کرپشن‘ ناقص پالیسیاں آٹا بحران کی بڑی وجہ‘ آئندہ سیزن اہم

  کرپشن‘ ناقص پالیسیاں آٹا بحران کی بڑی وجہ‘ آئندہ سیزن اہم

  



نورپورنورنگا(نامہ نگار)آٹے کے بحران پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی مختلف شخصیات سے روزنامہ پاکستان کے فورم میں اسباب جاننے کی کوشش کی گئی ہے،پاکستان کسان اتحاد بھاولپور کے صدر ملک عباس کلیار کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال موسمیاتی تغیر کی وجہ سے ایک تو گندم(بقیہ نمبر56صفحہ7پر)

کی اوسط پیدوار کمی آئی تھی،اس کے بعد نجی شعبہ کی ایک مخصوص لابی کو نوازنے کیلئے سرکاری خریداری دیر سے شروع کی گئی،پرائیویٹ سیکٹرنے کسان سے من مرضی کے ریٹ پرجب گندم خرید لی تو تب جاکر فوڈ سنٹر اور پاسکو گودام میں گندم کی سرکاری خریداری شروع کی گئی،جس کی وجہ سے اکثر سنٹرز اپنے ٹارگٹ مکمل نہ کرسکے،ترقی پسند کاشتکارخواجہ زبیر حمید کا کہنا تھا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کہتی رہی کہ گندم کم ہے اس لیئے اس کی برآمد کی اجازت نہ دی جائے،مگر فروری 2019ء میں 5 لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کا فیصلہ ہوامگر پھر تجویز سامنے آئی کہ ایسا نہ کیا جائے،مگر جون میں حکومت نے پابندی کی اس تجویز کو مسترد کردیا،اس کے ایک ماہ بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گندم کی برآمد پر پابندی عائد کردی،ستمبر میں گورنمنٹ نے خود بھی گندم کی برآمد پر پابندی عائد کی مگر اس پابندی لگانے نہ لگانے کی کشمکش کے دوران 396814 ٹن گندم باہر فروخت کردی گئی،1300 روپیمن خریدی گئی گندم 1144 روپے من فروخت کی گء ایکسپورٹر کو اس کا نقصان پورا کرنے کیلئے 150 ڈالر فی ٹن سبسڈی دے کر قومی خزانے کو 9 ارب کا نقصان پہنچایا گیا،معروف قانون دان خواجہ زبیر عاشق ایڈوکیٹ کا کہنا تھا اے سی کمروں میں بیٹھ کر زرعی پالیسیاں بنانی والی شخصیات ملکی زراعت کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں،اب جو 3 لاکھ ٹن گندم 1800روپے من کے حساب سیدرآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے وہ انتہائی غلط ہے کیونکہ ایک تو اس سے قومی خزانے کو پانچ ارب روپے کا نقصان ہوگا اس کے علاوہ وہ ملک میں تب پہنچے گی جب ملکی گندم جو اوائل اپریل میں آجانی ہے مارکیٹ میں آچکی ہوگی اور اس درآمدی گندم کی وجہ سے کاشتکار کی گندم کاسرکاری طور پر کوئی خریدار نہ ہوگاجس کی وجہ سے نجی شعبہ کو کاشتکار سے اونے پونے داموں خرید کر سمگلنگ کرنے کا بھر پورموقع ملے گا جبکہ سرکاری خریداری مراکز اپنی سخت پالیسیوں کی وجہ سے مطلوبہ ٹارگٹ حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے اور اس سے آنے والے سال میں بھی یہی صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ علاقائی سماجی شخصیت نازک خان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ 15 اپریل سے فوڈ سنٹرز اور پاسکو گودام میں گندم کی خریداری شروع کردینی چاہیئے تاکہ ایک تو کاشتکارسیپرائیویٹ سیکٹرگندم کی اونے پونے داموں خریداری کرکے انہیں لوٹ نہ سکے،علاقائی سیاسی شخصیت شاہد ارشد کا کہنا تھا کہ بروقت اور بھر پورطور پرسرکاری مراکزپر خریداری سے آنے والے وقت میں اس طرح کے بحران پیدا نہ ہوں گے،اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری خریداری مراکز میں خریداری کا طریقہ کارکو بھی آسان بنایا جائے کیونکہ وہاں پر ملک بھر کیلئے گندم پیدا کرنے والا کاشتکار لائنوں میں لگ کر ذلیل و خوار ہورہا ہوتا ہے اور اسے بار دانہ ہی نہیں ملتاجس کی وجہ سے وہ پرائیویٹ سیکٹر میں سستے داموں گندم بیچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

اہم

مزید : ملتان صفحہ آخر