خانیوال‘ سرسید ایکسپریس ٹریک سے اتر گئی‘ ریلوے افسروں کی دوڑیں

خانیوال‘ سرسید ایکسپریس ٹریک سے اتر گئی‘ ریلوے افسروں کی دوڑیں

  



ملتان‘خانیوال (نمائندہ خصوصی‘ نمائندہ پاکستان) پاکستان ریلوے میں نیا سال بھی تبدیلی نہ لا سکا، حادثات میں مسلسل اضافہ،ٹریفک افسران اور شعبہ انجینئرنگ و مکینکل کی غفلت،رواں ماہ کے دوران ٹرینیں پٹری پر چلنے کی بجائے اترنے لگیں،ایک ہفتے کے دوران ملتان ڈویژن(بقیہ نمبر45صفحہ7پر)

میں مال گاڑی اور سرسید ایکسپریس کانٹا تبدیلی کے دوران ٹریک سے اتر گئی،گزشتہ روز کراچی سے راولپنڈی جانے والی سر سید ایکسریس خانیوال کے قریب ٹریک سے اتر گئی،مسافر محفوظ تفصیل کے مطابق پاکستان ریلوے کے لئے نیا سال بھی تبدیلی نہیں لا سکا،ریلوے حادثات میں کمی آنے کی بجائے پہلے مہینے میں ہی ٹرینیں ٹریک پر چلنے کی بجائے ڈی ریل ہونا شروع ہو گئی ہیں،جس کے باعث مسافروں نے بھی ریل کے سفر کو خطرناک قرار دے دیا ہے،ریلوے ملتان ڈویژن میں ایک ہفتے کے دوران ٹرینیں ٹریک سے اترنے کے دو واقعات ہوئے جس میں ریلوے کی بوگیاں تباہ ہوئیں جبکہ ٹریک کو بھی شدید نقصان ہوا،گزشتہ روز بھی کراچی سے راولپنڈی جانے والی سر سید ایکسپریس کی پاوروین اورسامان والی بوگی خانیوال کے قریب کانٹا بدلنے کے دوران ٹریک سے اتر گئی دونوں بوگیوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ اپ اور ڈاون سائیڈ ٹرینیں گھنٹوں تاخیر کا شکار ہو گئیں البتہ ٹرین میں موجود مسافر محفوظ رہے اسی طرح 21 جنوری کو یوسف والا کوئلہ چھوڑ کر آنے والی مال گاڑی جہانیاں کے قریب کانٹا تبدیلی کے دوران ٹریک ٹوٹنے کے باعث اتر گئی تھی جس سے انجن اور بوگیوں کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ دو روز قبل خیر پور کے قریب بزنس ٹرین کی 6 بوگیاں ٹریک سے اتر گئیں جس میں مسافر محفوظ رہے تاہم بوگیوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ٹریک بھی 500میٹر تک تباہ ہو گیا جس سے اپ اور ڈاون ٹریک پر ٹریفک شدید متاثر رہی، گزشتہ روز خانیوال میں سرسید ایکسپریس کے ڈی ریل ہونے کے بعد ڈی ایس ریلوے ملتان ڈویژن شعیب عادل دیگر افسران کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور ٹریک کی بحالی کیلئے کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا جبکہ دوسری جانب شدید سردی میں مسافر خوار ہوتے رہے مسافروں کا کہنا تھا جب سے تبدیلی سرکار آئی ہے حادثات میں اضافہ ہو گیا ہے اب ریل سے سفر کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔

دوڑیں

مزید : ملتان صفحہ آخر