ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں

ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں

  



تحریر: مرزا نعیم الرحمان

ٹریفک قوانین کی پاسداری مذہب معاشروں کی پہچان ہوتی ہے دنیا ٹریفک کے مسائل حل کرنے کیلئے جہاں نت نئے قوانین اور جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہی ہے وہیں پاکستان میں گنگا الٹی بہتی ہے‘ اوور سپیڈ‘ اوورلوڈنگ‘ ون ویلنگ‘ رانگ ٹرن جیسی دیگر سنگین غلطیاں جہاں ٹریفک قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے وہیں جان لیوا حادثات کو جنم دیتی ہیں جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع معمول کا حصہ بن چکا ہے‘ جدید وسائل کی عدم دستیابی اور نفری کی کمی سب سے سنگین مسئلہ ہے موٹر سائیکل سوار سے لیکر بھاری بھر کم ٹرک چلانیوالے ڈرائیوروں کی غفلت‘ لاپرواہی‘ تیز رفتار اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے کے باعث حادثات کی شرح میں روز بروز خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے‘موٹر وے‘ ٹریفک‘ پنجاب پولیس سمیت وارڈزن پولیس اپنی استطاعت اور وسائل کے مطابق ٹریفک نظام کی بہتری اور قوانین پر عمل کرانے کیلئے اقدامات کرتی ہے مگر بے ہنگم نظام کی بہتری کیلئے جدید وسائل اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ویگنوں‘ بسوں‘ اور ہائی ایس گاڑیوں سمیت پبلک ٹرانسپورٹ میں سب سے زیادہ اوورلوڈنگ کے قوانین کی خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں مسافروں سے بھاری بھر کم اور منہ مانگے کرایہ جات وصول کرنے کے باوجود انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح گاڑیوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے دو سیٹوں کی گنجائش پر تین لوگوں کو بیٹھنے کیلئے مجبور کیا جاتا ہے جبکہ درجنوں افراد کرایہ دینے کے باوجود کھڑے ہو کر سفر کرتے ہیں کرایہ جات یا اوولوڈنگ پر اعتراض کرنیوالے مسافروں کیساتھ ٹرانسپورٹرز‘ ڈرائیورز‘ اور کنڈیکٹرز کا ہتک آمیز رویہ اور جھگڑے بھی معمول کا حصہ ہیں بعض اوقات تو چلتی بس کو روک کر ویرانے میں مسافروں کو زبردستی گاڑیوں سے اتاردیا جاتا ہے گاڑیوں کے کرایہ جات اور انکی فزیکل فٹنس کی چیکنگ کیلئے قائم اداروں کی غفلت کے باعث ناقص‘ کٹھارہ اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی اکثریت بھی سڑکوں پر رواں دواں ہے جو نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کو جنم دیتی ہے بلکہ حادثات کا سبب بن رہی ہیں بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ سکولز اور کالجز کیلئے استعمال ہونیوالی چھوٹی بڑی گاڑیوں کی اکثریت بھی اپنی مدت پوری کر چکی ہے کٹھارہ اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں جنہیں کباڑ خانے میں ہونا چاہیے معصوم بچوں کو لیکر سڑکوں پر رواں دواں ہیں بیشتر گاڑیوں میں ناقص سی این جی سلنڈر استعمال کیے جاتے ہیں سیٹوں کے عین نیچے واقعہ ان گیس سلنڈروں سے نہ صرف گاڑی میں بیٹھنے کیلئے مسافروں کو اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ غیر معیاری سلنڈر کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتے ہیں ڈرائیورز کی اکثریت گاڑیوں میں پیٹرول کین کا بھی استعمال کرتی ہے اس پیٹرول کو گاڑی سٹارٹ کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے کین سے ایک پائپ کے ذریعے انجن تک پیٹرول پہنچایا جاتا ہے گاڑی سٹارٹ ہونے کے بعد اسے گیس پر منتقل کر دیا جاتا ہے یہ خطرناک عمل جہاں مکمل طور پر غیر قانونی ہے بلکہ اس سے ماضی میں سنگین حادثات رونما ہو چکے ہیں کچھ ایسا ہی المناک واقعہ چند برس قبل منگوال میں پیش آیا تھا جہاں ایک سکول وین میں ہولناک آتشزدگی سے دو درجن کے قریب معصوم بچے اور ایک خاتون ٹیچر زندہ جل گئی تھی اس واقعہ میں بھی ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیٹرول والی کین سے آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسے حادثے کو جنم دیا جسے یاد کر کے دل خون کے آنسو روتا ہے ٹرانسپورٹرز‘ ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز کی من مانیوں‘ اوورلوڈنگ‘ زائد کرایہ جات کی وصولی اور قانون شکنی پر جب محکمہ موٹر وہیکل‘ ٹریفک پولیس اور دیگر ادارے ایکشن لیتے ہیں تو یہ ایک مافیا کا روپ دھار لیتے ہیں ہڑتال اور احتجاج کے ذریعے قانون نافذ کرنیوالے اداروں پر دباؤ ڈالنے اور انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے بغیر لائسنس اور کم عمر چنگ چی ڈرائیوربھی شہریوں کا ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے جس پر ہنگامی بنیادوں پر قابو پانا ضروری ہے کم عمر اور غیر لائسنس یافتہ ڈرائیور گنجان علاقوں میں سڑکوں پر چنگ چی اور رکشے دوڑاتے نظر آتے ہیں جو اکثر و بیشتر حادثات کا سبب بنتے ہیں مسلم بازار‘ مچھلی چوک‘ چوک پاکستان‘ سرکلر روڈ‘ پرنس چوک‘ ڈھکی چوک‘ فوارہ چوک‘ نواب چوک‘ ریلوے روڈ‘ سرگودھا روڈ‘ رحمان شہید روڈ‘ کچہری روڈ‘ جناح روڈ سمیت دیگر گنجان علاقوں میں چنگ چی اور رکشہ ڈرائیوروں کی غلط پارکنگ‘ اور ناجائز اڈوں نے ٹریفک کا نظام بری طرح مفلوج کر رکھا ہے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے چنگ چی رکشہ ڈرائیوروں کو مختلف زونز میں تقسیم کر کے انہیں روٹ پرمٹ جاری کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے مگر اس پر سو فیصد عمل درآمد کیے بغیر بے ہنگم ٹریفک نظام کی بہتری ممکن نہیں ہے ٹریفک نظام میں بہتری لانے کیلئے سول سوسائٹی انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے پیسے کی ہوس قبر کی دیواروں تک ختم نہیں ہوتی یہ انسانی فطرت کاایک حصہ ہے مگر پیسے کیلئے دوسروں کی زندگیوں سے کھیلنے کا حق کسی کو نہیں دیا جا سکتا ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے ٹرانسپورٹرز خواہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ ہو یا سکولز کالجز کیلئے استعمال ہونیوالی ویگن اور بسیں کی حوصلہ شکنی کی جائے جو مسافروں اور طالبعلموں کو بھیڑ بکریاں سمجھتے ہوئے اندھا دھند اوورلوڈنگ کرتے اور سنگین حادثات جنم دینے کا سبب بنتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1