ہم اتنے بھوکے کیوں ہیں؟

ہم اتنے بھوکے کیوں ہیں؟

  



بہت دِنوں سے عجیب سی پر یشانی میں مبتلا ہوں۔اُساتذہ کے ایک فنکشن میں موجود تھا،جب کھا نے کا و قت آیا تو اس سے پہلے جو تہذیب و تمدن اور ا خلاقیات کی با تیں ہو رہی تھیں،سب کی سب دھر ی کی دھری رہ گئیں۔مَیں اکیلا اپنی کرسی پر بیٹھا یہ منظر د یکھنے لگا…… سب اساتذہ کھانے پر ایسے جھپٹے، جس کو دیکھ کر مجھے سلطنت ِ عثمانیہ کے رؤسا کی دعو تیں یا د آ گئیں، جو کبھی کتابوں میں پڑھی تھیں۔ سلطنت ِ عثمانیہ کے رؤسا جب لطف اور مزا لینا چا ہ رہے ہو تے تو وہ غریبوں اور غلا موں کے لئے کھا نا تیا ر کرواتے،خود رؤسا بالکونی میں بیٹھ جاتے،پھر وہ کھا نا اُن غلا موں اور غریبوں کے آگے پیش کیا جاتا……پھر اُن کے کھا نا کھا نے کے انداز کو وہ سب بہت ا نجوائے کرتے…… اُس دن مَیں کر سی پر بیٹھا شاید خود کو سلطنت ِ عثمانیہ کا کو ئی سر دار سمجھ رہا تھا اور باقی سب مجھ کو اُس وقت کے غلا م،ذہنی غریب اور معذور لگ رہے تھے……مگر اُن رؤسا کی طر ح قہقہے اور شور وغل نہیں مچا رہا تھا،بلکہ شرمندگی اور ندامت کو چھپا رہا تھا، کیونکہ خود بھی اسی معاشرے کا حصہ اور فرد ہوں ……کسی بھی قوم اور معا شرے کی تر قی کا دارو مدار اس کے افراد کی چھو ٹی چھوٹی باتو ں سے لگایا جا سکتا ہے…… مثلا اُس قو م کے رہن سہن، اس کے سماجی نظام اور اس کی دعوتو ں سے آپ اُس قوم کا رُخ (Direction) اور ترقی کا تعین کر سکتے ہیں۔جس دعوت اور محفل کا آ پ لوگوں سے تذکرہ کر رہا ہوں،وہ کسی بھی معاشرے کے اعلیٰ اور تہذیب یافتہ لوگ کہلاتے ہیں،مگر کسی بھی ترقی یافتہ قوم کافرو اگر ان ٹیچرز، پروفیسرز اور اساتذہ کو ہاتھوں کے ساتھ ہی ڈشوں سے گرما گرم سالن ڈالتے اور راستے میں ہی ویٹرز کے ہاتھوں سے کھانا چھینتے اور چھینا جھپٹی کرتا دیکھ لیتا تو وہ بھی یقینا میری طرح سلطنت عثمانیہ کے اس سارے منظر سے لطف اندوز ہوتا۔

ایک طبیب کا قول ہے:تو اُس وقت کھا جب بھوک ہو اور ابھی بھوک با قی ہو تو ہاتھ اُٹھا لے۔ہمارے یہاں کے لوگ جس طرح کھانا کھاتے ہیں، اُن کے انداز اور طریقے سے کو ن آشنا نہیں،بس بارات یا ولیمے میں یہ آواز لگنے کی دیر ہوتی ہے کہ کھا نا کھل گیا ہے تو بس……اُس کے بعد سب لوگ تہذیب وتمدن سے بے زار،بلکہ ہر طرح کے رکھ رکھاؤ سے آ زاد ہو جاتے ہیں، جو ایک مہذیب قوم میں موجود ہوتے ہیں۔شادی بیاہ میں دیکھا گیا ہے کہ لو گ آدھا کھانا تو ویسے ہی ضائع کر دیتے ہیں اور جو کھا تے ہیں،وہ ایسے کھا رہے ہوتے ہیں، جیسے یہ اُن کی زندگی کا آخری کھانا ہے۔کسی حکیم نے کیا خوب کہا ہے کہ چالیس سال کی عمر تک انسان کھانے کو کھاتا ہے، اس کے بعدکھانا انسان کو کھاتا ہے۔ہمارا ایک طبقہ مولویو ں کا ہے جو خود بھی معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اِلا ماشااللہ مگر کبھی آپ ان تبلغ کرنے والوں،پانچ پانچ چھ چھ ماہ چلوں میں رہنے والوں کو کھانا کھاتے دیکھیں تو آپ کو یقین ہو جائے گا کہ ان لوگوں کا اللہ اور اُس کے رسولؐ پر سب سے کم یقین اور ایمان ہے۔یہ سب ایسے کھاتے ہیں، جیسے اللہ پاک نے ان کے لئے اگلا کھانا نہیں رکھا اور ان کے جینے کا مقصد ہی صرف کھانا ہے۔کسی نے حکیم جالینوس سے پوچھا تم بہت کم کھاتے ہو۔

اس نے کہا میر ے کھانے کی غرض یہ ہے کہ مَیں زندہ رہوں،جبکہ دوسرے لوگ اس لئے زندہ ہیں کہ بس کھائیں ……!میر ا ایک دوست جو میڈیسن کمپنی میں نوکر ی کرتا ہے، وہ بتا رہا تھا کہ مجھے ڈاکٹروں کے ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا تو دیکھا شروع میں تو کچھ ڈاکٹر اس وجہ سے لڑ رہے تھے کہ پہلی لائن والی کرسیوں پر کون بیٹھے گا۔ اُس کے بعد کھانے کا وقت آیا تو کچھ ڈاکٹر آپس میں گتھم گتھا ہو گئے اور ایک دوسر ے کے کپڑے پھاڑ دیئے۔ با ت صرف یہ تھی کہ جلدی جلدی میں کھانا ڈالتے ہوئے کچھ ڈاکٹروں کے کپڑوں پر سالن گر گیا، جس وجہ سے وہ آپس میں لڑ پڑے۔شیخ سعدی نے کیا خوب کہا کہ نہ اتنا زیادہ کھاؤ کہ تم بیمار پڑ جاؤ،نہ اتنا کم کھاؤ کہ کمزوری تیری جان نکال دے۔اسی طرح ایک اور جگہ فرمایا کہ اگر جو اں ہمت ہو تو زیادہ کھا نے سے بچو، کیونکہ کتا بھی اسی کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوتا ہے۔

آپ ہمارے معاشرے کے کسی بھی اعلیٰ اور معتبر طبقے کو دیکھ لیں،اُس کے کسی بھی فرد سے مل لیں یا اُس کی باتیں سُن لیں تو آپ متا ثرہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے اور آپ انہی لو گو ں کو اگر کھانا کھاتے دیکھ لیں تو آپ کبھی بھی اُن کو دوبارہ نہیں ملنا چا ہیں گے۔ہم تو وہ قو م ہیں جن کا مقصد ہی دنیا میں کھانا کھانا ہی رہ گیا ہے۔ بہت دِنوں سے یہ سب باتیں خاصی پر یشان کر رہی تھیں تو مَیں اُن سب کی وجہ تلاش کر نے میں لگ گیا۔ پھر تحقیق کے بعد مجھے یہ پتا چلا کہ ایک تو ہم بحیثیت قوم ذہنی غلام ہیں،ہما رے لیڈروں سے لے کر ایک پسماندہ شخص تک،کئی سال تک ہمارے آباؤاجداد انگریزوں کے غلام رہے ہیں۔آپ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اگر ایک بادشاہ غر یب ہو جائے تو اُس کی سات نسلیں بادشاہو ں کی طرح زندگی گزارتی ہیں اور اگر کوئی غریب یا فقیر بادشاہ بن جائے تو اُس کی اگلی سات نسلیں فقیروں کی طرح، انہی عادات میں زندگی گزارتی ہیں،اس لئے ہماری ساری قوم ابھی تک ذہنی غلام ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم لو گ مفت کھانے کے بہت شوقین ہیں۔

ہمیں کوئی دوست یا عزیز مفت میں کھانا کھلائے تو ہم خوشی سے کھاتے ہیں، چاہے کچھ دیر پہلے ہی ہم نے کھانا کھایا ہو یا پھر جتنے کا کھانا کھایا ہے، اُس سے زیادہ پیسے ڈاکٹر کو ہی کیوں نہ دینے پڑ جائیں۔ تیسری وجہ ہے کہ ہمارے یہاں کو ئی نظم و ضبط نہیں ہے۔ کسی بھی دعوت میں یا شادی پر بہت ہی کم عزت اور وقار کے ساتھ کھانا کھلایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بہت زیادہ رزق ضائع ہوتا ہے۔ ایک دن ایک بادشاہ نے عر بی حکیم سے پوچھا کہ انسان کو دن بھر میں کتنی مقدار میں غذا کھانی چاہئے۔ حکیم نے جواب دیا،درھم کے برابر وزن کی خوراک کا فی ہے۔بادشاہ نے کہا کہ کیا یہ مقدار قوت پہنچائے گی؟اس نے کہا یہ وہ قوت ہے جو تمہیں اُٹھائے گی،ورنہ اس سے زیادہ کھاؤ گے تو خود غذا کا بوجھ اُٹھاؤ گے۔مَیں ا کثر اللہ پاک سے یہی دُعا کرتا ہوں کہ ہمیں بہت بڑا انقلاب یا تبدیلی نہیں چاہئے، مَیں تو بس اتنا چاہتا ہوں کہ میری قوم کو کھانا کھانے کے آداب،کس وقت اور کتنی مقدار میں کیا کھانا ہے، یہ سلیقہ اور قرینہ آ جائے…………بس اور کچھ نہیں ……!!!

مزید : رائے /کالم