خواتین کی بے حرمتی اور قتل کے واقعات میں خوفناک اضافہ

خواتین کی بے حرمتی اور قتل کے واقعات میں خوفناک اضافہ

  



آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں پچھلے پانچ سال کے دوران خواتین کے ساتھ بداخلاقی، تیزاب گردی اور قتل کے واقعات میں خوفناک اضافہ ہوا ہے۔خواتین پر تشدد کے واقعات کے حوالے سے روزنامہ پاکستان کوموصول ہونے والی پولیس رپورٹ کے مطابق پچھلے پانچ سال کے دوران خواتین پر تشدد،بد اخلاقی، قتل اور تیزاب پھینکنے کے 15 ہزار سے زائد واقعات پیش آئے۔سال 2019 کے دوران خواتین سے بداخلاقی کے 3517 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ سال 2018 میں خواتین کے ساتھ بد اخلاقی کے 3,300 واقعات رپورٹ ہوئے۔اسی طرح سال دو ہزار اٹھارہ کے دوران غیرت کے نام پر 149 خواتین کو قتل کیا گیا۔ سال 2019 کے دوران غیرت کے نام پر قتل کے 205واقعات رپورٹ ہوئے۔2019 کے دوران خواتین پر تیزاب پھینکنے کے 40 واقعات رپورٹ ہوئے۔ سال 2018 کے دوران خواتین کے خلاف تیزاب پھینکنے کے 37 کیسز ہوئے۔چند روز قبل تھانہ چوہنگ کے علاقے میں ایک15سالہ گھریلو ملازمہ ثناء کو بد اخلاقی کے بعد قتل کرنے کی اطلاع موصول ہوئی۔ لڑکی کے ماموں رمضان نے ایمرجنسی پولیس ہیلپ لائن 15پر اطلاع دی کہ میری بھانجی ثناء جسے 2ماہ قبل کام پر رکھوایا تھا کو بد اخلاقی کے بعد تشدد کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔کرائم سین کے مطابق نو عمر لڑکی کی لاش پارک ویو سوسائٹی گھر سے پولیس نے دیگرشواہد سمیت قبضہ لے کر مالک مکان ڈاکٹر حمیرا اور اس کے شوہر جنیدسے تفتیش کا آغاز کیا۔ دوران ملاحظہ ایسے شواہد ملے جو لیڈی ڈاکٹر کے بیان سے مماثلت نہ رکھتے تھے جس پر باقاعدہ تفتیش کا آغاز کیا گیا تو معلوم ہوا کہ لیڈی ڈاکٹر مختلف اوقات میں ملازمہ ثناء پر تشدد کرتی رہی ہے اور بالآخرتشدد کی وجہ سے ہی ثناء کی موت واقع ہوئی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ثناء کے پورے جسم پر تشدد کے بے شمار نشانات موجود پائے گئے جو اس کی موت کا سبب بنے۔دوران تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی کہ قبل ازیں بھی لیڈی ڈاکٹر گھریلو ملازمین پر تشدد میں ملوث رہی ہے جس کے وجہ سے پہلے بھی بہت سے گھریلو ملازمان کام چھوڑ کر جا چکے تھے۔بچی پرتشدد کے حوالے سے بھی نمونے حاصل کیے گئے ہیں جو پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی حتمی رپورٹ آنے پر ملزمان کے خلاف مزید قانونی کاروائی کی جائے گی۔ جان بچانے والے پیشہ سے منسلک ایک مسیحا کا ایسا فعل معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ملزمان اب قانون کی گرفت میں ہیں۔

پارلیمنٹ کتنے عرصے سے کمسن بچوں پر تشدد اور قتل جیسے واقعات پر قانون بنانے کا سوچ رہی ہے اور اس عرصے میں نجانے کتنی بڑی تعداد میں معصوم بچوں اور بچیوں کوتشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سنگدلی کے ساتھ انہیں قتل کیا گیا۔ اب تو کوئی دن نہیں گزرتا کہ ایسی خبریں پڑھنے کو نہ ملیں۔ یہ جرم بڑھتا ہی جا رہا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جانوروں سے بھی بدتر درندوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ کسی کو عبرتناک سزا نہ مل سکی، اگر کسی کی ملی توسزا ایسے ملی کہ وہ نشانِ عبرت نہ بن سکا۔ ایسے مجرموں کو نشانِ عبرت بنانا ہے تو اْنہیں سخت سزائیں دینا ہونگی۔ کاش! ہمارے حکمران، ہماری عدالتیں، میڈیا اور انسانی حقوق کے علمبردار تشدداور درندگی کی شکار لاتعداد بچیوں اور بچوں کے والدین کے درد کو سمجھیں، اْن کے دکھ کو محسوس کریں اور سب سے اہم ایسے حل تجویز کریں اور اقدامات کریں کہ ایسے جرائم کا خاتمہ ہو سکے۔ایسے ملزمان کو ہفتوں میں نہیں بلکہ دنوں میں عدالتوں سے سزا ئیں ملنی چاہیں یہ وہ اقدام ہے جو سب سے پہلے کرنے کا ہے۔ باقی یہ کہ معاشرے کی تربیت کیسے کی جائے، ان واقعات کو معمول مت بننے دیں۔ ایسے بچوں کے والدین اور پورے معاشرے سے ہمدردی ہے تو فوٹو سیشن کے بجائے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایسے واقعات میں ملوث ملزمان کو سزائیں جلدی ملنی چاہیں ثنا بچی کے اہل خانہ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اْن کی بیٹی کے ملزمان کو پھانسی اْن کے کے سامنے دی جائے۔ سزا کا مقصد معاشرے میں جرم کے خلاف ڈر اور خوف پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ افراد کے ذہن میں سزا ملنے کا نقش پکا کر دیا جائے اور اْنہیں یقین ہو کہ اگر جرم کیا تو وہ سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ اسی طرح کا ایک اور واقعہ جس میں ایک ظالم شخص اپنے دوبچوں کی ماں اور سابقہ بیوی کو طلاق دینے کے باوجود اسے قتل کر دیتا ہے۔تقریباً3ماہ قبل 29سالہ بلقیس بی بی کے اغواء کا مقدمہ اس کے دوسرے شوہر محمد ریاض کی مدعیت میں تھانہ راوی روڈ میں درج ہوا۔افسران نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انویسٹی گیشن پولیس راوی روڈ کو مغویہ کی فوری بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کاٹاسک دیا جس پر انچارج انویسٹی گیشن راوی روڈ مجاہد حسین نے حالات و واقعات اور موبائل فون ریکارڈ کی روشنی میں مغویہ بلقیس کے پہلے شوہرمحمد عابد کو شامل تفتیش کیا جو زیادہ دیر حقائق نہ چھپاسکا اور انکشاف کیا کہ مقتولہ بلقیس اس کے 2بچوں کی ماں تھی جسے وہ طلاق دے چکا ہے۔ مقتولہ بلقیس اپنے بچوں سے ملنے کا تقاضہ کرتی تھی جس سے وہ تنگ آ چکا تھا اورآخرکار اس نے اپنی پہلی طلاق یافتہ بیوی سے چھٹکارا پانے کے لیے اس کو قتل کرنے کا بھیانک منصوبہ بنایا۔ بچوں کو ملوانے کے بہانے اس نے اپنی سابقہ بیوی بلقیس کو داتا دربار بلوایاجہاں اس نے بچوں کے پاکپتن میں ہونے کا کہہ کر اپنے بھائی اسلم کے ہمراہ اوبرٹیکسی کرایہ پر حاصل کی اورمقتولہ بلقیس کو لے کر گاؤں ڈوگراں ضلع پاکپتن اپنے دوست اختر ڈوگر کے ڈیرے پر پہنچ گیا۔ وہاں مقتولہ کی ملاقات اس کی بیٹی سے کروائی اور اسی دوران چائے میں نشہ آور گولیاں ڈال کر اسے بے ہوش کردیا۔ مقتولہ کے بے ہوش ہونے پر وہ اسے اپنے ہمراہی ملزم محمد اختر کی مدد سے موٹر سائیکل پر بیٹھا کر قریبی نہر پر لے گیا اور اپنے بھائی محمد اسلم کو بھی نہر پر ہی بلا لیا۔ جہاں اس نے اپنے بھائی اور دوست کی مدد سے مقتولہ کے دوپٹے سے گلے میں پھندا لگا کر قتل کیا اور بعد ازاں چھری سے اس کا گلہ کاٹ دیا۔ اپنا جرم چھپانے کے لیے ملزمان نے تھیلے میں اینٹیں ڈال کر مقتولہ کی لاش کو اس کے ساتھ باندھ دیا اور نہر میں پھینک کر خاموشی سے فرار ہو گئے۔ مقتولہ کے وارثان نے کہا ہے کہ ملزمان نے مقتولہ کو اس کے قانونی حق سے محروم کرنے کے لیے انتہائی اقدام اٹھا کر ایسا جرم کیا ہے جس کی دنیا و آخرت میں معافی کی کوئی گنجائش نہیں، اسے قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔

یہ ہی نہیں رواں ماہ خاتون کے ایک اور قتل کا واقعہ مغل پورہ میں بھی پیش آیا ہے جہاں پانچ بچوں کی ماں کو اس کے درندہ صفت شوہر نے چھریوں کے پے درپے وار کر کے قتل کر دیا،جسے بعد ازاں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے پولیس کے مطابقملزم فیاض آئے روز اپنی بیوی غلام صابرہ پر سسرال سے پیسے لے کر آنے دباؤ ڈالتارہتا تھا لیکن جب اس بارمقتولہ غلام صابرہ نے روز روز پیسے لانے سے منع کیا توظالم شوہر فیاض طیش میں آ گیا اور اپنے پانچ بچوں کی ماں کو چھریوں کے پے در پے وار سے قتل کر دیا اور موقع سے فرار ہو گیا تھا۔کمسن بچوں نے اپنے ظالم والدکو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔نئے پاکستان کے حکمرانوں کو بھی چاہئے کہ وہ خواتین کے حقوق اوراْن کی زندگیوں کے تحفظ کے لئے عملی اقدامات کریں اور ایسے قوانین مرتب کریں جس میں خواتین پرظلم کرنے والے ظالموں کو فوری سزائیں مل سکیں‘ خواتین کے تحفظ کے لئے سخت قوانین بنانا اوراْن پرعملدرآمد کرانا حکومت اورریاست کی ذمہ داری ہے۔لا ہور کی سیشن عدالت میں خواتین سے بد اخلاقی کے سیکٹروں کیسز زیر سماعت ہیں۔سیشن عدالت میں گزشتہ ایک سال میں خواتین سے بد اخلاقی اور تشدد کرنے والے ایک بھی ملزم کو سزا نہیں ہوئی۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی تشدد کے کیسز کا جلد فیصلہ نہ ہونے کی بڑی وجہ پولیس کی ناقص تفتیش ہے

مزید : ایڈیشن 1