نادرا سے رپورٹ نہ ملنے پر غلطی سے جیل جانیوالی خاتون کے کیس کی سماعت 18فروری تک ملتوی

نادرا سے رپورٹ نہ ملنے پر غلطی سے جیل جانیوالی خاتون کے کیس کی سماعت 18فروری ...

  



ملتان (خبر نگار خصوصی)ہائیکورٹ ملتان بنچ کے جج مسٹر جسٹس محمد وحید خان نے غلطی سے جیل جانے والی خاتون زبیدہ خانم کی نادرا سے(بقیہ نمبر62صفحہ7پر)

رپورٹ موصول نہ ہونے اور اینٹی کرپشن عدالت کا ریکارڈ نہ ملنے کی وجہ سے اپیل کی سماعت 18 فروری تک ملتوی کردی ہے۔ فاضل عدالت میں پٹیشنر کے وکیل بیرسٹر ریحان خالد جوئیہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ اینٹی کرپشن مظفرگڑھ نے محکمہ تعلیم کی خاتون ٹیچر شازیہ بھٹی اس کی ہمشیرہ فریدہ خانم، والد احمد علی اور خاوند عبدالرحمان کے خلاف 419 469 اور 471 کا مقدمہ درج کیا کیونکہ فریدہ خانم ایلیمنٹری ٹیچر کے طور پر بھرتی ہوئی مگر اس کی جگہ شازیہ بھٹی ڈیوٹی دیتی رہی اور تنخواہ وصول کرتی رہی 2 مارچ 2017 کو اسپیشل جج اینٹی کرپشن نے ملزمہ کو زیر دفعہ 471 دو سال قید چار ہزار روپے جرمانہ زیر دفعہ 468 دو سال قید چار ہزار جرمانہ اور زیر دفعہ 419 بھی دو سال کے چار ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی اور باقی تینوں ملزمان کو بری کردیا تھا لیکن پولیس نے فریدہ خانم کو شازیہ بھٹی سمجھ کر گرفتار کرلیا اور اسے جیل بھجوا دیا گیا جس پر ہائیکورٹ میں رٹ دائر ہوئی اور عدالت عالیہ نے فریدہ خانم کی حراست کو غیرقانونی قرار دے کر اسے رہا کرنے کا حکم دیا جب کہ شازیہ بھٹی کی عبوری ضمانت بھی منظور کرلی فاضل عدالت نے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو ہدایت کی کہ وہ فریدہ خانم کا شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور بائیو میٹرک تصدیق کرائیں کہ وہ واقعی فریدہ خانم ہے لیکن نادرا نے تاحال اپنی رپورٹ ارسال نہ کی ہے اور نہ ہی اینٹی کرپشن عدالت سے مقدمہ کا ریکارڈ موصول ہوا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر