کمر تو مہنگائی نے عوام کا جینا محال کردیا،حافظ رشید پراچہ

  کمر تو مہنگائی نے عوام کا جینا محال کردیا،حافظ رشید پراچہ

  



کوھاٹ (بیورو رپورٹ) مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی اور آٹا بحران نے عوام کی کمر توڑ دی حکومت کی نااہلی اپنی جگہ ضلعی انتظامیہ بھی اس مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکا م دکھائی دیتی ہے اور انتظامیہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف اور خود ساختہ مہنگائی کرنے والوں کے خلاف کسی بھی قسم کاایکشن لینے میں تاحال کوئی عملی اقدام اٹھاتی دکھائی نہیں دیتی اس حوالے سے مختلف سیاسی اور عوامی حلقوں کا کیا کہنا ہے اس سلسلے میں مقامی نمائندوں بات کرتے ہوئے حافظ رشید پراچہ سابقہ صدر چیمبر آف کامرس کوھاٹ نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے ذخیرہ اندوزی کو نہیں قرار دیا جا سکتا البتہ حکومت کی پالیسیوں کو ضرور کہا جا سکتا ہے حکومت 800 روپے جو تھیلہ سرکاری ریٹ پر ٹرکوں کے ذریعے تقسیم کر رہی ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ فلور ملز کو پابند کریں کہ فلور ملز دکانداروں کو 800 روپے میں آٹا دے اور دکاندار عوام کو 850 روپے میں فروخت کرے اس سے لائنوں میں عوام کو خوار بھی نہیں ہونا پڑے گا حالیہ مہنگائی میں جہاں حکومت کی نالائقی شامل ہے وہیں پر انتظامیہ بھی اس نااہلی میں کچھ کم نہیں انتظامیہ صرف چند لوگوں کو لے کر بیٹھی ہے چینی مہنگی کر دی گئی ہے تو دوسری جانب کسانوں سے گنا سستے داموں خریدا جا رہا ہے حکومت عوام کے ساتھ عجیب و غریب ڈرامے کر رہی ہے حکومت اس تمام مہنگائی کی ذمہ دار ہے بغیر کسی وجہ کے قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے جو کہ عوام کے ساتھ بہت زیادتی ہے قومی تحریک کوھاٹ کے چیئرمین اور تاجر اتحاد کے صدر امیر خان آفریدی نے بتایا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ہمیشہ سے گندم کے معاملے میں ہم خود کفیل رہے ہیں بلکہ کئی بار پاکستان نے سری لنکا‘ افغانستان اور دیگر ممالک کو بھی اضافی گندم برآمد کی ہے اس بار آٹے کا بحران کیوں اور کیسے آیا اس حوالے سے میری بلکہ سب کی رائے کے مطابق حکومت میں جہانگیر ترین کی صورت میں ایک مافیا ہے آتا ہو یا چینی یا دیگر اشیائے خورد و نوش اس مافیا نیاپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے آٹا بحران میں بھی اسی مافیا کا کردار ہے اور عام بات کی جا رہی ہے کہ 200ارب روپے اس گروپ کو یومیہ مل رہا ہے آٹے بحران اور مہنگائی کے یہی لوگ ذمہ دار ہیں یہ ہمارے لیے کافی دکھ اور تکلیف کی بات ہے کہ پاکستان خصوصاً پختونخوا میں عوام آٹے کے لیے لمبی لمبی لائنوں میں دھکے کھانے پر مجبور ہیں جو کہ قابل افسوس ہے بنیادی طور پر اس تمام بحران کے پیچھے بڑے سطح کے ذخیرہ اندوز ہیں حکومت اس بات کا ڈھنڈورہ تو پیٹ رہی ہے کہ 40لاکھ ٹن گندم گوداموں میں موجود ہے اگر یہ بات سچ ہے تو اتنی بڑی مقدار میں پڑی گندم 44 کروڑ کی آبادی کے لیے بھی کافی ہے اس کے باوجود آٹے کا بحران لمحہ فکریہ اور حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے کیوں کہ آٹا ہر امیر اور غریب کے کھانے کا لازمی جز ہے جس طرح حکومت ہر سطح پر ناکام ہو چکی ہے اب اشیاء خورد و نوش کی قلت پیدا کر کے عوام کو خوار کر رہی ہے حکومت کو غریب عوام کی بد دعائیں یقینا لے ڈوبیں گی سبزیاں ہماری اپنی پیداوار ہیں ایک ڈیڑھ سال پہلے تک جو چیز 15 روپے کلو مل رہی تھی آج 80 اور 100 روپے تک پہنچ کی ہے اتنی مہنگائی پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہوئی تھی یہ حکومت اپنی تمام ناکامیوں کا نزلہ عوام پر گیرا رہی ہے حکومت جس طرح حالات پیدا کر رہی ہے لگتا ہے کہ آٹا کلو کے حساب سے فروخت ہو گا عمران خان کو جہانگیر رین مافیا نے یرغمال بنا رکھا ہے مسعود الرحمن ایڈووکیٹ صدر ملگری وکیلان نے اس سلسلے میں کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ جان چکا ہے کہ حکومت کیا کر رہی ہے حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ملک میں استحکام لائے مگر بدقسمتی سے وزیر اعظم کی ٹیم نااہل ہے اور حکومتی کام صحیح طریقے سے انجام نہیں پا رہے جس کی وجہ سے مہنگائی کا ایک طوفان آیا ہوا ہے اگر حکومت درست طریقے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی ادا کرتی تو یہ بحران نہ آتے موجودہ حکومت نے سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں کو ختم کر کے اپنی پالیسی نافذ کی ہے سابقہ دور میں ہر ضلع کی انتظامیہ ضلع کی عوام کی ضروریات کے مطابق آٹا لیتی تھی مگر اس حکومت نے آتے ہی انتظامیہ سے یہ اختیار لے لیا اس بار ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر نے آٹا نہیں اٹھایا جس کی وجہ سے یہ بحران پیدا ہوا ہے اور عمران کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے بلکہ حکومت میں بیٹھے تمام وزراء پالیسی سازی میں ناکام ہو چکے ہیں اس حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے روپے کی قیمت گر چکی ہے حکومت کی توجہ ملک اور عوام کے مسائل پر نہیں بلکہ خان صاحب کی تمام توجہ سابقہ حکومتوں کی برائیوں پر مبنی ہے ان کا کام پچھلی حکومتوں کی برائیاں کرنا ہے کیوں کہ یہ خود نااہل ہیں نالائق ہیں حکومت چلانا ان کے بس کی بات نہیں پاکستان پیپلز پارٹی کوھاٹ کے جیالے کارکن پیر تنویر شاہ نے کہا کہ چند ماہ قبل 40ہزار ٹن گندم افغانستان کو بھجوائی گئی آج ہم 70 روپے کلو باہر سے خرید رہے ہیں حکومت کے پاس کوئی پروگرام اور پلاننگ نہیں ہے ہر حکومتوں میں ایسے وزیر ہوتے ہیں جو ملزمالکان ہوتے ہیں اور اپنے ذاتی فائدے کے لیے عوام کو خوار کرتے ہیں آٹا بحران کی تمام ذمہ داری ملز مالکان اور حکومت پر عائد ہوتی ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی رٹ برقرار رہے 800 روپے بوری دے کر عوام کو لائنوں میں کھڑا نہ کریں بلکہ ایسی آٹا دکانوں میں اتنی ہی قیمت پر دیا جائے تاکہ ذخیرہ اندوزوں کی کمر توڑی جا سکے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر