تیزی سے پھیلتا کرونا وائرس: فوری اقدامات کی ضرورت

تیزی سے پھیلتا کرونا وائرس: فوری اقدامات کی ضرورت

  



چین میں سامنے آنے والے ایک نئے قسم کے کرونا وائرس سے 80 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ صرف چین میں متاثرہ افراد کی تعداد 3ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق اس وقت کم از کم 10 ممالک میں کرونا وائرس کی اس نئی قسم کی موجودگی کی تصدیق ہوچکی ہے۔ چین کے بعد آسٹریلیا میں سب سے زیادہ 5افراد میں اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی گئی، فرانس اور جاپان میں 3 جبکہ ملائیشیاء میں 4 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ امریکہ میں بھی کم از کم 5 افراد میں یہ وائرس پایا گیا ہے۔ ان ممالک میں پائے جانے والے تمام مریضوں نے حال ہی میں چین کا سفر کیا تھا۔ پاکستان میں لاہور اور ملتان میں 4چینی شہریوں کو کرونا وائرس جیسی علامات ظاہر ہونے پر ہسپتال لایا گیا لیکن تاحال ان کے کرونا وائرس کے شکار ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

کرونا وائرس، وائرسز کے ایک ایسے گروپ کا نام ہے جو انسان کے نظام تنفس پر حملہ کرتا ہے۔ وائرس کی اس قسم کا شکار ہونے والوں کو سانس لینے میں دشواری اور نزلہ زکام جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ عموماً اس وائرس کا حملہ بہت شدید نہیں ہوتا اور چند روز نزلہ زکام کی سی کیفیت میں رہنے کے بعد مریض تندرست ہوجاتا ہے، تاہم چند لوگوں میں اس کی علامات شدید ہوسکتی ہیں خصوصاً وہ لوگ جن کی عمر زیادہ ہو یا وہ کسی اور سنگین بیماری میں مبتلا ہوں تو ان کی قوت مدافعت کم ہونے کے سبب کرونا وائرس سے موت بھی ہوسکتی ہے۔ زیادہ تر کرونا وائرس جانوروں میں پایا جاتا ہے لیکن اس کی کچھ اقسام انسانوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ چند سال قبل اس ہی وائرس کی ایک قسم میرز (مڈل ایسٹرن ریسپائریٹری سنڈروم) نے عرب ممالک پر حملہ کیا تھا۔ یہ وائرس اونٹوں سے انسانوں میں منتقل ہوا اور 300 کے قریب لوگوں کی جان لے گیا۔ اس ہی وائرس کی ایک اور قسم SARS نے 18 برس قبل چین میں 800کے قریب لوگوں کی جان لے لی تھی، اس کے بارے میں سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ یہ وائرس چمگادڑوں سے بلی کی ایک قسم میں منتقل ہوا جسے جنوبی چین میں بے حد شوق سے کھایا جاتا ہے۔ اس بلی نما جانور سے اس وائرس نے انسانوں تک اپنا راستہ بنایا۔ سائنسدانوں کے مطابق لفظ کرونا کراؤن یعنی تاج سے نکلا ہے اور اس وائرس کو کرونا وائرس اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی شکل کانٹے دار اور تاج سے ملتی جلتی ہے۔

حالیہ دنوں میں ہزاروں انسانوں پر حملہ آور ہونے والا کرونا وائرس سائنسدانوں کے لیے بالکل نئی چیز ہے، اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا علاج یا ویکسین دریافت ہونا تو دور کی بات تاحال اس کا نام بھی نہیں رکھا گیا اور دنیا بھر کے سائنسدان اسے انوکھا کرونا وائرس کہہ کر ہی پکار رہے ہیں۔ SARS کی طرح اس کرونا وائرس نے بھی چین میں ہی جنم لیا یا کہا جاسکتا ہے چین میں ہی اس نے انسانوں کے جسم میں داخلے کا راستہ ڈھونڈا۔ چین کے شہر ووہان میں دسمبر 2019ء کے وسط میں اس کا پہلا کیس سامنے آیا۔ ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ ووہان میں قائم جانوروں کی مارکیٹ ہے۔ اس مارکیٹ میں کتے، بلیاں، چمگادڑیں، سانپ اور طرح طرح کے جانوروں کا گوشت اسی طرح فروخت کیا جاتا ہے جس طرح ہمارے ملک میں مرغی اور بکرے کا گوشت۔ اب تک کی تحقیقات کے مطابق سامنے آنے والا کرونا وائرس چمگادڑوں اور سانپوں میں پائے جانے والے وائرس کا مجموعہ ہے اور جانوروں کی اس مارکیٹ میں بکنے والے گوشت کے ذریعے یہ انسانوں میں منتقل ہوا۔ انسانی جسم میں داخلے کے بعد یہ بالکل اسی طرح پھیلتا ہے جیسے نزلہ یا زکام۔دسمبر میں پہلا کیس سامنے آنے کے بعد یہ وائرس وباء کی طرح پھیلنے لگا تو 31 دسمبر 2019ء کو چینی حکام نے عالمی ادارہ صحت کو اطلاع دی۔ اس صورتحال میں دو پہلو انتہائی غور طلب ہیں، پہلا یہ کہ اس ہی قسم کے وائرس نے ملتی جلتی وجوہات کی بناء پر 2002ء میں چین میں سینکڑوں لوگوں کی جانیں لے لیں لیکن اس کے باوجود اس کے اسباب کو جڑ سے اکھاڑنے کا بندوبست نہیں کیا گیا۔ آج بھی چین کے مختلف شہروں میں طرح طرح کے جانور کھانے کے غرض سے فروخت کیے جارہے ہیں اور حکومتی نگرانی نہ ہونے کے برابر ہے، دوسرا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پہلا کیس سامنے آنے کے بعد ابتدائی ایام میں اس وائرس کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا، مقامی حکام نے میڈیا کی خبروں پر کان نہ دھرے۔ اگر پہلے دو ہفتے اس طرح ضائع نہ کیے جاتے تو شاید بہت سی معصوم جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے میں ذرا بھی کوتاہی نہ برتی جائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کے شہر ووہان میں 2ہزار کے قریب پاکستانی بھی موجود ہیں جن میں 500 سے زائد طلباء بھی شامل ہیں۔ دفتر خارجہ نے وہاں موجود تمام پاکستانیوں کی خیروعافیت کی خبر دی ہے لیکن دوسری جانب ووہان میں موجود پاکستانی طلب علموں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے چینی حکام نے شہر لاک ڈاؤن کردیا ہے، دوسرے ممالک اپنے شہریوں کو وہاں سے بحفاظت نکالنے کے لیے انتظامات کررہے ہیں لیکن تاحال پاکستانی حکومت کی جانب سے ان پاکستانی شہریوں سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ چینی حکام سے رابطہ کر کے ووہان میں موجود پاکستانی شہریوں کی سکریننگ کے بعد بحفاظت وطن واپسی یقینی بنائی جائے۔

پاکستان اس حوالے سے خوش قسمت رہا ہے کہ تاحال کرونا وائرس سے متاثرہ کوئی مصدقہ کیس سامنے نہیں آیا تاہم یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اس کی پاکستان آمد کا سنگین خطرہ موجود ہے کیونکہ ایک کثیر تعداد میں چینی پاکستان آتے ہیں اور پاکستانی شہریوں کی چین آمدورفت بھی اسی طرح ہے۔ اگر یہ وباء پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئی تو بڑی تباہی ہوسکتی ہے کیونکہ صحت کے میدان میں ہماری مقابلہ کرنے کی صلاحیت بے حد محدود ہے لہٰذا کوشش کرنی چاہیے کہ اس کی نوبت ہی نہ آئے۔ دفتر خارجہ اور وزارت صحت نے بعض میڈیا چینلز پر چلنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کا کوئی تصدیق شدہ کیس موجود ہے۔ اس موقع پر جہاں میڈیا سے گزارش ہے کہ ذمہ داری سے کام لیا جائے، لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے سے گریزکیا جائے، وہاں حکومت سے بھی گزارش ہے کہ اس معاملے میں ووہان کی مقامی حکومت والی غلطی کسی صورت نہ دہرائی جائے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے جاری کردہ ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ کرونا وائرس کی اس نئی قسم کی نشاندہی کے لیے لیب ٹیسٹ کی سہولت دنیا کے چند ہی ممالک میں موجود ہے، اسلام آباد میں موجود نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ باقی اقسام کے وائرسز کی نشاندہی کر کے کسی حد تک اس کرونا وائرس کی تشخیص کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم پاکستان چینی حکام سے رابطے میں ہے اور چند روز میں اس وائرس کی تشخیص کرنے والی کٹس موصول ہوجائیں گی۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پاکستان میں اس وائرس کی مؤثر تشخیص ممکن ہی نہیں تو حکومتی ذمہ داران لوگوں کو ملک میں اس کی عدم موجودگی کا یقین کیسے دلارہے ہیں؟ بے حد ضروری ہے کہ اس معاملے کو بھی کہیں بدانتظامی کی نذر نہ کردیا جائے۔ اگر کہیں کوئی کیس سامنے آئے تو چینی حکومت کی طرح معاملے کو دبا کر بدنامی سے بچنے کی کوشش نہ کی جائے بلکہ اس کا عدم پھیلاؤ یقینی بنایا جائے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حوالے سے آگاہی مہم چلائے، عوام کو بتائے کہ یہ وائرس نزلہ زکام کی طرح پھیل سکتا ہے، سائنسدانوں کے مطابق اس سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر وقت اپنے ہاتھ صاف رکھے جائیں، جن لوگوں میں نزلہ زکام کی علامات ظاہر ہورہی ہوں، اُن سے میل جول میں احتیاط سے کام لیا جائے۔ حکومت پر لازم ہے کہ وہ اس معاملے میں عوام کوآگاہی دے اور ملک میں آنے والے مسافروں کی اچھی طرح سکیننگ کی جائے، اس معاملے میں احتیاط واحد حل ہے۔(جو میڈیکل ماسک کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے، یہ سموگ سے بھی بچاتا ہے۔)

مزید : رائے /اداریہ