ملک میں الیکٹرانکس کوالٹی کنٹرول سسٹم نہ سولر سیل بنانیوالی کوئی لیبارٹری، وزارت سائنس

ملک میں الیکٹرانکس کوالٹی کنٹرول سسٹم نہ سولر سیل بنانیوالی کوئی لیبارٹری، ...

  



اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے اجلاس میں سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی نے بتایا ہے کہ (بقیہ نمبر33صفحہ12پر)

ہم مصنوعات تیار کر کر کے تھک گئے کوئی محکمہ لینے کیلئے تیار نہیں چشمہ بیراج کیلئے وزارت نے اسٹریٹ لائٹس تیار کیں وزارت کی تیار کردہ سٹریٹ لائٹس زیر استعمال نہیں لائی گئیں۔پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ساجد مہدی کی زیر صدارت پاکستان کونسل فار سائنس و ٹیکنالوجی میں منعقدہوا اجلا س میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشنوگرافی، پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی ترمیمی بل زیر غورلایا گیا۔ترمیمی بل پیش کرنے والے ممبران کی اجلاس میں عدم موجودگی پر کمیٹی نے شدید اظہار ناراضگی کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہاکہ فخر امام اور ریاض فتیانہ نے وزارتوں کے رولز میں 300سے زائد ترامیم تجویز کی ہیں حکومتی اراکین نے ترامیم تجویز کرنے سے پہلے متعلقہ وزارتوں سے مشاورت نہیں کی پارلیمنٹ میں وزارتوں کے رولز کیسے بن سکتے ہیں پارلیمنٹ کا کام قانون سازی ہے رولز بنانا پارلیمنٹ کا کام نہیں رولز بنانا متعلقہ وزارت کا کام ہوتا ہے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی از سرنو ڈھانچہ سازی مکمل کر لی ہے۔سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی نسیم نواز نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ نینو ٹیکنالوجی فلٹر یو این ڈی پی نے لے لیاجبکہ ہمارے محکمے ہچکچاتے رہے پورے ملک سولر سیل بنانے کی ایک بھی لیبارٹری نہیں انہوں نے کہاکہ سولر پینل درآمد کرنے پر کوئی ڈیوٹی نہیں سولر سیلز کی درآمد پر ڈیوٹی عائد کی گئی ہے پاکستان میں تیار ہونے والے سولر پینلز مہنگے ہیں الیکٹرانکس کے حوالے سے کوالٹی کنٹرول کا سسٹم بھی پاکستان کے پاس نہیں انہوں نے کہاکہ ریفریجریٹر تک کی کوالٹی کو جانچ نہیں سکتے پاکستان 2024 میں پہلی الیکٹرانکس لیبارٹری قائم کرے گا 2024سے پہلے الیکٹرانکس مصنوعات کا معیار جانچنے کی صلاحیت بھی نہیں چار سال بعد الیکٹرانکس کے معیار کا پہلا ٹیسٹ کرنے کے قابل ہونگے۔

وزارت سائنس

مزید : ملتان صفحہ آخر