اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 85

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 85
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 85

  

ایک دفعہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ بیمار ہوگئے اور لکڑی کے سہارے چلنا شروع کردیا۔ پھر اچانک اپنے ہاتھ سے لکڑی پھینک دی۔

مریدوں نے وجہ پوچھی، تو آپؒ نے فرمایا ’’میرے دل میں خیال آیا کہ میرا چلنا اس لکڑی کے بھروسہ پر ہے۔ اس لیے مَیں نے اس کو پھینک دیا۔ انسان کا بھروسہ صرف اللہ ہی پر ہونا چاہیے۔‘‘

***

ایک دفعہ حضرت خواجہ بختیار کاکیؒ اپنے رشتہ داروں او رمریدوں کے ہمراہ عید کی نماز پڑھ کر آرہے تھے۔ جب اس مقام پر پہنچے جہاں اب حضرت کا مزار ہے تو وہاں کھڑے ہوگئے اور کچھ دیر تک چپ چاپ کھڑے رہے۔ رشتہ داروں نے عرض کی ’’آج عید کا دن ہے۔ بہت سے لوگ مکان پر حضور سے ملنے اور کھانا کھانے کے منتظر ہوں گے۔‘‘

حضور یہ سن کر عالم استغراق سے باہر آئے اور فرمایا ’’مجھے اس زمین سے اہل کمال کی بو آرہی ہے۔‘‘

اتنا کہنے کے بعد آپ نے اپنے مکان پر آئے اور کھانے کے بعد حکم دیا ’’جس زمین پر میں کھڑا ہوا تھا اس زمین کے مالک کو میرے پاس بلا لاؤ۔‘‘

چنانچہ جب اس زمین کا مالک آپ کے سامنے حاضر ہوا تو آپ نے وہ زمین اس سے خرید لی اور وفات کے بعد آپ کو اسی زمین میں دفن کیا گیا۔

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 84 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

*** 

حضرت غوث الاعظمؒ کے دور میں ایک شخص نے قسم کھائی تھی کہ اگر مَیں ہفتہ بھر تک ایسی عبادت نہ کروں جو اس ہفتہ میں دنیا کے کسی مسلمان نے نہ کی ہو تو میری بیوی کو تین طلاق۔

عراق کے تمام علماء اس عجیب سوال کے جواب میں حیران تھے اور ان کو کوئی ایسی عبادت معلوم نہ ہوتی تھی جو کسی نہ کسی وقت میں مسلمانان عالم کے زیر عمل نہ رہی ہو۔

جب حضرت غوث الاعظمؒ کو حال معلوم ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا ’’اس شخص کے لیے حرم کعبہ میں انتظام کرو کہ کوئی مسلمان کعبہ کا طواف نہ کرنے پائے اور پھر اس سے کہو کہ تنہا رات دن طواف کرتا رہے۔ اس کی عبادت مخصوص ہوجائے گی اور دنیا میں کوئی مسلمان اس کا شریک عبادت نہ ملے گا۔ اس عمل سے اس کی بیوی طلاق سے محفوظ ہوجائے گی۔‘‘

***

جنگ آزادی 1857ء کے دور کا یہ واقعہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ سے متعلق ہے۔ میاں امیر احمد رامپوری بار بار حاجی عماد اللہ سے دریافت کرتے تھے کہ یا حضرت! میں ہندوستان جاؤں‘‘

حضرت فرماتے تھے ’’ہاں جاؤ۔‘‘ مگر امیر احمد کو اپنے اوپر مقدمات کے دائر ہونے کا خطرہ تھا۔ وہ دور ایسا ہی تھا اور امیر احمد سرکار انگلشیہ ہند کو مطلوب بھی تھا۔ اس واسطے شبہ ہوتا تھا کہ ضرور گرفتار اور سزا یاب ہوں گا۔ اس واسطے باوجود حضرت کے فرمادینے کے امیر احمد کو اطمینان نہیں ہوتا تھا اور بار بار دریافت کرتے تھے۔ ایک روز حضرت امداد اللہؒ نے ناراض ہوتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا جی گرفتار ہونے کو چاہتا ہے، میاں جاؤ۔‘‘

اس پر میاں امیر احمد ہندوستان آئے اور چند روز دہلی کی ایک مسجد میں رہ کر حاضر عدالت ہوگئے۔ چنانچہ گرفتار کرکے جیل بھیج دئیے گئے اور بالآخر تمام مقدمات سے بری ہوکر اپنے گھر بخیریت پہنچ گئے۔

***

ایک دفعہ سلطان علاؤالدین خلجی نے ایک رقعہ خضر خان کے ہاتھ حضرت نظام الدین اولیاؒ کو ارسال کیا تو آپ نے اسے نہ پڑھا اور حاضرین مجلس سے مخاطب ہوکر کہا کہ آؤ فاتحہ پڑھیں۔ پھر ارشاد فرمایا کہ درویشوں کو بادشاہوں کے کام سے کیا واسطہ؟ میں ایک درویش ہوں اور شہر کے ایک گوشے میں پڑا ہوا ہوں۔ بادشاہ ہوں اور مسلمانوں کے لیے دعاگوئی میں مشغول ہوں۔ اگر پھر بادشاہ اس وجہ سے مجھے کچھ کہے گا۔ تو میں یہاں سے چلا جاؤں گا۔ اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے۔

جب آپ کی یہ باتیں سلطان علاؤالدین کو پہنچیں تو وہ بہت خوش ہوا اور آپ کا معتقد ہوگیا اور اس نے شیخ کی خدمت میں حاضر ہونے کی التماس کی۔شیخ نے فرمایا ’’آپ کے آنے کی ضرورت نہیں، مَیں غائبانہ دعا میں مشغول ہوں اور دعائے غائب بہت اثر رکھتی ہے۔‘‘

***(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 86 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے