سینیٹ اجلاس، بچے کی پیدائش پر والدین کو رخصت، حفاظتی ٹیکوں، تحفظ ہیلتھ ورکرز بلز منظور

    سینیٹ اجلاس، بچے کی پیدائش پر والدین کو رخصت، حفاظتی ٹیکوں، تحفظ ہیلتھ ...

  



اسلام آباد (آئی این پی)سینیٹ نے بچوں کو مختلف بیماریوں سے محفوظ بنانے کیلئے ویکسینیشن، حفاظتی ٹیکوں کو لازمی قرار دینے اور ہیلتھ ورکرز کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے اسلام آ باد لازمی ٹیکہ جات اور ہیلتھ ورکرز کے تحفظ کے بل 2019 کی متفقہ طور پر منظوری دیدی،جبکہ چیئرمین سینیٹ نے ہدایت کی کہ بل صوبوں کو بھی بھیجاجائے اور ان کو لکھا جائے وہ اس بل کی فوری منظور ی دیں، اجلاس میں حکومت کی مخالفت کے باوجود بچہ کے پیدائش پر سرکاری و نجی عملہ کے ملازمین کے مدریت اور پدریت رخصت کی سہولت کیلئے قانون وضع کرنے کا بل بھی کثر ت رائے سے منظورکر لیا گیا۔حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کا بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارے قانون میں 90 دن میٹرنٹی لِیو دی جاتی ہے، پیٹرنیٹی لیو کو کم کرکے 15 دن کیا جائے۔ ایوان بالا (سینیٹ)نے ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کیخلاف مذمتی قرار داد سمیت4قرار داد یں بھی منظور کر لیں۔قرار داد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر ناروے کے سفیر کو طلب،قرآن پاک کی بے حرمتی میں ملوث افراد کیخلاف قانونی کارروائی کرنے کیلئے ناروے پر سفارتی سطح پر دباؤ ڈالا جائے۔پیر کو سینیٹ کا اجلا س چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا۔تحریک انصاف کی سینیٹر سیمی ایزدی نے قرار داد پیش کی کہ یہ ایوان سفارش کرتا ہے وفاقی حکومت کو تمام سرکاری، عمارات، ہسپتا لو ں، تفریحی و تعلیمی سہولیات کو اقوام متحدہ کنونشن برائے معذور افراد کے حقوق جسے پاکستان نے 2011میں تائید کی ہے، کے آرٹیکل9کے مطابق قابل رسائی بنائیں۔حکومت کی جا نب سے قرار داد کی عدم مخالفت پر ایوان میں قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی۔مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر جاوید عباسی نے قرار داد پیش کی کہ یہ حقیقت ہے ملتان سکھر موٹروے پر تحصیل صا د ق آباد میں 1.1ملین آبادی کو ملانے کیلئے کوئی انٹرچینج فراہم نہیں کیا گیا جس سے وہ دور دراز گدو انٹرچینج استعمال کرنے پر مجبور ہیں یا واپس ساٹھ کلو میٹر کا سفر ضلع رحیم یار خان میں اقبال آباد انٹرچینج کا فاصلہ طے کرتے ہیں،جبکہ ضلع رحیم یار خان کو موٹروے سے ملانے کیلئے مختلف مقامات پر تین انٹرچینجز فراہم کئے گئے ہیں جو ایک واضح امتیاز ہے۔ ملک کا سب سے بڑا گیس پروسیسنگ و سپلائی پراجیکٹ پاک قطر ایل این سمیت مشہور بہونگ مسجد، سیاحتی مقام بھی یہاں واقع ہیں، لہٰذا علاقے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت موضع بہونگ، تحصیل صادق آبادکو فوری انٹرچینج فراہم کرے۔وفاقی وزیر سینیٹر اعظم سواتی نے قرار داد کی مخالفت کی اور کہا فوری طور پر انٹر چینج نہیں بنایا جا سکتا،آئندہ مالی سال میں بجٹ میں مذکورہ انٹر چینج کیلئے فنڈز رکھنے کی کوشش کر یں گے۔چیئرمین سینیٹ نے قرار داد پر رائے شماری کروائی اور کثرت رائے سے قرار داد منظور کر لی۔جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے قرار داد پیش کی کہ سینیٹ ناروے میں SIANجو دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اسلاموفوبک ناروے کا ایک گروپ ہے، کے رکن کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی اور جلانے کے گھناؤنے اور نفرت انگیز عمل سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو صدمہ پہنچا، سینیٹ اس عمل کی پر زور مذمت کرتا اورمسلمانوں پر زور دیتا ہے پر امن رہیں اور نفرت پھیلانے والے اسلام فوبز سے نہ ڈریں، امن، برداشت اور عالمی اخوت کا پیغام پھیلائیں۔حکومت ناروے کے سفیر کو طلب کرکے SIANکے عمل کیخلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کرے۔قرار داد کو ایوان میں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔سینیٹر مرزا آفریدی نے مشہور شاعر اور لیجنڈری احمد فراز مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد پیش کی جسے ایوان بالا نے منظور کر لیا۔ اجلاس میں چیئرمین قائمہ کمیٹی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت سینیٹر راحیلہ مگسی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن میں پی ایچ ڈی طلبہ کیلئے قواعداور ایچ ای سی کی جانب سے لوگوں کو دئیے جانیوالے معاوضہ میں تاخیری حربوں، انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹس آ ف پاکستان کے امتیا ز ی نظام سے متعلق اور حکومتی جانب سے قومی ورثہ کو محفوظ رکھنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق بھی قائمہ کمیٹی کی رپورٹیں ایوان میں پیش کیں، اجلاس میں سینٹر جاوید عباسی کی جانب سے پیش کیا گیا دستور (ترمیمی) بل 2019کے آرٹیکل 198میں ترمیم کے بل کو دو تہائی ارکان کی ایوان میں عدم موجودگی کی وجہ سے موخر کردیا گیا، چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا یہ اچھا بل ہے، ارکان ایوان میں حاضری یقینی بنائیں، تاکہ بل کو منظور کیا جا سکے،بعدازاں سینٹ میں نیشنل کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام پر بحث کے دور ان اظہار خیال کرتے ہوئے اراکین سینٹ نے کہا نیشنل کوسٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی کا قیام سندھ، بلو چستا ن کے حقوق کی خلاف ورزی ہے، 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو بااختیار بنانا ضروری ہے، ون یونٹ توڑ کر صوبے بنائے گئے تھے، اس منصوبے پر اگر متعلقہ صوبے کے تحفظات ہیں تو وہ دور کئے جائیں، بلوچستان کی زمین وفاق ٹورازم کیلئے کیسے دے سکتا ہے،وفاق پر صوبوں پر اعتماد نہیں ہوگا تو ملک کیسے ترقی کریگا؟۔ بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے کہا 18 ویں ترمیم کے تحت بہت سے معاملات صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں،اتھارٹی کے قیام کی تجویز کا مقصد سیاحت کا فروغ اور ساحلی علاقوں کی ترقی ہے۔میری ٹائم کی وزارت بھی صوبے کی مدد کرنا چاہتی ہے، وفاقی حکومت سے بھی اس سلسلے میں جو کچھ تعاون درکار ہوا، وہ کیا جائے گا۔

سینیٹ اجلاس

مزید : صفحہ آخر