میڈیا اور وقت کے تقاضے

میڈیا اور وقت کے تقاضے

  



یہ حقیقت ہے کہ صحافی اور لکھاری کی معلومات ایک عام آدمی سے کچھ زیادہ ہوتی ہیں، اس لئے وہ خود کو اس بنیاد پر دوسروں سے ممتاز تصور کرتا ہے۔ کرنا بھی چاہیے،کیونکہ اس کی خبر بریک ہوتے ہی عوام کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے، پھر تبصروں کی بھرمار ہو جاتی ہے جس سے اس کی شہرت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ فخریہ لہجے میں اس بات کا تذکرہ کر تا ہے۔ اسی روش کی وجہ سے خبر کی تحقیق کرنے کے بجائے غلط اطلاعات، مفروضوں اور قیاس آرائیوں کی بنیاد پر قومی اداروں کے متعلق غیر مناسب تجزیے اور منفی پراپیگنڈے کو فروغ دیا جاتا ہے،جو صحافتی اقدار کی روح کے خلاف ہے۔ادب و صحافت میں مکالمے کی جدید شکل ٹاک شوز ہیں، جہاں کھلی بحث کا تصور ہے جو مسائل پر بات کرنے اور حقائق کو سامنے لانے کا ایک موثر ذریعہ ہیں، لیکن ہمارے یہاں ٹاک شوز میں مسائل پر بات کرنے اور مدبرانہ، غیر جانبدارانہ تجزیوں اور عمدہ تبصروں کے بجائے اپنے ذاتی نظریات کا چورن بیچا جاتا ہے۔ نوآموز تجزیہ کار ٹاک شوز میں آکر جارحانہ الفاظ اور حرکتیں کر کے ڈرامائی صورت حال پیدا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ابہام پیدا ہوتے ہیں، جو شدید ردعمل کو جنم دیتے ہیں۔

ایک زمانہ تھا جب زبان دانی اور مہذب اظہار خیال سیکھنے کے لئے اداریے اور کالم پڑھے جاتے تھے۔ ادارے کا ایڈیٹر خبر کی نوک پلک سنوارتا تھا۔ ایک ایک لفظ پر غور ہوتا تھا کہ کہیں یہ معیار سے گرا ہوا تونہیں۔ صحافیوں میں متانت اور ممکنہ حد تک غیر جانبداری ہوتی تھی، لیکن جب سے الیکٹرانک میڈیا آیا ہے، یہ شستگی، شائستگی اور بردباری ناپید ہو چکی ہے۔اب الیکٹرانک میڈیا پر غیر تربیت یافتہ، بلکہ یہ کہنا مناسب ہے کہ غیر مہذب افراد کا ایک ہجوم ہے جو سستی ریٹنگ کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ یہ صحافی پروگرام میں مہمانوں کو بلا کر ایک دوسرے سے ایسے لڑواتے ہیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی اور بدقسمتی سے ان حرکات و سکنات کو ریٹنگ بڑھانے کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے، ابھی ہم نے دیکھا کہ ایک حکومتی وزیر نے ایک ٹاک شو میں فوجی بوٹ کے ساتھ شرکت کی، اس بوٹ کو میز پرسامنے رکھ کر اپنے سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ان کی اس غیر مہذبانہ حرکت کو شو کے اینکر پرسن نے روکنے کی بجائے ٹاک شو کو جاری رکھا، حتی کہ دوسرے مہمان، جن کا تعلق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے تھا، پروگرام سے واک آؤٹ کر گئے۔ اگرچہ اس واقعہ پر وزیراعظم نے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے، لیکن یہ کوئی آخری واقعہ نہیں ہے۔ میڈیا جس رجحان کا شکار ہے، اسی وجہ سے ایسے واقعات مستقبل میں بھی ہوتے رہیں گے۔ اس سے پہلے ہم نے دیکھا کہ ٹک ٹاک اسٹارز کے سیاستدانوں سے تعلقات کی خبروں پر بھی ٹاک شوز ہوتے رہے ہیں، ان کا مقصد بھی سوائے سستی ریٹنگ کے اور کچھ نہیں تھا۔

بدقسمتی سے ہماری صحافت کا ارتقاء نہیں ہوا،نہ کوئی گروتھ ہوئی، نجی چینلوں نے بہت سے غیر تربیت صحافیوں کی کھیپ تیار کی ہے جو بہت حد تک معاشرے میں بگاڑ کے ذمہ دار ہیں۔ اس کے علاوہ بعض صحافیوں کی سیاسی وابستگی کی وجہ سے صحافتی اقدار کو نقصان پہنچا ہے۔ ہماری صحافت زرد صحافت بن چکی ہے، جس میں سچائی، درستگی، غیر جانبداری، جوابدہی کی جگہ سنسنی خیزی، نفرت انگیزی نے لے لی ہے۔ ہمارا میڈیا ایک ”وار میڈیا“ بن چکا ہے جو ہر وقت حالت جنگ میں ہے، جس کو دیکھ دیکھ کر ہمارے رویوں میں بھی جارحیت، عدم برداشت اور بد اخلاقی آچکی ہے…… جو ایک لمحہ ئ فکریہ ہے۔ہمارے بہت سے بزرگ جو ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں، وہ نیوز اور ٹاک شوز بے حد دلچسپ ہونے کے باوجو د نہیں دیکھتے ۔ صحافیوں کو چاہیے کہ وہ موضوعات پر بات کریں، بنیادی صحافتی اقدار کو اپنائیں اور معیاری پروگرام کریں۔ اس ”وار میڈیا“ کو”پیس میڈیا“ کی طرف لے کر آئیں تاکہ پاکستان کا صحافتی امیج خراب نہ ہو۔ صحافی کا قلم بہت طاقتور ہوتا ہے۔

ہر کوئی لکھاری نہیں ہوتا، اس لئے صحافتی معیار کو بہتر اور مؤثر بنائیں۔ کوئی بھی معاشرہ صحافت کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا۔ اسے ریاست میں چوتھے ستون کی حیثیت حاصل ہے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ میڈیا سماجی ، ثقافتی اقدار اور رہن سہن پر اثر انداز ہوتا ہے۔ میڈیا ہمیں شعور دیتا ہے، ہمیں آگاہی ملتی ہے ، گلوبل ویلج میں تبدیل کرنے اور ترقی و کامرانی میں میڈیا بہت اہم کردار ادا کرتا ہے،لیکن اس کے ساتھ اس کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان میں میڈیا بہت بڑی قوت کے طور پر ابھرا ہے، شاید اس وجہ سے اس کے اندر کچھ کمیاں، کوتاہیاں بھی رہ گئی ہیں۔ ایک ذمہ دار اور معاشرے کی اصلاح و رہنمائی کرنے والا میڈیا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ سینئر صحافیوں اور صحافی تنظیموں کو ازخود ایسا ضابطہ اخلاق بنانا چاہیے جو اس عظیم شعبے کو اعلیٰ اقدار اور تہذیبی معیار سے گرنے نہ دے۔

مزید : رائے /کالم