آٹے کا بحران یا قیادت کا بحران؟

آٹے کا بحران یا قیادت کا بحران؟
آٹے کا بحران یا قیادت کا بحران؟

  



شور برپا ہے کہ کچھ دنوں سے ملک میں آٹے کا بحران پیدا ہو گیا ہے…… ہماری قوم کی یادداشت شائد کمزور ہے کیونکہ یہ بحران تو گزشتہ کئی برس سے پیدا ہو رہا ہے اور اس کی پیدائش کے ایام یہی ہیں۔ شیخ رشید نے نجانے کس ترنگ میں آکر یہ فیصلہ سنا دیا کہ سردیوں میں لوگ روٹیاں زیادہ توڑتے ہیں اس لئے یہ بسیار خورانی ملک میں گندم کی کمی کا باعث بنتی ہے۔ تفنن برطرف! کیا ہم نے کبھی یہ بھی سوچا کہ یہ بحران سالانہ بنیادوں پر انہی ایام میں کیوں پیدا ہوتا ہے؟

جمہوری طرزِ حکومت میں اپوزیشن کا وجود دائمی ہوتا ہے۔پاکستان میں کافی عشروں تک ہماری سیاست، باریاں لیتی رہی لیکن اب جب سے عمران خان کی نئی حکومت آئی ہے، آٹے کی کمی کی اس ریگولر اور دیرینہ بیماری کو پی ٹی آئی کے سرمنڈھ دیا گیا ہے۔ ماضی و حال میں محکمہء خوراک کے کسی بیورو کریٹ نے یہ سٹڈی نہیں کی (یاکروائی) کہ آٹا آخر انہی ایام میں مہنگا کیوں ہو جاتا ہے،کون لوگ ہیں جو ایسا کر رہے ہیں، جب ملک کے زرعی گوداموں میں گندم موجود ہے تو پھر وہاں سے کیوں ایشو نہیں کی جاتی، یہ ذخیرہ اندوز کون ہیں؟ وغیرہ وغیرہ……

کہیں یہ تو نہیں کہ یہ ذخیرہ اندوز پانچ سال تک گھات لگائے بیٹھے رہتے ہیں اور جب انتخابات کا موسم آتا ہے تو ایک دم آپریشنل ہو جاتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ جمہوریت اور الیکشن لازم و ملزوم ہیں۔ انتخابات ہونے ہی ہونے ہیں۔ مارشل لاء ہو، بنیادی جمہوریت کا نظام ہو یا غیر بنیادی جمہوریت کے موسم آئیں، ایک مخصوص مدت کے بعد الیکشن تو ہونے ہی ہوتے ہیں اور ان میں ہمارے بعض لوگ (اور خاندان) مسلسل حصہ لیتے چلے آئے ہیں۔ لیکن ہم نے اس پہلو پر کم کم غور کیا ہے کہ یہ حصہ لینا، کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ اس میں اور باتوں کے علاوہ جس ایک چیز کو اہم ترین اور اساسی حیثیت حاصل ہے، وہ سرمایہ ہے۔ ان لوگوں کے لئے الیکشن کا موسم ان کا گویا پنج سالہ یا ہفت سالہ ”موسمِ بہار“ ہے جس نے آنا ہی آنا ہے…… خزاں آخر کتنی دیر تک طول کھینچ سکتی ہے؟ یہی وہ لوگ ہیں جو الیکٹیبل (Electable) بھی کہلاتے ہیں۔ کوئی تہی دست یا خالی جیب بندۂ خدا کسی بھی الیکشن کا ٹکٹ حاصل نہیں کر سکتاخواہ وہ کتنا ہی پارسا، لکھا پڑھا اور جمہوریت کا شیدائی کیوں نہ ہو۔ چونکہ ان الیکٹیبل حضرات کا صاحبِ سرمایہ ہونا ایک مزمن مرض ہے اس لئے اس کو پاکستان جیسے ملکوں میں آفتِ ارضی و سماوی سمجھ کر قبول کر لیا گیا ہے۔ یقین جانیئے سیاست سے زیادہ نفع بخش کاروبار کوئی دوسرا نہیں۔ بندے کے پاس بس دو چیزیں ہونی چاہئیں …… ایک یہ کہ جیب بھاری ہو اور دوسرے چرب زبانی!۔یہ دونوں چیزیں پاس ہوں تو باقی تقاضے فروعی ہوتے ہیں جو خود بخود پورے ہوتے جاتے ہیں ……مثلاً جھوٹ بولنا آ جاتا ہے…… مگرمچھ کے آنسو عادت بن جاتے ہیں …… اداکاری خود بخود جھولی میں آ گرتی ہے…… اور ایک عام سا آدمی الیکشنوں کے بعد VIP بن جاتا ہے اور اگر مقدر یاور ہو تو ان میں سے ایک نے VVIP بھی بن جانا ہوتا ہے۔

میں آٹے کے بحران کی بات کر رہا تھا…… الیکٹبل بننے کا ایک آسان نسخہ یہ بھی ہے کہ فرض کیجئے آپ کے پاس سرمایہ ہے اور اتنی عقل اورصبر بھی ہے کہ آپ 5 سال تک انتظار کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو آپ نے صرف یہ کرنا ہے کہ جب گندم کی فصل کی کٹائی کا موسم آئے تو آپ سستے داموں گندم خرید کر اس کو اپنی زمینوں میں بنے گوداموں میں ذخیرہ کر لیں یا اگر زمین نہ ہو تو کہیں خود گودام گھر تعمیر کروا لیں یاکرائے پر لے لیں۔ اور جب یہی موسم آئے جو آج کل آیا ہوا ہے تو گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کی ایکسرسائز کا آغاز کر دیں ……یہ ایکسرسائز بڑی ہشیاری اور عیاری سے لانچ کی جاتی ہے۔ اسی لئے میں نے کہا تھا کہ ”عقل اور صبر“ دونوں کی ضرورت ہے۔ اس ایکسرسائز میں وابستہ مفادات کو خریدنا پڑتا ہے اور برسراقتدار لوگوں کو شریکِ کاروبارکرنا پڑتا ہے۔ اگر آپ کسی صوبائی یا قومی اسمبلی کے ممبر بن جاتے ہیں تو آپ کے پوبارہ ہیں، آپ کا استحقاق چیلنج نہیں کیا جا سکتا، آپ جو چاہیں کر سکتے ہیں اور اگر خود نہیں کر سکتے تو ’دوست احباب‘ اور اپنے ”پیٹی بھائیوں“سے کروا سکتے ہیں …… سیاسی لوگوں کے لئے یہ انجمنِ امدادِ باہمی والا معاملہ ہے!

سیاست بڑا ظالم کاروبار بھی ہے…… میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ آپ کو اداکاری بھی آنی چاہیے۔ غریب کے ساتھ انتہائی غریب اور بے کس کے ہمراہ انتہائی بے کس بننے کا رول ادا کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ اس تناظر میں ہر عوامی اور سیاسی لیڈر ایک بڑا کریکٹر ایکٹر بھی ہوتا ہے جو اپنے آپ کو سیاسی کارکن کہلانے کی گردان کرتا رہتا ہے۔بظاہر بڑا مرنجان مرنج معلوم ہوتا ہے لیکن اندر سے ہر فن مولانا اور اقبال کے مسلمان سے بالکل مختلف بلکہ متضاد ایک ایسا مسلمان بن جاتا ہے جس پر شعرِ اقبال کی یہ پیروڈی صادق آتی ہے:

عیاری ومّکاری و بے باکی و کرتوت

یہ چار عناصر ہوں تو ہے پورا مسلمان

ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی دیکھتے چلے آئے ہیں کہ چند خاندان ہیں جو سارے ملک کے سیاہ و سفیدکے مالک ہیں۔ بار بار وہی لوگ یا ان کے عزیز و اقارب یا ان کی اولادیں اور پھر اولادوں کی اولادیں اس کاروبار کو ایک خاندانی اور وراثتی کاروبار سمجھ کر بڑے خشوع و خضوع سے اس میں حصہ لیتی ہیں۔ شکست و فتح تو آنی جانی چیزیں ہیں۔ کوئی سیاستدان ہمیشہ برسراقتدار نہیں رہتا۔لیکن پاکستان میں جس خاندان کو سیاست کا چسکہ پڑجاتا ہے، وہ کوئی اور کام نہیں کر سکتا۔ اس کی آنے والی چوتھی،پانچویں یا چھٹی نسل اگر متواتر اور مسلسل الیکشنوں سے باہر رہے تو شائد کسی اور کاروبار کا سوچے۔ وگرنہ ایک بار سیاست تو بار بار سیاست……

ویسے جو ممالک ترقی یافتہ شمار ہوتے ہیں ان میں اصل جمہوریت کا دور دورہ ہے۔ لیکن کیا کبھی آپ نے دیکھا کہ وہاں ایک ہی خاندان برسوں سے برسراقتدار رہا؟…… ایک صدر یا وزیراعظم دو سے زیادہ بار شاذ ہی منتخب ہوتا ہو۔ ہاں جنگ کا بوجھ آن پڑے تو بات اور ہے لیکن جدید تاریخِ جنگ کا مطالعہ کریں تو یورپ اور امریکہ میں جنگِ عظیم کے ایام میں بھی وزرائے اعظم اور صدور بدلتے رہے ہیں۔ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ کسی صدر یا وزیراعظم کا بیٹا یا بیٹی اگلا صدر یا وزیراعظم بنا / بنی ہو۔ لیکن برصغیر کی جمہوریت اور مغربی جمہوریت کے آدم الگ الگ ہیں۔

ملک کوئی بھی ہو سرمایہ دار کا وجود اس کی بقاء کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ لیکن یہ سرمایہ کہاں سے آتا ہے؟ کیا تجارت سے، صنعت و حرفت سے، زمینداری سے، لوٹ مار سے یا جنگ و جدال سے؟…… میری نظر میں یہی پانچ سات سرچشمے ہیں جن سے سرمائے کے سوتے پھوٹتے ہیں۔وہ ایام اب صدیوں سے قصہ ء پارینہ بن چکے ہیں کہ جن میں کہا جاتا تھا کہ دولت خرچ کرنے سے گھٹتی ہے لیکن علم ایسی دولت ہے جو خرچ کرنے سے بڑھتی ہے۔ اب تو علم اور غربت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ گویا علم اور دولت دو ایسے پھول ہیں جو ایک شاخ پر نہیں کھلتے۔ جہاں گُلِ علم کھلتا ہے وہاں گُلِ دولت مرجھا جاتا ہے۔ مبارک ہیں وہ معاشرے جہاں گلہائے علم و ہنر کے باغات پائے جاتے ہیں اور ساتھ ہی گلہائے دولت و ثروت کے خیابان بھی وافر تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔ پاکستان ایک ایسا زرعی ملک ہے جو ابھی صنعت و حرفت اور تجارت و کامرس کی ابتدائی سیڑھیوں پر قدم رکھ رہا ہے۔

لیکن گزشتہ سات عشرے گزرنے کے بعد بھی ہمارے ہاں جدی پشتی زمینداروں کی کثرت اور نئے یا پرانے کارخانہ داروں کی قلت ہے۔لیکن سیاست کے ایوانوں میں انہی دو گروپوں کا طوطی بولتا ہے۔ عجیب تناقض (Anomaly) ہے کہ سیاسی لوگ غریب غربا (عوام) کا نام استعمال کرکے اوپر آتے ہیں۔ویسے نعرۂ جمہوریت ہے کہ یہ طرزِ حکومت عوام کی ہے اور اس میں حکمرانی بھی عوام کی ہے لیکن گراؤنڈ پر حال یہ ہے کہ اصل حکمرانی زمینداروں اور صنعت کاروں کی ہے، وہی اس کو قائم کرتے ہیں، وہی الیکشن لڑ سکتے ہیں اور Electables کہلاتے ہیں، وہی غریب عوام کے غم میں دن کو ٹسوے بہا کر رات کو اپنے محلات میں جا سوتے ہیں، عوام کا دکھ درد بانٹنے کے لئے خصوصی ہوائی جہازوں میں آتے جاتے ہیں، کسی کے کپڑے پھٹے پرانے نہیں ہوتے، کسی کے جوتوں میں اضافی چمڑے کے پیوند سلائی نہیں کئے جاتے، کسی کے گھر میں گیس کے چولہے مدھم نہیں پڑتے، نہ کبھی بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، نہ وہ زمین پر سوتے ہیں اور نہ ان کی اولادیں کسی اردو میڈیم سکولوں یا مدرسوں میں، مفت تعلیم و رہائش،کے حصول پر مجبور ہوتی ہیں:

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار

انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات

دستِ دولت آفریں کو مزد یوں ملتی رہی

اہلِ ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکات

یہ آٹے کا بحران اگر ہے تو صرف غریب غربا کے لئے ہے جو جاگیر داروں اور ذخیرہ اندوزوں نے جان بوجھ کر پیدا کیا ہے۔ یہی لوگ ہیں جو عین وقتِ مقررہ پر گوداموں کے منہ کھولتے، گندم کی جمع شدہ مقدار کو ہوا لگاتے، اس کو بازار میں لاتے،فاقہ زدہ عوام کو دوبارہ زندگی دیتے اور اَن داتا کہلاتے ہیں۔ آج کل چونکہ لفظ ”مافیا“ کثیر الاستعمال بن چکا ہے اس لئے ان کو ”گندم مافیا“ بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن کون ہے جو اس مافیا کا سدباب کرے؟ اس میں تو بیشتر اراکین خود ریاستِ مدینہ کی کابینہ کے مقتدر اراکین ہیں۔ یہ ایسے مدنی ساہوکار ہیں جن کے سینے میں دل نہیں۔ یہ وہ Electables ہیں جو پی ٹی آئی کی صفوں میں 2018ء کے الیکشنوں کے ایام کی آمد آمد کے ساتھ عمران خان سے آچمٹے تھے۔خود خان صاحب نے بھی برملا اس حقیقت کا اظہار کیا تھا کہ ان Elecables کے بغیر انتخابات نہیں لڑے جا سکتے اور حکومت سازی نہیں کی جا سکتی۔

اخباری خبروں کے مطابق آٹے اور گندم کا حالیہ بحران باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پیدا کیا گیا ہے۔ لیکن یہ منصوبہ بندی کوئی نئی بات تو نہیں۔یہ تو ہر برس کی جاتی ہے۔وزیراعظم نے شائد آٹے کے بحران کا نوٹس لے لیا تھا اس لئے فرمایا تھا کہ اس سکینڈل کی تحقیق کی جائے اور ذمہ داروں کو قرارِ واقعی سزا دی جائے، مہنگے آرو فروشوں کو حوالہ ء زنداں کیا جائے اور ان کی فلور ملیں سیل کر دی جائیں۔ اب یہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی گئی ہے اور ڈیووس سے واپسی پر ان کے سامنے رکھی جانے والی خوش خبریوں میں سے ایک ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس بحران کے ذمہ داروں میں سرکاری آفیسرز اور سیاستدان شامل ہیں۔ اس میں تفصیل سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ بحران محکمہ ء خوراک کی انتظامی نااہلی اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ لیکن ابھی دوماہ پہلے تک تو گندم 1550روپے فی من دستیاب تھی جسے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ 1950روپے فی من تک پہنچا دیا گیا۔ پھر گزشتہ ماہ کے اوائل میں گندم کی فراہمی بتدریج کم ہونے لگی جس کا نوٹس نہیں لیا گیا تاآنکہ نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ غریب عوام کو دو روٹیاں خرید کر پیٹ کی آگ بجھانا مشکل ہو گیا۔

اس رپورٹ میں بیورو کریٹس اور سیاستدانوں کے نام بھی ضرور ہوں گے۔ لیکن میڈیا میں جو خبریں دی گئی ہیں ان میں نام نہیں دیئے گئے۔ سوشل میڈیا جو اس طرح کی ’نامکمل‘ خبروں کی ’تکمیل‘ میں پیش پیش رہتا ہے، وہ بھی خاموش ہے۔ وجہ یہ ہے کہ گندم مافیا خود اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھا ہوا ہے۔ ابھی ایک روز پہلے حکومت کے مرکزی اور صوبائی سنگھاسن ڈول رہے تھے۔ پنجاب میں ق لیگ، مرکز میں ایم کیو ایم، بلوچستان میں سپیکر صوبائی اسمبلی اور کے پی میں محمود خان کا مخالف دھڑا، اپنے پورے وزن کے ساتھ آنکھیں دکھا رہا تھا۔لیکن جب یکایک کے پی کے تین گروپ بندی کرنے والے وزراء کو کابینہ سے نکال دیا گیا تو گویا سب کو ”ٹھنڈ“ پڑ گئی۔ یہی وہ مجبوریاں اور مصلحتیں تھیں جو عمران خان کو اپنی پارٹی میں Electables کو انڈکٹ کرنے تک لے گئی تھیں۔ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ عمران خان ان کے الیکشنوں میں لگے سرمائے کی واپسی کا کوئی اہتمام نہیں کر رہا اور 18ماہ گزر جانے کے بعد بھی ان کی تجوریاں نہیں بھر رہیں تو یہ اندیشے ان کو ستانے لگے کہ 2023ء کے انتخابات کیسے لڑ سکیں گے؟…… آخر ان بے چارے سرمایہ کاروں،ذخیرہ اندوزوں اور سیاستدانوں نے ”پیٹ“ تو پالنا ہے!……

عمران خان حیران ہے کہ کیا کرے، ریاست مدینہ کا وعظ کن کے سامنے کرے، ڈانواں ڈول ہوتی اپنی صوبائی اور فیڈرل حکومتوں کو سنبھالا کیسے دے…… بس آٹے کے بحران کا سبب یہی تھا جو دراصل قیادت کا بحران تھا(اور اب بھی ہے)۔ نپولین بونا پارٹ نے بالکل ٹھیک کہا تھا کہ فوج اپنے پیٹ کے بل پر چلتی ہے۔ یہ بات اس نے تب کہی تھی جب وہ شہنشاہِ فرانس تھا اور اپنی شہرت کے عروج پر تھا…… عمران خان کو پہلے اپنی فوج / قوم کے پیٹ کی فکر کرنا ہو گی تاکہ یہ گاڑیاں آگے چل سکیں۔

مزید : رائے /کالم