پنجاب حکومت کے لئے۔۔۔ایک کمیٹی کی سفارشات

پنجاب حکومت کے لئے۔۔۔ایک کمیٹی کی سفارشات
پنجاب حکومت کے لئے۔۔۔ایک کمیٹی کی سفارشات

  

یادش بخیر میاں شہباز شریف اور میں ایک عرصہ ایک ساتھ رہے ہیں۔ پنجاب کے وزیرعلیٰ کی حیثیت سے ان کا پہلا دور حکومت 1997 سے 1999تک تھا۔ ان برسوں کے دوران میں بھی پنجاب کے گورنر کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ اگست 1999میں مَیں نے استعفیٰ دے دیا تھا اور یوں فوج کی طرف سے 1999 کے آخر میں اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام کے تحت حکومت سے نکال باہر کئے جانے کی شرمندگی سے بچ گیا جس اقدام کازبردست خیرمقدم گمراہ اور مسلم لیگ ن کی منتخب حکومت کے مخالفین نے کیا تھا۔

2۔ وزارت اعلیٰ کے سابقہ دور کے اختتام سے چند ماہ پہلے میاں شہباز شریف نے قانونی اصلاحات کے لئے ایک کمیٹی کی صدارت کے لئے مجھ سے کہا جس نے صوبہ پنجاب میں حکومتی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لئے تجاویز پیش کرنا تھیں۔ ہم مشترکہ طور پر سات ٹرمز آف ریفرنس پر مفق ہوگئے۔ کمیٹی کے سیکرٹری صوبہ پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری تھے جبکہ دیگر ارکان میں سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج، سیکرٹری لا ، پنجاب کے محتسب اعلیٰ، سپریم کورٹ کے ایک ایڈووکیٹ، سیکرٹری پراسیکیوشن، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور چیف منسٹرز سیکرٹریٹ کے دو سینئر افسران شامل تھے۔ کمیٹی نے کام شروع کیا تو میں نے بورڈ آف ریونیو کے سینئر ممبر، فنانس سیکرٹری اور کمشنر لاہور ڈویڑن کو بھی کمیٹی میں شامل کرلیا۔

3۔ کمیٹی نے مارچ 2018 میں وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کو اپنی سفارشات پیش کردیں۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ وزرا کے ایک اجلاس میں ان سفارشات کی توثیق چند معمولی تبدیلیوں کے ساتھ کردی۔ میاں شہباز شریف کا خیال تھا کہ اپنی وزارت اعلیٰ کی مدت ختم ہونے سے پہلے وہ ان سفارشات پر عملدرآمد شروع کرادیں گے لیکن اپنی حکومت اور پنجاب اسمبلی کی ناگزیر تحلیل کے ضمن میں روز بروز بڑھتی ہوئی مصروفیات نے انہیں ان سفارشات پر عملدرآمد کرانے کی مہلت نہ دی۔ کمیٹی رپورٹس اب پنجاب سول سیکرٹریٹ کی الماریوں میں پڑی گردوغبار کی نذر ہورہی ہیں۔ یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے۔ اگرچہ ان سفارشات کا تعلق میاں شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومت سے ہے لیکن اس امید کے ساتھ کہ موجودہ صوبائی حکومت ملک اور عوام کے وسیع تر مفاد میں کسی بھی تعصب سے بالا ترہوکر ان سفارشات کو زیر غور لے آئے، مَیں نے ان سفارشات کو منظر پر لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

4۔ کمیٹی کے اہداف میں سے ایک، فوری انصاف کی فراہمی کے لئے اقدامات تجویز کرنا تھا۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے لئے ججوں کی منظورہ شدہ تعداد ساٹھ (60) ہے۔ یہ تعداد صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 192 کے تحت اگست 2008 میں مقرر کی تھی۔ دارالحکومت اسلام آباد اور تین صوبوں میں مقررہ ججوں کی تعداد 78 رکھی گئی ان میں سے 40 سندھ، 20 خیبرپختونخوا، 11 بلوچستان اور 7 اسلام آباد کے لئے تھے۔ پنجاب کی آبادی بقیہ تین صوبوں اور اسلام آباد سے مجموعی طور پر زیادہ ہے۔ چنانچہ کمیٹی نے سفارش کی کہ پنجاب میں ہائی کورٹ کے ججوں کی تعداد 75 سے 80 کے درمیان ہونی چاہیے۔ آبادی سے قطع نظر کچھ اور عوامل بھی ہیں جو لاہور ہائیکورٹ میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ جن میں زیر التوا 140,000 (ایک لاکھ چالیس ہزار) مقدمات شامل ہیں۔ زیر التوا مقدمات کی تعداد میں گزشتہ چند برسوں میں قابل ذکر کمی نہیں آسکی اور کمی نہ آنے کی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے لئے منظور شدہ ججوں کی آسامیوں میں سے 12 آسامیاں خالی رہیں۔ کمیٹی نے تجویز کیا کہ صوبائی حکومت آئین کے آرٹیکل 175-A کے تحت خالی آسامیوں پر ججوں کی تقرری کے لئے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو درخوات کرے۔ علاوہ ازیں لاہور ہائیکورٹ میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کرکے انہیں 60 سے 75 یا 80کرنے کے لئے استدعا کرے اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو فنڈز کی فراہمی کے انتظامات کرے۔

5۔ کمیٹی کے علم میں لایا گیا کہ پنجاب کی سول اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں 12لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں۔ صوبہ پنجاب میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ججوں، سینئر سول ججوں اور سول ججوں کی منظور شدہ مجموعی تعداد 2364 میں سے عملاً 1770 ججز کام کررہے ہیں۔ یوں 594 آسامیاں خالی ہیں۔ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے درخواست کرے کہ وہ خالی آسامیوں پر ججوں کی تقرری کے لئے جلد از جلد اقدامات کرے۔ یہ اقدام بذات خود کافی نہیں لگے۔ صوبائی حکومت کو اعلان کرنا ہوگا کہ وسائل کی کمی کے باوجود وہ مزید 216 ججوں (367 اضلاع میں فی ضلع 6 جج) کے لئے فنڈز دینے کو تیار ہے تاکہ اضافی عدالتیں تعمیر ہوسکیں۔

6۔ کمیٹی کے کچھ ارکان اعلیٰ عدلیہ اور ماتحت عدلیہ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کی سفارش پر تحفظات رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے خالی آسامیاں پر کرلی جائیں۔

7۔ پنجاب حکومت پہلے سے لاہور ہائیکورٹ کو ایک مسودہ قانون حتمی رائے کے لئے بھیج چکی ہے تاکہ ”تنازعات کے حل کا ایک متبادل نظام Alternate Dispute Resolution System (ADR) قائم کیا جاسکے۔ مجوزہ قانون سہولت مہیا کرتا ہے کہ کسی دیوانی مقدمہ کی سب سے پہلی سماعت (یا پھر عدالتی کارروائی کے دوران بعد کے کسی مرحلہ) پر فریقین کی مرضی سے عدالت زیر سماعت مقدمہ کو متبادل حل کی طرف بھیج سکتی ہے۔ یہ تصفیہ کسی غیر جانبدار فرد کی طرف سے اس کی مرضی سے ثالثی سے، مفاہمت سے یا زر تلافی کے تعین سے ہوگا۔ ایسے غیر جانبدار افراد کا پینل ہر ضلع کے لئے ہائیکورٹ کی مشاورت سے مقرر ہوگا۔ جس میں کم از کم سات سال کا فعال تجربہ رکھنے والے وکلا، ماتحت عدالتوں کے ریٹائرڈ یا حاضر سروس جج، ریٹائر ڈ سول سرونٹس، علمامفتی، ٹیکنوکریٹس اور سوسائٹی کے دیگر حلقوں سے تعلق رکھنے والے اچھی شہرت اور کردار کے حامل افراد شامل ہوں گے۔

اس مسودہ قانون کے تحت ہر ضلع میں ایک ADR سینٹر قائم کیا جائے گا۔ ان مراکز میں تعینات غیر جانبدار افراد کو آنے والے مقدمہ کا فیصلہ یا تنازعہ کا تصفیہ 30 دن کے اندر کرنا ہوگا۔ ثالثی کی صورت میں یہ مدرت 60 ہوگی۔ اگر مصالحتی مرکز میں 30 یا 60 دنوں کے دوران کوئی تصفیہ نہیں ہوتا تو مقدمہ واپس سول عدالت میں چلا جائے گا۔ تصفیہ ہونے کی صورت میں اسے عدالتی فیصلہ کا مرتبہ حاصل ہوگا اور تمام تر عملدرآمد اسی کے مطابق ہوگا۔ ان فیصلوں/ڈگریوں کے خلاف اپیل یا نظر ثانی نہیں ہوسکے گی کیونکہ فریقین نے اپنی مرضی سے یہ انتخاب کیا ہوگا۔

کمیٹی نے بھرپور سوچ بچا رکے بعد سفارش مرتب کی کہ جوں ہی مجوزہ مسودہ قانون ہائیکورٹ کی رائے کے ساتھ واپس موصول ہو اس کو فوراً قانون بنانے اور نافذ کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ کمیٹی کے علم میں لایا گیا کہ ایسا ہی ایک قانون پہلے سے وفاقی حکومت، دارالحکومت اسلام آباد کے علاقہ میں نافذ کئے ہوئے ہیں۔ کمیٹی کی رائے میں صوبہ میں اس مجوزہ قانون کے نفاذ سے سول عدالتوں پر موجود بوجھ میں زبردست کمی آئے گی۔

8۔ صوبہ پنجاب میں ایک صوبائی محتسب اعلیٰ لاہو رمیں مصروف عمل ہے۔ اگرچہ صوبائی محتسب نے اضلاع میں اپنے علاقائی دفاتر ضلع کے ریٹائرڈ افسران، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ججوں یا اسی درجہ کے افسران کی سربراہی میں قائم کررکھے ہیں لیکن ان علاقائی دفاتر کے پاس آنے والی شکایات پر کارروائی کے بعد حتمی احکامات جاری کرنے کے اختیارات نہیں ہیں۔ ان کو اپنی سفارشات حتمی احکامات کے لئے صوبائی محتسب اعلیٰ کے پاس بھیجنا پڑتی ہیں۔ کمیٹی نے تجویز کیا کہ متاثرہ افراد کی شکایات کا ازالہ مقامی سطح پر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ضلعی محتسب کو اگر وہی نہیں تو اس جیسے اختیارات دئیے جائیں جو صوبائی محتسب کو حاصل ہیں۔ ضلعی محتسب کے دفتر کو صوبائی محتسب کے دفتر کے ساتھ اس طرح مربوط اور مکمل کیا جاسکتا ہے کہ ضلعی محتسب کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت صوبائی محتسب متعلقہ ڈویڑن ہیڈکوارٹرز میں کرے۔

وزیراعلیٰ کو اس ضمن میں بھیجی جانے والی کمیٹی کی رپورٹ کے ساتھ قانون میں ترمیم اور قانون سازی کے لئے ایک مسودہ بھی ارسال کیا گیا۔ اس مسودہ قانون میں ان محکمہ جات کی فہرست دے دی گئی جن کے خلاف شکایات ضلع محتسب کی سطح پر زیر سماعت آئیں گی۔ ضلعی محتسب کی سطح پر عملہ کو اس طرح وسعت اور بہتری دی جائے کہ عام آدمی کی رسائی آسانی سے انصاف تک ہوسکے۔ ایسا انتظام عام آدمی کو اس کی دہلیز پر فوری اور سستا انصاف مہیا کرسکتا ہے۔

9۔ کمیٹی کے ارکان کی یہ متفقہ اور پختہ رائے تھی کہ تمام سرکاری اعمال کو اس طرح صاف شفاف، منصفانہ اور موزوں انداز میں کام کرنا چاہیے کہ اگر کوئی فرد ان کے کسی فیصلہ/حکم سے منفی طور پر متاثر ہو تو اسے اپنے دفاع کا ایک مناسب موقعہ ضروری ملے اور یہ کہ منفی طور پر متاثر ہونے والے فرد کے خلاف فیصلہ/حکم لکھتے ہوئے تفصیلی وجوہات قلمبند کرنا ضروری ہیں اور یہ کہ متاثرہ شخص کو فیصلہ کی ایک نقل فوری طور پر مہیا کی جائے۔ اس مقصد کے لئے کمیٹی نے پنجاب جنرل کلازز ایکٹ میں 19-A اور 24-A دفعات شامل کرنے کی تجویز مرتب کی۔

قانون میں ترمیم کے لئے ایک مسعودہ وزیراعلیٰ کو ارسال کیا گیا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ مجوزہ ترامیم ایگزیکٹو آرڈرز کی شفافیت، قدروقیمت اور قبولیت میں وسیع تر بہتری لائیں گی۔ ان ترامیم کی دفعات پر عملدرآمد ان انتظامی احکامات کے خلاف شکایات کی تعداد میں زبردست کمی لائے گا جو سول کورٹس اور ہائی کورٹس تک جا پہنچتی ہیں۔ ایسی ہی ایک دفعہ، فیڈرل جنرل کلازز ایکٹ میں اس کے سیکشن 24-A کی صورت میں موجود ہے۔

10۔ کمیٹی کے ارکان کی پختہ رائے تھی کہ صوبہ پنجاب کے دیہی علاقوں میں امن وامان کی صورتحال اور وہاں حکومت کی موثر رٹ بحال کرنے کی ضرورت کا تقاضا ہے کہ لمبرداری اور چوکیدارہ کے نظام کو پھر سے نافذ کیا جائے۔ انہی وجوہات کے پیش نظر شہری علاقوں میں میونسپل وارڈنز مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔

11۔ صوبہ پنجاب کے 9 ڈویڑنز میں چوکیداروں کی منظور شدہ آسامیاں تقریباً 18000 ہیں۔ ان میں سے 8500آسامیاں خالی ہیں۔ اسی طرح لمبرداروں کی منظور شدہ آسامیاں 38500 ہیں۔ جن میں سے تقریباً 5500 خالی ہیں۔ مقامی حکومت کے نظام کے نفاذ کے بعد لمبردار کے منصب کی اہمیت نوآبادیاتی اضلاع کے علاوہ ختم ہوچکی ہے۔ ان اضلاع میں جنوری 2006میں کالونائزیشن آف گورنمنٹ لینڈز ایکٹ 1912کے تحت جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق تقریباً 500 لمبرداروں کی تحویل میں سرکاری زمینیں تھیں۔ دوسرے اضلاع میں ایسی مراعات نہیں۔

12۔ لمبرداروں (دیہی سربراہوں) کا تقرر پنجاب ریونیو ایکٹ 1967اور پنجاب لینڈ ریونیوز رولز 1968کے تحت ہوتا ہے جبکہ ان کی مختلف ذمہ داریوں میں مالیہ اکٹھا کرنے کے علاوہ دیگر صوبائی محصولات جمع کرنا، سڑکوں اور سرکاری املاک پر تجاوزات کے بارے میں تحصیلداروں کو رپورٹ کرنا، ڈپٹی کمشنروں کو ٹرانسپورٹ کے امور، فصلوں کی کیفیت، مختلف سرویز وغیرہ کے بارے میں معلومات مہیا کرنے کے علاوہ نہروں میں رخنہ اندازی اور پانی چوری کی رپورٹ دینے کے ساتھ ساتھ متعددی امراض کے بارے میں ضلعی حکام کو مطلع کرنا شامل ہوتا ہے۔ پنجاب لا ایکٹ 1872 کے تحت ان کو اپنے علاقوں میں چوکیداری کی نگرانی اور کنٹرول کے علاوہ مقامی پولیس سے رابطہ رکھنا ہوتا ہے۔

13۔ لمبرداری کے نظام کو فعال بنانے کے لئے کمیٹی نے تجویز پیش کی کہ لمبرداروں کو اسلحہ کے لائسنسوں کی سالانہ تجدیدی فیس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے تمام سرکاری محکمے اپنے پروگراموں کے لئے لمبرداروں کی معاونت حاصل کریں۔ ان کو پرائس کنٹرول کمیٹیوں، امن کمیٹیوں اور فوڈ کمیٹیوں میں شامل کیا جائے۔ مقامی ایس ایچ اوز دیہات میں پہرے داری اور امن وامان کی نگرانی کے امور میں لمبرداروں کو شامل کریں۔ ریونیو اور اریگیشن حکام کے لئے ضروری قرار دیا جائے کہ وہ اراضی اور آبپاشی سے متعلقہ کاغذات کی تصدیق کے لئے لمبرداروں کو ترجیح دیں۔ لمبرداروں کو آبیانہ وصول کرنے کے لئے ان علاقوں میں ذمہ داری دی جائے جو پنجاب اریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی کی عملداری میں ہیں۔ کمیٹی ے مزید تجویز کیا کہ لمبرداروں کے لئے نوآبادیاتی اضلاع میں سرکاری زمینوں کی ملکیت کے بارے میں جنوری 2006میں جاری ہونے والا نوٹیفکیشن منسوخ کیا جائے اور قرار دیا جائے کہ ایسی زمینیں موجودہ لمبرداروں کے عہدہ چھوڑنے پر حکومت کو واپس کردی جائیں گی۔ مستقبل میں لمبرداروں کو فرائض منصبی ادا کرنے پر کفالت کے لئے تمام زمینداروں پر مالیہ کے 5 فیصد کے برابر دیہی محصول عائد کیا جائے۔ اس کی اجازت پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ کی دفعہ 37 دیتی ہے۔

14۔ دیہی چوکیداروں کے حوالے سے کمیٹی نے تجویز کیا کہ ان کا تقرر متعلقہ علاقہ کے اسسٹنٹ کمشنر کریں او ریہ تقرری لمبردار کی طرف سے نامزدگی اور مقامی ایس ایچ او کی طرف سے اچھے کردار کے سرٹیفکیٹ کی فراہمی کے بعد ہو۔ ہر علاقہ میں 200 مکانوں یا دکانوں کے لئے ایک چوکیدار ہو۔ چوکیدار کے لئے مڈل پاس ہونا ضروری ہو اور جسمانی اعتبار سے اس کی موزونیت کا معیار وہی ہو جو کانسٹیبل کے لئے مقرر ہے۔ بڑے دیہات میں ہر پانچ چوکیداروں پر ایک ہیڈچوکیدار ہو۔ دیہی چوکیداروں کے لئے فی مکان یا دکان 50 روپے ماہانہ معاوضہ مقرر کیا جائے۔ چوکیدار، پہرے داری کے فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے علاقہ میں پیدائش اور اموات کا ریکارڈ مرتب کرے۔ بالخصوص لاوارث بچوں کی دیکھ بھال اس کی ذمہ داری ہو۔ چوکیدار کا رہنما اصول یہ ہو کہ وہ دیہی برادری کا خادم ہے۔

15۔ کمیٹی کے نوٹس میں لایا گیا کہ محکمہ داخلہ 1872 کے ایکٹ پر کاربند ہے اور بورڈ آف ریونیو، لیڈریونیو ایکٹ کا پابند ہے جبکہ ان دونوں کے درمیان بہت کم ارتباط ہے۔ ایک ڈیپارٹمنٹ کو دونوں قوانین پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے دیہی چوکیداروں کے متعلق تجاویز کو عملی صورت دینے کے لئے قواعد و ضوابط کا مسودہ مرتب کرکے وزیراعلیٰ کو بھجوایا۔

16۔ انہی خطوط پر جیسا کہ دیہی چوکیداروں کے بارے میں سامنے آیا۔ کمیٹی نے دیکھا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میونسپل وارڈنز کی تقرری کی اجازت دیتا ہے لیکن اس عملدرآمد نہیں ہورہا۔ کمیٹی نے میونسپل وارڈنز کی تقرری، ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کے بارے میں مسودہ مرتب کرکے وزیراعلیٰ کو ارسال کیا چونکہ ان وارڈنز کو مشاہرہ مقامی شہری کونسلوں نے ادا کرنا ہے چنانچہ اس امر کے لئے صوبائی حکومت اور مقامی شہری کونسلوں کے درمیان مالی تعلقات ردوبدل کا تقاضا کریں گے۔

17۔ آبادی کے محض 20فیصد کو نظام انصاف تک رسائی ہے۔ اس بہت بڑی محرومی کے پیش نظر پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کی دفعات 96 اور 99 پنچائیتوں اور مصالحتی انجمنوں کے قیام کی اجازت دیتی ہیں۔ یہ دفعات بڑی حد تک انہی دفعات کا اعادہ ہیں جو پرویز مشرف کے دور میں نافذ ہونے والے 2001 کے مقامی حکومت کے قانون میں موجود تھیں۔ دونوں قوانین میں یہ دفعات نافذ العمل نہیں ہیں حالانکہ 2006 میں مصالحت انجمن (آئین اور فرائض) قواعد نوٹیفکیشن کے ذریعے انہیں فعال کرنے کی کوشش کی گئی۔ کمیٹی نے پنچائیتوں اور مصالحت انجمنوں کے قیام، ارکان کی تقرری اور فرئاض کے متعلق نئے قواعد و ضوابط میں ایک ایسے قابل عمل سمجھوتے پر پہنچنے کے لئے زور دیا گیا ہے جو گاوں یا محلہ کی سطح پر غیر رسمی (لچکدار) طریقہ کار کے ذریعے ممکن ہوسکے۔ کمیٹی نے یہ بھی تجویز کی کہ 2013 کے قانون میں ترمیم کرکے انجمن کے ارکان کی تعداد 9 سے کم کرکے 5کردی جائے۔

18۔ کمیٹی کی آخری رپورٹ ضلع لاہور کو دو یا چار اضلاع میں تقسیم کرنے کی تجویز پر مشتمل تھی۔ 2017 کی مردم شماری کے مطابق لاہور ضلع کی آبادی ایک کروڑ بیس لاکھ نفوس سے تجاوز کرچکی ہے۔ صوبے کے دیگر 35 اضلاع کی اوسط آبادی تقریباً 30 لاکھ نفوس فی ضلع ہے۔ عوامی سہولت اور بہتر انتظامی کنٹرول کا تقاضا ہے کہ لاہور کو چار یا کم از کم دو اضلاع میں تقسیم کیا جائے۔ دو اضلاع میں تقسیم کرنا زیادہ قابل عمل محسوس ہوتا ہے اور یقینی طور پر اخراجات بھی کم رہیں گے۔ یہ دو اضلاع بعد میں کسی مرحلہ میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ محکمہ پولیس پہلے سے ضلع لاہور کو 4 حصوں میں تقسیم کرچکا ہے اور ہر حصہ کی سربراہی ڈی آئی جی کے پاس ہے۔ کمشنر لاہور ڈویڑن کی سربراہی میں ایک ذہلی کمیٹی نے لاہور کو دو یا چار اضلاع میں تقسیم کرنے کا تفصیلی پلان تیار کیا تھا جس کو عام انتخابات 2018 کے بعد زیر عمل لانے کی منظوری اصولی طور پر ایک اجلاس میں دی جاچکی ہے جس کی صدارت وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کی۔

نوٹ:شاہد حامد وہ پاکستانی سیاست دان ہیں جو پنجاب کے گورنر رہےہیں، وہ سپریم کورٹ کے وکیل ہیں جبکہ وہ 1996سے 1997تک پاکستان کے نگران وزیر دفاع بھی رہے ہیں۔

مزید : بلاگ