گیلانی لاء کالج‘ طلباء تنظیمیں آمنے سامنے‘ فائرنگ‘ توڑ پھوڑ‘ 1زخمی

      گیلانی لاء کالج‘ طلباء تنظیمیں آمنے سامنے‘ فائرنگ‘ توڑ پھوڑ‘ 1زخمی

  



ملتان(سٹاف رپورٹر، وقائع نگار) بہاالدین زکریا یونیورسٹی انتظامیہ کے موثر سکیورٹی کے دعووں کا پول کھل گیا‘ بدنظمی‘ ہنگامہ آرا‘ لڑائی جھگڑوں اور فائرنگ کے واقعات کی روک تھام نہ ہو(بقیہ نمبر41صفحہ12پر)

سکی‘ اسلحہ کی موجودگی‘یونیورسٹی ایک بار پھرفائرنگ سے گونج اٹھی، ایک طالب علم شدید زخمی ہوگیا، پشتوں طلبا نے توڑ پھوڑ کی، گیٹ بند کردیا، یونیورسٹی انتظامیہ نے پولیس طلب کرلی، مقدمہ درج کرلیا گیا،سرچ آپریشن کرانے کافیصلہ کرلیا گیا۔ تفصیل کے مطابق زکریا یونیورسٹی گزشتہ روز ایک بار پھر فائرنگ سے گونج اٹھی‘گیلانی لا کالج میں پی ایس ایف اورپشتون طلبا آپس میں لڑ پڑے اور اسلحہ نکل آیا، بتایا گیا ہے کہ ایک کنٹین پر پشتون سٹوڈنٹس کونسل اور پی ایس ایف کے طلبا کے درمیان جھگڑا ہوگیا‘تلخ کلامی کے بعد ایاز حید ر شاہ، صہیب چانڈیہ، رائے بابر علی، خواجہ نعمان اور وقاص گجر گاڑی میں سوار ہوکر لا کالج چلے گئے جس کے بعد پشتون طلبا امیراللہ، ندیم خان، زاہد خان، وکیل خان، مصطفیٰ خان عرفان خان، سلطان خان موٹر سائیکل پرسوار ہوکر ان کے پیچھے پہنچ گئے جن کو دیکھ کر ایاز حیدر نے گاڑی سے اتر کر فائر کئے اورایک گولی زاہد خان کی ٹانگ پر لگی جس کے بعد وہ اپنے ساتھیوں سمیت بھاگ کرلا کالج کے اندر گھس گیا، فائرنگ کی اطلاع پر مزید 40سے زائد پشتوں طلبا موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے توڑ پھوڑ شروع کردی۔صہیب کی گاڑی مکمل طور پر تبادہ کردی، دیگر گاڑیوں کوبھی نقصان پہنچایا جبکہ طلبا وطالبا ت کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے موبائل فون چھین لئے، روکنے والے سیکورٹی اہلکاروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا، بعد ازں مظاہرین لاکالج کا گیٹ توڑ کر اندر گھس گئے اور توڑ پھوڑ کی جبکہ ایک طالب علم جنید کو تشدد کرکے زخمی کردیا اوراحتجاج کرتے ہوئے دوگیٹس بند کردئے جس کی وجہ سے ٹریفک رک گئی۔ انتظامیہ نے پولیس کو طلب کرلیا جس نے آکر حالات کنٹرول کئے، دریں اثنا اطلاع کے مطابق پولیس نے یونیورسٹی انتظامیہ کی درخواست پر مقدمہ درج کرلیا اورایک ملزم صہیب چانڈیہ کو گرفتار کرلیا جبکہ دیگر کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں، دوسری طرف پشتون طلبا کا کہنا ہے کہ ان کی درخواست پر مقدمہ درج نہیں کیاگیا۔ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی‘بندہ ہمارا زخمی ہوا اورہمیں ہی ملزم بنایا جارہا ہے، جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس و اقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ کو بھی تمام حالات سے آگاہی دیدی گئی ہے۔سرچ آپریشن کرکے مجرمانہ کردار والے افراد سے یونیورسٹی کاکو پاک کیا جائے گا، دوسری طرف اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن نے بھی فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے عہدیداران ڈاکٹر عبدالستار ملک اور ڈاکٹر خاور نوازش نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ غنڈہ گرد عناصر کو فوری طور پر یونیورسٹی سے نکالا جائے. جامعہ زکریا میں طلباتنظیموں کے درمیان جھگڑا معمول بن چکا ہے اور اس کے نتیجے میں یونیورسٹی کے مین گیٹس کو بلاک کرکے اساتذہ اور طلبا کو یونیورسٹی میں محصور کر دیا جاتا ہے۔ ہم ایسے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہیں اور جامعہ زکریا کے علمی ماحول کو خراب کرنے کی ہر سازش کے خلاف ہیں۔ جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی درسگاہ میں انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا جس کے بعد پوری یونیورسٹی کے طلباو طالبات میں شدید خوف وہراس پایا جارہا ہے۔یونیورسٹی کے سکیورٹی حکام اور سکیورٹی گارڈز دوبارہ امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آئے.جمعیت وائس چانسلر سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ اس وقعہ کی اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے۔ واقعہ میں غفلت برتنے والے افسران اور دہشت گردی میں ملوث طلبہ کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے۔ تمام ذمہ داران کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ اس بارے میں یونیورسٹی حکام کا کہنا ہے کہ شرپسند طلبہ کے خلاف سخت ایکشن لیاجائے گا اور یونیورسٹی میں امن وامان کو یقینی بنایاجائے گا۔دریں اثنا بہا الدین زکریا یونیورسٹی میں طلبہ تنظیموں کے درمیان جھگڑے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے پولیس تھانہ الپہ نے لڑائی جھگڑا کرنے، اقدام قتل، کار سرکار میں مداخلت کرنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ایف آئی آر میں طلباء تنظیموں کے 12 افراد کو نامزد اور 40 نامعلوم افراد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے مقدمہ یونیورسٹی کے سکیورٹی آفیسر کی مدعیت میں درج کیا گیا مقدمہ میں ایاز حیدر شاہ، صہیب چانڈیہ، رائے بابر علی، خواجہ نعمان، وقاص گجر، امیر اللہ، ندیم خان، زاہد خان، وکیل خان، مصطفی خان، عرفان خان اور سلطان خان کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر