ضلع خیبر، کسٹم پر یونیٹو اور این ایل سی حکام نے 34افراد سے لاکھوں پاکستانی کرنسی ضبط کرلی

ضلع خیبر، کسٹم پر یونیٹو اور این ایل سی حکام نے 34افراد سے لاکھوں پاکستانی ...

  



ضلع خیبر (بیورورپورٹ) طورخم بارڈر پر کسٹم پریونٹیو اور این ایل سی حکام نے 34 افراد سے لاکھوں پاکستانی کرنسی ضبط کر لئے، اس رقم سے سرحد پار چھوٹے کاروبار کرتے ہیں جو ان کے ساتھ زیادتی ہے رقم واپس کر دی جائے متاثرہ افراد کا موقف، سٹیٹ بنک کے فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت دس ہزار سے زیادہ پاکستانی کرنسی کی سرحد پار اجازت نہیں جسکی رو سے انہوں نے ان سے رقم ضبط کر لی ہیں، ڈی سی کسٹم طورخم اسٹیشن یاور نواز کا موقف، پاک افغان بارڈر طورخم پر مقامی افراد سے کسٹم پریونٹیو سٹاف نے ان سے لاکھو رقم ضبط کر لی واضح رہے کہ مقامی افراد ان رقم پر سرحد پار روزگار کرتے ہیں لنڈی کوتل خوگہ خیل سے تعلق رکھنے متاثرہ غزل نامی نوجوان نے بتایا کہ وہ ان رقم سے طورخم میں کاروبار کرتا ہے اور ان کاروبار کا ان کیساتھ رسید بھی ہیں ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ 34 افراد مقامی ہیں اور وہ ان رقم سے کاروبار کرتے ہیں جبکہ وہ کسی قسم کے غیر قانونی سرگرمیوں سے پاک ہیں ان کاروبار سے وہ اپنے بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی کما رہے ہیں جبکہ کسٹم پریوینٹیو سٹاف کے آنے سے مقامی افراد کا روزگار متاثر ہو رہا ہے اس حوالے سے جب کسٹم پریوینٹیو سٹاف سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بنک آف پاکستان کے فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت سرحد پار دس ہزار پاکستانی رقم لے جا سکتے ہین جبکہ اس سے زیادہ رقم پر ان کے خلاف کاروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں جبکہ بیرون ملک سے جتنی بھی فارن کرنسی لے آ سکتے ہیں جبکہ ان کو بارڈر پر ڈکلیئر کرنا لازم ہو گا اسی طرح آپ دس ہزار ڈالر یا اسکے برابر بیرون ملک کرنسی لے جا سکتے ہیں جبکہ دس ہزار تک پاکستانی کرنسی لے آنے اور لے جانے تک اجازت ہیں، متاثرہ افراد نے الزام لگایا کہ یہ رقم ان سے این ایل سی والوں نے ضبط کئے ہیں اس ضمن میں جب این ایل سی حکام سے رابطہ کیا تو ان کا اور کسٹم سٹاف دونوں کا یہ کہنا تھا کہ این ایل سی اور کسٹم حکام ایک ساتھ کام کرتی ہے این ایل سی حکام کا کام کسٹم حکام کی مدد کرنا ہے جبکہ ضبط شدہ رقم کیساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں جسکی کسٹم حکام نے بھی تصدیق کر دی واضح رہے کہ مقامی افراد کا زیادہ تر دارومدار طورخم بارڈر پر روزگار سے ہیں زیادہ تر افراد اسی روزگار سے وابسطہ ہیں مقامی لوگوں سے اس قانون پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون سے سرحد پار دونوں کو نقصان ہوگا کیونکہ یہان کے لوگ بھی افغانستان میں کاروبار کرتے ہیں اور زیادہ تر افغانی علاج معالجے اور سودا سلف کیلئے یہاں آتے ہیں اسلئے سرحد پر ایکسچینج قائم کی جائے جو پاکستانی کرنسی کو فارن کرنسی میں تبدیل کر سکے متاثرہ افراد نے بتایا کہ اگر ان کے رقم واپس نہیں کئے گئے تو وہ احتجاج کرینگے کیونکہ یہ رقم ان کی بچوں کا نوالہ ہیں جو ان سے چھینا جا رہا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید : پشاورصفحہ آخر