ضلع پولیس نے شیخوپورہ میں چائلڈسیفٹی سیل قائم کرکے نئی تاریخ رقم کردی

ضلع پولیس نے شیخوپورہ میں چائلڈسیفٹی سیل قائم کرکے نئی تاریخ رقم کردی

  



کرائم سٹوری شیخوپورہ

(محمد ارشد شیخ بیوروچیف)

ضلع شیخوپورہ کو اعزاز حاصل ہے کہ پنجاب کا پہلا چائلڈ سیفٹی سیل یہاں قائم ہوا جو تھانہ صدرشیخوپورہ سے متصل عمارت میں کام کررہا ہے اس کا ابتدائی مقصد بچوں کے کیسسز کی نگرانی او ر سپر ویژن کرناقرار دیاگیا اور بتایا گیا کہ آئندہ دنوں میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے دیگر امور بھی اس چائلڈ سیفٹی سیل کے تحت انجام دیئے جانے کا اہتمام کیا جائے گا، لہذاٰ اس سیل کے قیام سے عوامی سماجی حلقوں کا یہ دیرینہ مطالبہ تکمیل کو پہنچا تھا جو چائلڈ سیفٹی کے حوالے سے انقلابی اقداما ت اٹھائے جانے پر مرکوز تھا شہریوں نے اس اقدام کو نہ صرف حوصلہ افزاء قرار دیا بلکہ یہ توقع بھی وابستہ کی کہ یہ چائلڈ سیفٹی سیل بچوں کے تحفظ کے حوالے سے نہایت کارگر ثابت ہوگا جبکہ ضلع پولیس نے اپنی نوعیت کا پہلا چائلڈ سیفٹی سیل شیخوپورہ میں قائم کرکے ضلع کے حوالے سے نئی تاریخ رقم کی جو خوش آئندہونے کیساتھ ساتھ درگرگوں معاشرتی حالات کی رو سے قائم کیا جانا ناگزیر بھی تھا ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں بچوں سے متعلقہ مختلف نوعیت کے جرائم کے اب تک 1100 سے زائد کیسسز ڈسٹرکٹ شیخوپور ہ کے مختلف تھانوں میں رپورٹ ہوچکے ہیں اور تقریبا ڈبل کیسسز ایسے ہوں گے جو کسی وجہ سے تھانوں میں درج رجسٹر نہیں ہوسکے تاہم اس سیل کے تحت اس حوالے سے جستجو جاری ہے کہ بچوں کے متعلقہ درج مقدمات کی تمام پہلوؤں سے نگرانی کی جائے جو ملزمان کو سزا ئیں ملنے تک کسی بھی مقدمہ پر بھرپور فوکس کیا جائے یہ سیل دو شفٹوں میں کام کررہا ہے جس میں میل اور فی میل سٹاف دونوں موجود ہیں چونکہ کم عمر بچوں پر تشدد کا رجحان نہ صرف معاشرے میں سرائیت کرچکا ہے بلکہ کمسن بچوں سے جبری مشقت بھی کروائی جارہی ہے جس کے تدارک اور بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے چائلڈ سیفٹی سیل کی خدمات نمایاں ہیں جس کے تحت کمسن بچوں کو جسمانی تشدد اور درندگی سے محفوظ بنانے کی خاطر بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں، کمسن بچوں کو جبری مشقت کروانے والوں اور انہیں ذہنی و جسمانی طور پر حراساں کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹاجارہا ہے اور لازم بھی ہے کہ کمسن بچوں پر ظلم کرنے والے افراد کسی رو رعایت کے مستحق نہیں اور چونکہ آج کے بچے کل کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں لہذاٰ قوم کے معماروں کی حفاظت اور ان کو تحفظ فراہم کرنا پولیس سمیت دیگر ریاستی اداروں کی کلیدی ذمہ داری ہے جسے اولین ترجیحات میں شامل بلکہ کلیدی اہمیت کا حامل رکھا جانا چاہئے، ڈی پی او شیخوپورہ غازی صلاح الدین کے مطابق کمسن بچوں پر تشدد اور جبری مشقت کے حوالے سے ضلع پولیس کی کارکردگی اطمینان بخش ہے اور پولیس اپنے حصے کا کام باخوبی کررہی ہے جبکہ چائلڈ سیفٹی سیل کے پلیٹ فارم سے ضلع پولیس کو بچوں پر تشدد اور جبری مشقت کے تدارک کے حوالے سے کام کرنے میں بڑی مدد مل رہی ہے اور بچوں پر جنسی یاجسمانی تشدداور اغواء سمیت بچوں کے حوالے سے درج مقدمات کے ملزمان کو منطقی انجام تک پہنچانا خاصا آسان ہوگیا ہے انہوں نے تھانہ جات کی پولیس کی کارکردگی کو موثر بنائے جانے کے حوالے سے بتایا کہ تھانہ کلچر کو مکمل طور پر تبدیل کردیا گیا ہے، سائلین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش نہ آنے یا مقدمات کا غلط اندراج و اخراج کرنے والے پولیس ملازمین کے خلاف کاروائیاں کی گئی ہیں خصوصاً متاثرہ بچوں کوانصاف کی فراہمی کے حوالے سے پولیس کو جو ٹاسک دیا جارہا ہے اس کی تکمیل میں تاخیر کا کوئی عذر قبول نہیں کیا جارہا تاکہ کوئی بھی آفیسر یا اہلکار اس نہایت اہم ذمہ داری کی انجام دہی میں کسی طرح کی بدعنوانی کا مرتکب نہ ہوسکے، انہوں نے بتایا کہ ایسے کمسن بچے جو کسی سرکردہ جرم کی بناء پر ڈسٹرکٹ جیل میں بند ہیں انہیں معاشرے کا بامقصد اور پر امن شہری بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور ان بچوں کو جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ رکھا گیا ہے تاکہ انکے ذہن پر مزید منفی اثرات مرتب نہ ہوں، ڈی پی او شیخوپورہ غازی صلاح الدین نے اس امر کا بھی اظہار کیا کہ شہداء پولیس کے بچوں کو تعلیم و صحت کی بنیادی سہولیات مفت فراہم کی جارہی ہیں جس کے تمام تر اخراجات ضلع پولیس برداشت کررہی ہے،ہم نے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور جرائم کے خاتمہ کا حلف اٹھایا ہے جس کی پاسداری ہماری بنیادی ترجیح ہے اور اس کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جارہی ہے بالخصوص خواتین کے اغواء، تشدد اور زیادتی کی وارداتوں میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے ضلع پولیس کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے، انہوں نے بتایا کہ چائلڈ ایکٹ کے حوالے سے جو مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ان میں پولیس مداخلت نہیں کرسکتی مگر عوامی سماجی حلقے اگر ان کیسز کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں تو بہت سی آسانیاں پیدا ہوسکتی ہیں خصوصاً ایسے کیسز جن میں ملزم پارٹی متاثرہ بچوں کے اہلخانہ کی منت سماجت کرکے کیسز کی پیروی سے انہیں پیچھے ہٹاتے ہیں اس معاملہ میں سول سوسائٹی اپنا رول ادا کرے متاثرہ فریق کے ساتھ کھڑی ہو اور اسے ملزمان کے خلاف کاروائی سے گریز برتنے نہ دے بلکہ ڈٹ کر ملزم کے خلاف کیس لڑنے میں مدد کرے اور ایسے عناصر جو متاثرہ بچوں کے غریب والدین پر دباؤ ڈال کر یا ڈرا دھمکا کر انہیں صلح پر مجبور کرتے ہیں انہیں سول سوسائٹی بے نقاب کرے اور پولیس کو اس حوالے سے اطلاع کی جائے تاکہ پولیس بروقت کاروائی کرکے ان عناصر کی حوصلہ شکنی کرسکے اور ان کے خلاف کاروائی کرکے قانون کی بالادستی ممکن بناسکے اس سے انصاف کے بھی تقاضے پورے ہوں گے اور عام آدمی کاآئین و قانون پر اعتماد بھی بڑھے گا، ذرائع کے مطابق بچوں پر جسمانی وجنسی تشدد کے واقعات کسی مخصوص علاقے، مخصوص شعبے یا مخصوص لوگوں کی طرف سے نہیں بلکہ جامعات، ہسپتالوں، ہوٹلز، ورکشاپوں، کلینکس، کالجز، فیکٹریز، جیل، پولیس اسٹیشنز،شادی ہالز حتیٰ کہ قبرستانوں تک میں یہ شیطانی فعل سرزد کیا جانا رپورٹ ہوا ہے گزشتہ برس پنجاب بھر میں 5200سے زائد بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ جسمانی تشدد کا نشانہ بننے والے بچوں کی تعداد ناقابل بیان حد تک زیادہ ہے، گزشتہ برس رونما ہونے والے کم عمری کی شادیوں کے واقعات کی تعداد 210سے زائد ہے یہ عمل بھی بچوں کے استحصال کے ذمرہ میں آتا ہے بدقسمتی سے جسمانی و جنسی تشدد سمیت دیگر عوامل کے تحت رونما ہونے والے بچوں کے استحصال کے سب سے زیادہ واقعات پنجاب میں رپورٹ ہوئے ہیں ضلع شیخوپورہ کی بات کی جائے تو شیخوپورہ میں جنسی تشد د کا نشانہ بننے والے بچوں کی تعداد2019میں تقریبا 292 بیان کی گئی ہے لہذاٰ ضروری ہے کہ بچوں کو جنسی تشد سے بچاؤ کیلئے آگاہی مہم موثر حکمت عملی کے تحت چلائی جائے حکومت بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے چائلڈ پروٹیکشن بل پر غور کرے نئی قانون سازی کی جائے، جنسی تشدد سے متاثرہ بچوں کی بحالی کیلئے موثر سپورٹ سسٹم لایا جائے، بچوں کی حفاظت پر مبنی پیغامات کو بچوں کے نصاب کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے خصوصاً چائلڈ سیفٹی سیل کو مزید فعال مربوط اور موثرو طاقتور بنایا جائے تمام تر درکار سہولیات فراہم کی جائیں اور سول سوسائٹی کے ذریعے آگہی ریلیاں سیمینارز اور تقاریب کا بلا تعطل ہفتہ وار انعقاد یقینی بنایا جائے کیونکہ بچوں پر جنسی وجسمانی تشدد کی صورتحال بلاشبہ معاشرے کے اجتماعی ضمیر پر سوالیہ نشان ہے تو دوسری طرف اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جنسی تشدد کی روک تھام کے سلسلہ میں موثر میکنزم مرتب اور اختیار کرنے کی ضرورت ہے اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جہاں ہم بطور معاشرہ اور بہت سی خرافات کا شکار اور جرائم میں گھرے ہوئے ہیں وہاں بچوں پر جنسی و جسمانی تشدد کا معاملہ بھی بری طرح گلے پڑا ہوا ہے حالانکہ یہ ایسی معاشرتی برائیاں ہیں جنہیں دین اسلام بھی گناہ قرار دیتا ہے مگر اس کے باوجود بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات کی شرح میں ہرسال اضافہ پایا جانا یقینا لمحہ فکریہ ہے احوال حاضر کا تقاضا ہے کہ ہم بطور شہری ایسے ہر ملزم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں جو اس جرم میں ملوث پایا جائے جبکہ متاثرہ بچوں کے اہل خانہ کاملزم یااس کے عزیز و اقرباء کی طرف سے معافی تلافی یا بدنامی کے ڈر سے منہ خاموش رہنا مسئلے کا حل نہیں قصور وار سزائیں پائیں گے تو ہی ان جرائم کی حقیقی معنوں میں حوصلہ شکنی ہوگی، جبکہ بطور معاشرہ ہمیں اپنا اجتماعی کردار ادا کرتے جنسی تشدد کی روک تھام کیلئے کام کرنیوالے سماجی اداروں اور این جی اوز کا ساتھ دینا ہوگا تاکہ موثر اور بھرپور آواز اٹھائی جاسکے اور اس سلسلہ میں مجموعی موقف کھل کر سامنے آسکے، بچوں سے جسمانی یا جنسی تشدد ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ ہے جس سے عالمی سطح پر بھی ملکی امیج خراب ہو رہا ہے اور اس میں بھی دو رائے نہیں کہ بچوں کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور چونکہ تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات سے عالمی سطح پر ہمارا چہرہ مسخ ہو رہا ہے دوسری طرف ٰ پولیس سمیت دیگر متعلقہ ریاستی اداروں کو چاہئے کہ ایسے بچوں پر بھی فوکس کریں جو گھروں سے بھاگ جاتے ہیں کیونکہ ایسے بچے عموماً ان گروہوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں جو بچوں کو مسلسل زیادتی کانشانہ بناتے ہیں اور ان سے بھیک تک منگوائی جاتی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1