اور صاحب وقار حکمران تھا۔ اس کے ہر حکم میں عقل مندی اور سنجیدگی ملتی تھی۔ وہ ہمیشہ سلطنت کے امور اور اہم اور قابل افراد کی سپرد کرتا تھا۔ نااہل افراد کا اس کے دربار میں گزرنہیں تھا۔ اسے جب تک لوگوں کی قابلیت ایمانداری، معقولیت، پرہیز گاری اور پختہ کاری کا تجربہ نہ ہوجاتا تھا وہ اس وقت تک کوئی اہم کام ان کے سپرد نہیں کرتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ اسے عمال کی اعلیٰ خاندانی اور شرافت نسبی کا بھی بہت خیال رہتا تھا۔ اس کے مقرر کردہ عمال اور صوبے داروں میں پست طبیعت لوگوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں تھی۔ وہ لہو و لعب سے پاک تھا اور اس قسم کے لوگوں کا اس کے دربار تک پہنچنا ناممکن تھا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 120 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس زمانے کے دہلی شہر میں بادشاہ کا ایک واقعہ جب وہاں پہنچا بڑ اتازہ تازہ تھا اور اکثر کارواں سراؤں اور داستان سراؤں میں لوگ اس کا تذکرہ کرتے رہتے تھے۔ یہ واقعہ یوں ہے کہ دلی کا ایک رئیس تھا جس کی دولت کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ اس کا نام فخروبائی تھا۔ اس نے ایک عرصے تک بلبن کی خدمت کی تھی۔ بلبن نے اپنی عادت کے مطابق فخروبائیسے کبھی بات چیت نہیں کی تھی۔ ایک بار فخرو نے درباریوں کے توسط سے بادشاہ کی خدمت میں یہ معروضہ پیش کیا کہ اگر بادشاہ اس سے گفتگو کرے تو فخر وا سکے معاوضے میں دولت اور جنس کی ایک بڑی مقدار نذرانے کے طور پر بادشاہ کی خدمت میں پیش کرے گا۔ جب درباریوں نے فخرو کا یہ معروضہ بلبن کی خدمت میں پیش کیا تو اس نے جواب دیا

’’فخرو اگرچہ بڑا دولت مند اور بڑا رئیس ہے لیکن وہ ایک نامعتبر شخص ہے اور نامعتبروں ہی کا سردار ہے۔ ایسے شخص سے بادشاہ کا بات چیت کرنا اس کے رعب اور وقار کے منافی ہے اور رعایا کے دلوں میں بادشاہ کا سچا احترام باقی نہیں رہتا۔‘‘

غیاث الدین بلبن کے بارے میں یہ ساری باتیں اور حقائق دہلی پہنچنے پر میں نے لوگوں کی زبانی سنے ابھی تک میرا بلبن کے دربار سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ میرے دل میں ایسا کوئی خیال ہی تھا کہ میرا رابطہ دربار سے قائم ہو۔ میں تو تاریخ، تہذیب عالم کے ایک آفاقی سیاح کی حیثیت سے دہلی میں وارد ہوا تھا اور اس تاریخی شہر کی سیر کے بعد کسی دوسرے ملک کو نکل جانا چاہتا تھا لیکن ایک واقعہ ہوگیا جس نے مجھے بلبن کے دربار سے وابستہ کردیا۔

دہلی کی جس سرائے میں مَیں مقیم تھا اس کے مالک کا نام بابک کاشغری تھا یہ ایک بھاری نن و توش کا ادھیڑ عمر آدمی تھا۔ اس کی زندگی کے تیس برس دلی شہر میں گزرے تھے۔۔۔ اور اس نے سلطان التمش کا عہد حکومت بھی دیکھا تھا، وہ میر ادوست بن گیا اور اکثر مجھے بادشاہوں کے قصے کہانیاں سنایا کرتا تھا۔ کبھی کبھی وہ مجھے ساتھ لے کر دلی کے قریب و جوار میں شکار کو بھی نکل جاتا۔ اسے ہرن کے شکار کا بڑا شوق تھا۔ اس کا نشانہ بڑا اچھا تھا۔ دور سے اپنے شکار پر ایسا تیر چلاتا تھا کہ شکار وہیں ڈھیر ہوجاتا۔(جاری ہے )

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 122 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار