پاکستان 186ممالک کی فہرست میں 131ویں آزاد معیشت بن گیا، امریکی تھنک ٹینک

پاکستان 186ممالک کی فہرست میں 131ویں آزاد معیشت بن گیا، امریکی تھنک ٹینک

  



واشنگٹن(آن لائن)امریکی تھنک ٹینک سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مجموعی معاشی آزادی کے اسکور میں 0.6 پوائنٹ اضافہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق عدالتی کارکردگی اور املاک کے حقوق کے لیے اعلیٰ اسکورز کے ساتھ مالیاتی آزادی اور مالی صحت میں کمی دیکھی گئی جس کی وجہ سے مجموعی معاشی آزادی میں اضافہ آیا۔ہیریٹیج فاؤنڈیشن کی جانب سیمرتب کردہ اکنامک فریڈم انڈیکس 2019 میں 0 سے لے کر 100 کے اسکیل میں 55.0 پوائنٹس دیے جانے کے بعد پاکستان 186 ممالک کی فہرست میں 131 ویں آزاد معیشت بن گیا۔ٹرمپ انتظامیہ سے قریبی تعلق رکھنے والا کنزرویٹو تھنک ٹینک ہیریٹیج فاؤنڈیشن گزشتہ 25 برس سے یہ رپورٹ مرتب کررہا ہے۔خیال رہے کہ پاکستان 2018 میں بھی 54.4 اسکور کے ساتھ 131ویں آزاد معیشت تھا۔ہیریٹیج فاؤنڈیشن نے رپورٹ کیا کہ 2018 میں کاروبار میں آسانی اور حکومتی سالمیت کی وجہ سے مالی صورتحال میں نمایاں بہتری کے ساتھ پاکستان کے مجموعی اسکور میں 1.6 پوائنٹس اضافہ ہو اتھا۔یہ 2017 کے بعد ایک بڑی بہتری تھی جب پاکستان 52.8 اسکور کے ساتھ 141ویں آزاد معیشت تھا۔ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے مطابق معاشی آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی مزدوری اور جائیداد کو کنٹرول کرے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ معاشی طور پر آزاد معاشرے میں لوگ جس طرح چاہیں کام کرنے، پیداوار، استعمال اور سرمایہ کاری کرنے میں آزاد ہوتے ہیں۔ہیریٹیج فاؤنڈیشن قانون کی حکمرانی، حکومت، ریگولیٹری کارکردگی اور اوپن مارکیٹ تک رسائی کی بنیاد پر معاشی آزادی کی پیمائش کرتی ہے۔اس حوالے سے ڈیٹا سرمایہ کاروں، کاروباری اور فنانس لیڈرز، پالیسی میکرز، اکیڈمکس،صحافیوں اور اساتذہ کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔رپورٹ کے ساتھ فراہم کیے گئے حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی آبادی 19 کروڑ 73 لاکھ ہے، شرح نمو 5.3 ترقی کے ساتھ 11 کھرب ڈالر اور 5 سالہ کمپاؤنڈ سالانہ ترقی 4.3 فیصد ہے۔علاوہ ازیں پاکستان کی فی کس آمدنی 5 ہزار 3 سو 58 ڈالر، مہنگائی (سی پی آئی) 4.1 فیصد اور غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کا بہاؤ 2 ارب 80کروڑ ڈالر ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بیروزگاری 4 فیصد ہے ہے جبکہ افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ غیررسمی شعبے میں جزوی ملازمت کررہا ہے۔اس کے مطابق حکومت کے 2018، 2019 کے بجٹ میں تعمیراتی سیکٹر اور غذائی اشیا (خصوصا چینی)، توانائی، پانی اور ٹیکسٹائیلز میں سبسڈیز میں 36 فیصد تک اضافہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق درآمدات اور برآمدات کی مشترکہ قدر شرح نمو کا 25.8 فیصد ہے، اوسط ٹیرف کی شرح 10.1 فیصد ہے۔اس کے ساتھ ہی 30 جون، 2018 تک پاکستان کے 66 نان ٹیرف اقدامات نافذ تھے اور تقریباً 25 فیصد پاکستانیوں کو رسمی بینکنگ ادارے کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل ہے۔ 

  امریکی تھنک ٹینک

کرونا وائرس لاہور پہنچ گیا، 3مریض سروسز ہسپتال داخل، صوبوں کو حفاظتی اقدامات کی ہدایت، چینی سرحد پر خصوصی معائنہ ڈیسک ایئر پورٹس پر سکریننگ کا ؤنٹر قائم

لاہور (جنرل رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں کرونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کی تعداد 5 ہوگئی،3 سروسز ہسپتال لاہور جبکہ 2 نشتر ہسپتال ملتان میں زیر علاج ہیں۔ نشتر ہسپتال میں داخل دو مریضوں میں سے ایک مریض پاکستانی شہری ہے، سروسز ہسپتال میں داخل تینوں مریضوں کا تعلق چینی شہر ووہان سے ہے۔ تمام مریضوں کے سیمپل ہانک کانگ لیبارٹری کو بھجوا دئیے گئے ہیں، 24 سے 48 گھنٹوں میں رپورٹس آنے کے بعد ہی علاج کا آغاز کیا جاسکے گا، تمام مشکوک مریضوں کو آئیسولیشن اور انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔اسروسز ہسپتال لاہور میں کرونا وائرس میں مبتلا دو مریض داخل کیے گئے ہیں دونوں مریضوں کا تعلق چین سے ہے اور وہ دونوں چینی باشندے ہیں گزشتہ دنوں پاکستان آئے ایک کا نام لیلی اور دوسرے کا نام جگ جی بتایا جاتا ہے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دونوں کو گورنمنٹ آفیسرز بلاک میں رکھا گیا ہے اور ڈاکٹروں کا کہناہے کہ دونوں میں کرونا وائرسکی علامات پائی جا رہی ہے تاہم ان کے ضروری ٹیسٹ لے کر مزید تصدیق کے لئے اسلام آباد بھجوا دیے گئے ہیں سروسز ہسپتال میں میں کرونا وائرس کے مریضوں کی موجودگی کے باعث خوف و ہراس پھیل گیا ہے بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں مریض کرونا وائرس کی علامات کے ساتھ ایمرجنسی میں داخل ہوئے ڈاکٹروں نے وارڈ میں منتقل کرلیا اور کچھ وقت مریضوں کے درمیان رہے اجیسے ہی یم ایس کو ملی تو انہوں نے فوری طور پر انہیں الگ آفیسرز بلاک میں بھجوا دیا دونوں مریضوں کو تیز بخار ہے فلو بھی۔ ہے اور ڈاکٹر انہیں سوفیصد کرونا وائرس کے مریض قرار دے رہے ہیں جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جب تک رپورٹ نہیں آ جاتی تب تک ان مریضوں کو سوفیصد کرونا وائرس کے مشتبہ مریض ہی کہیں گے دوسری طرف سروسز ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم شہزاد چیمہ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے مشتبہ مریض کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز و دیگر عملے کو حفاظتی لباس مہیا کر دیا گیا ہے ڈاکٹر چیمہ نے کہا کہ سروسز ہسپتال انتظامیہ نے کرونا وائرس کے مشتبہ مریض کا علاج معالجہ کرنے والے ڈاکٹرز کو مکمل حفاظتی لباس پہنا دئیے حفاظتی لباس پی پی ای میں میں ماسک، گلوز، گوگلز بھی شامل ہیں ایم ایس نے مزید کہا ک سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی میں کرونا وائرس کاونٹر قائم کر دیا گیا حفاظتی لباس مہیا کرنے کا مقصد ڈاکٹرز و دیگر عملے کو مہلک وائرس سے بچانا ہے.ڈاکٹر سلیم چیمہ نے نے مزید کہا کہ ہم پوری طرح الرٹ ہیں ہم نے ایمرجنسی میں تمام تر انتظامات مکمل کر لیے ہیں آفیسرز بلاک کو کرونا وائرس بلاک کا درجہ بھی دیا جارہا ہے یہ بلاک اگر ایسے مریض آئے تو ان کے لیے مختص کر دیا جائے گا. دوسری طر ف کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر پاک چین سرحد پر طبی معائنہ کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے چین سے آنے والوں کو چین سے ہی ہیلتھ سرٹیفکیٹ لیکر آنا ہوگا۔ پاک چین سرحد دو فروری کو کھولی جارھی ھے اس دوران چین سے آنے والے افراد کو ہیلتھ سرٹیفکیٹ لیکر پاکستان آنا ھوگا۔پاکستان میں داخل ھونے پر بھی مسافروں کا طبعی معائنہ کیا جائے گا اس مقصد کے لیے سوست میں وفاقی وزارت صحت اور گلگت بلتستان محکمہ صحت کی جانب سے کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیا جائے گا جہاں چین سے آنے والے مسافروں کا طبعی معائنہ کیا جائے گا۔کمشنر گلگت ڈویژن عثمان احمد نے پامیر ٹائمز کو بتایا کہ پاک چین سرحد دو فروری سے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے سرحد آٹھ فروری تک کھلی رہیگی اس دوران چین میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے 150 سے زائد کنٹینرز پاکستان آئینگے۔سرحد کو اس مقصد کے تحت خصوصی طور پر کھولا جارہا ہے۔عثمان احمد کے مطابق۔ چین سے آنے والے پاکستانی باشندوں اور چینی ڈرائیوروں کو بھی ہیلتھ سرٹیفکیٹ کے بغیر پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ھوگی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ہیلتھ ریگولیشن اینڈ کورآرڈینیشن ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے عوام کو بچانے کے لیے مربوط اور موثر اقدامات کو یقینی بنا رہے ہیں،اسلام آباد سمیت تمام بڑے ائیرپورٹس پر سکریننگ کاونٹر قائم کردئیے ہیں تمام ہسپتالوں کے سربراہان کو ایمرجنسی صورت حال سے نمٹنے کیلئے اقدامات کو یقینی بنائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرونا وائرس سے بچاو کیلئے جائزہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔اجلاس میں میجر جنرل ڈاکٹر عامر اکرام سربراہ قومی ادارہ صحت ڈی جی ہیلتھ، پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر پلیتھا ماہی پالا اور تمام سرکاری ہسپتالوں کے سربراہوں نے شرکت کی، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ چین کی وزارت خارجہ کے ساتھ بیجنگ سے مسلسل رابطے میں ہیں،چینی صوبے وہان میں 500 کے قریب رجسٹرڈ طلباء ہیں جبکہ نان رجسٹرڈ کو شامل کر کے یہ تعداد 500 سے 800 کے درمیان بنتی ہے،چین نے کیرونا سے متاثرہ علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندی لگا رکھی ہے،اس وقت تک ہماری اطلاعات کے مطابق کوئی پاکستانی اس وائرس سے متاثر نہیں ہے۔ کا کرونا وائرس ایشو کے حوالے سے اہم بیان میں انہوں نے کہا ہم نے نان رجسٹرڈ طلباء کی رجسٹریشن کے لیے دو افسران مامور کر دیے ہیں اور ان کے نمبرز بھی سفارتخانے کی ویب سائٹ پر مشتہر کر دیے،پاکستانی طلباء رجسٹریش یا کسی بھی معلومات کے حصول کیلئے سفارتخانے سے رابطہ کر سکتے ہیں،ہم چین میں اپنے سفارت خانے، بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ اور پاکستان میں تعینات چین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں،ہم نے کھانا نہ ملنے کی شکایت پر بھی بیجنگ میں چین کی وزارت خارجہ سے رجوع کیا ہے انہوں نے بتایا ہے کہ سیل شدہ علاقے میں تین وقت کا کھانا بھجوا رہے ہیں،تمام احتیاطی تدابیر اپنائی جا رہی ہیں لہذا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے،وزیراعظم عمران خان نے کروناوائرس خطرے کے پیش نظر حکمت عملی بنانے بین الوزارتی اجلاس بلانے کی ہدایت کر دی وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بین الوزارتی اجلاس معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی زیر صدارت منعقد کیا جائے گا،اجلاس میں سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز اور سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری ہوابازی، صوبائی سیکرٹریز صحت اور چیئرمین این ڈی ایم اے، سرجن جنرل پاکستان آرمی و دیگر سینئر افسران بھی شرکت کریں گے، وزیراعظم آفس کی جانب سے متعلقہ وزارتوں کو مراسلہ ارسال کیا گیادوسری طرف وفاقی حکومت نے چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو کورونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کردی ہے، جبکہ وفاقی سطح پر وائرس کے پیش نظر ایمرجنسی آپریشن سیل بنایا گیا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق کورونا وائرس کھانسی، زکام اور بخار کی طرح کی علامات رکھتا ہے جس سے احتیاط صفائی ستھرائی اور پانی ابال کر زیادہ سے زیادہ پینا ہے۔ کورونا وائرس سے نمونیا جیسی علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں .وفاقی حکومت کی جانب سے لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ چینی سال کے اختتام پر 8 فروری کے بعد سے ملک میں چین سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ بڑھ جائے گا۔کورونا وائرس کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے وسیع پیمانے پر مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے، اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ایئرپورٹس، سی پورٹس اور لینڈ کراسنگ پر مسافروں کی مانیٹرنگ بڑھا دی گئی ہے۔وفاقی وزرات صحت کے مطابق ملتان کے نشتر اسپتال میں 175 چینی باشندوں کا طبی معائنہ کیا گیا جن میں سے تمام افراد صحت مند ہیں، پنجاب پولیس کے اسپیشل پروٹیکشن نے کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے اقدامات شروع کردیئے ہیں، ترجما ن پنجاب پولیس کا کہنا ہیکہ سی پیک منصوبے پر کام کرنے والے چینی باشندوں کی اسکریننگ بھی کی جائے گی۔محکمہ پولیس کی جانب سے چینی باشندوں کی سیکیورٹی پر مامور 10 ہزار پولیس اہلکاروں کو بھی ماسک فراہم کر دیے گئے، کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے متعلقہ اضلاع کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز سے بھی رابطے میں ہیں

کرونا وائرس

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک،شِنہوا)چین کے صحت حکام پیر کو نے اعلان کیا ہے کہاتوار تک ملک بھر میں نمونیا کے باعث 2744کرونا وائرس کے مریضوں کی تصدیق ہوئی جن میں سے 461کی حالت نازک ہے۔پیر کے روز قومی صحت کمیشن کے اعداد وشمار سے معلوم ہوا کہ اتوار کو 769نئے تصدیق شدہ،3806نئے مشتبہ مریض سامنے آئے اور اس بیماری کے باعث ہوبے میں 24ہلاکتیں ہوئیں۔اتوار تک نمونیا کے باعث 80ہلاکتیں ہوئیں جبکہ کل 51افراد صحت یاب ہوئے اور ابھی تک 5794مشتبہ مریض موجود ہیں۔کمیشن نے کہا ہے کہ کل 32799 افراد کو طبی طور پر چیک پائے گئے ہیں ان میں سے 583کو طبی طور پر زیر مشاہدہ رکھنے کے بعد اتوار کو فارغ کردیا گیا ہے جبکہ دیگر 30453مریض طبی طورپر زیر مشاہدہ ہیں۔اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہانگ کانگ اور مکا خصوصی اختیار علاقے اور تائیوان میں 17واقعات کی تصدیق ہوئی ہے۔ان میں سے ہانگ کانگ میں 8، مکا میں 5 اور،تائیوان میں 4۔غیرملکوں میں تھائی لینڈ میں 7،جاپان میں 3،جمہوریہ کوریا میں 3،امریکہ میں 3،ویت نام میں 2، سنگاپور میں 4، ملائیشیا 3 میں،نیپال میں 1،فرانس میں 3اور آسٹریلیا میں 4واقعات کی تصدیق ہوئی ہیں۔چین نے بہار تہوار چھٹیوں میں اتوار 2فروری تک 3دن تک توسیع کا اعلان کردیا ہے اس کا مقصد کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی کوششیں کرنا ہے۔سٹیٹ کونسل جنرل آفس نے ایک سرکلر میں کہا ہے کہ ملک بھر کی یونیورسٹیوں، پرائمری اور سکینڈری اسکولوں اور کنڈرگا رٹنز میں سمسٹر کا آغاز ملتوی کردیا گیا ہے،سمسٹر شروع کرنے کے مناسب وقت کا اعلان متعلقہ تعلیمی حکام کریں گے۔سرکلر کے مطابق یہ اقدام اجتماع کم کرنے،کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے، اور چینی عوام کی صحت کو بہتر تحفظ میں مدد دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

چین ہلاکتیں

ایگز یکٹو اتھارٹی عدالتوں کو نہیں، پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے: اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد(نیوزایجنسیاں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری کے حوالے سے درخواست نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری کا کریڈٹ پارلیمنٹ کو جاتا ہے اور پارلیمنٹ کا وقار ہر صورت برقرار رہنا چاہیے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال 26جنوری کو الیکشن کمیشن ارکان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کے سبب سندھ اور بلوچستان کے اراکین الیکشن کمیشن کے تقرر کا عمل تعطل کا شکار تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا معاملہ حل ہو گیا اور یہ کریڈٹ پارلیمنٹ، اس کے ہر رکن اور عوام کو جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس عدالت نے معاملے میں مداخلت نہیں کی اور معاملہ پارلیمنٹ پر ہی چھوڑا تھا کیونکہ پارلیمنٹ کا وقار ہمیشہ مقدم رہنا چاہیے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ میں کوئی اختلاف ہو تو بات چیت سے ہی حل ہونا چاہیے، پارلیمنٹ اور جمہوریت کی خوبصورتی یہی ہے کہ مل بیٹھ کر معاملات حل کریں۔اس موقع پر معزز چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایگزیکٹو اتھارٹی پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے، عدالتوں کو نہیں، ادارے اپنے اپنے دائرے میں کام کریں گے تو ہی ملک مضبوط ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کو اپنی اپنی انا سے اوپر ہو کر سوچنا ہو گا اور پارلیمنٹ مضبوط ہو گی تو ہی ملک مضبوط ہو گا۔عدالت نے الیکشن کمیشن کے اراکین سے متعلق درخواست نمٹادی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ

تاجر، سرمایہ کار کو آسانیاں فراہم کرنا ترجیح، مہنگائی مافیا کو نہیں چھوڑوں گا: وزیراعظم، وزیراعلٰی سندھ مرادشاہ پیر پگاڑ ا سے ملاقاتیں

کراچی،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کیلئے آسانیاں فراہم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، سازگار ماحول کی وجہ سے بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کی طرف راغب ہو رہے ہیں، ہمارا سب سے بڑا اثاثہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں جو ملک میں ترسیلات بھیجتے ہیں جس سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے، ہماری نوجوان آبادی اور خصوصاً تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان سے معروف بزنس مین عارف حبیب کی سربراہی میں قطر میں مختلف شعبوں سے وابستہ پاکستانی نڑاد اہم شخصیات سمیت کراچی میں ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی۔ملاقات میں پاکستان اور قطر کے مابین اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے خصوصاً ملک میں معیشت کے مختلف شعبے میں قطر ی سرمایہ کاری اور قطر میں پاکستانی جوانوں اور ہنر مندوں کے لئے نوکریوں کے مواقع و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ پر بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کاروباری برادری اور سرمایہ کار کو منافع بخش کاروبار کیلئے سازگار فضا کی فراہمی اور ان کیلئے آسانیاں فراہم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،کاروبار دوست معاشی پالیسیاں، استحکام اور ایز آف ڈوئنگ بزنس کے حوالے سے سازگار ماحول کی وجہ سے بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔کراچی کے تاجر وفد میں طارق معین الدین خان، سعید اللہ والی، علی حبیب، خالد منصور، بشیر جان محمد، طارق رفیع، بیرام آواری، انجم نثار، آغا شہاب احمد خان،حبیب اللہ، شیخ عمر ریحان، نسیم اختر و دیگر معروف کاروباری شخصیات موجود تھیں۔کاروباری وفد نے وزیراعظم کوتاجروں کودرپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت معاشی ترقی اوراستحکام کے لیے بھرپوراقدامات کررہی ہے تاجربرادری کے مسائل کوبتدریج حل کیا جائے گا۔وزیر اعظم سے تاجروں کے ایک وفد نے بھی ملاقات کی۔ بی ایم جی گروپ کے چیئرمین قاسم سراج تیلی اور صدر کراچی چیمبر آف کامرس بھی ملاقات میں شامل تھے جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سرمایہ کاروں کے 15 رکنی وفد نے وزیر اعظم سے علیحدہ ملاقات کی جن کی سربراہی عقیل کریم ڈھیڈی کر رہے تھے۔ملاقات میں گیس کی لوڈشیڈنگ اور فیول ایڈجسٹمینٹ چارجز پر تحفظات کا اظہار کیا گیا جبکہ تاجروں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)سے مطلق شکایتوں کے انبار لگا دیے۔دوسری طرف کراچی میں کامیاب جوان پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مافیا ملک میں پیسہ بنانے کیلئے مہنگائی کرتے ہیں، ایک ایک کو پکڑیں گے، نہیں چھوڑیں گے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بد دیانتی اور سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے ہمیشہ پروگرام ناکام ہوتے ہیں۔ ہماری حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا پروگرام نوجوانوں کیلئے ہے۔ جتنا میرٹ ہوگا، اتنا ہی یہ پروگرام کامیاب ہوگا۔ جو معاشرہ میرٹ سے ہٹتا ہے، وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ کامیاب نوجوان پروگرام میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میرٹ کا عمل ٹیلنٹ کو اوپر لاتا ہے۔ پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے لیکن ہم دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ سفارشی کلچر کی وجہ سے پاکستان پیچھے رہ گیا۔ نوجوان کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اسے اوپر اٹھاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہر ادارے کو عالمی معیار کے مطابق بنا سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارا سسٹم میرٹ کو پروموٹ نہیں کرتا۔ ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، بیرون ملک پاکستانی بہت آگے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ میں نے زندگی میں جو خواب دیکھا وہ پورا ہوا۔میرا ایک ہی خواب ہے کہ پاکستان کوعظیم ملک بناؤں۔اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ مشکل اور قوم کی آزمائش کا وقت ہے۔ میرا خواب ہے کہ پاکستان کو وہ عظیم ملک بناؤں جس کا قائداعظم اور علامہ اقبال نے خواب دیکھا تھا۔انہوں نے کہا کہ زندگی میں اچھے اور برے وقت آتے ہیں لیکن کامیاب لوگ برے وقت سے سیکھتے ہیں۔ میں کابینہ میٹنگ میں اپنے وزرا کو گھبرایا ہوا دیکھتا ہوں۔ میں انھیں بھی کہتا ہوں کہ برے وقت سے گھبرایا نہیں کرتے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں سب سے عظیم اور کامیاب شخص ہمارے نبی ؐ تھے۔ ہمیں ان کی زندگی سے سیکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی دن انھیں اقتدار نہیں دے دیا تھا۔ ہمارے پیارے نبی ؐ نے بڑا مشکل وقت گزارا لیکن مدینہ کی ریاست نے دنیا کی تاریخ بدل دی تھی۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی آئی جی سندھ کلیم امام کو تبدیل کرنے کی درخواست منظور کر لی ہے۔ذرائع کے مطابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی آئی جی کو تبدیل کرنے کے مطالبہ کی حمایت کی۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سندھ کے درمیان ملاقات میں آئی جی کیلئے زیر غور افسران میں سے کسی ایک کو تعینات کرنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ انہوں نے سندھ کابینہ کے فیصلوں اور تحفظات سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا۔بعدازاں وزیر اعظم عمران خان نے حکومتی اتحاد میں شامل گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) اور مسلم لیگ فکشنل کے سربراہ پیر پگاڑا سے کنگری ہاؤس کراچی میں ملاقات کی۔ ملاقات میں وفاقی وزراء محمد میاں سومرو، اسد عمر، فیصل واوڈا، علی زیدی، غلام سرور خان اور گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی موجود تھے۔ملاقات میں سندھ کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ترجمان وزیراعظم ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں جی ڈی اے رہنماؤں نے وزیر اعظم کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور ان کو اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات میں دیہی سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے اجرا، بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ زرائع کے مطابق پیر صاحب پگارا نے وزیر اعظم سے کہا کہ ہم آپکے اتحادی ہیں دیہی سندھ کی طرف بھی توجہ دی جائے۔سندھ کے نوجوان بڑی تعداد میں بے روزگار ہیں ان کی مایوسی دور کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ادوار میں سندھ میں ہر سطح پر تباہی کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے پیر پگارا کو یقین دہانی کرائی کہ ہم نے کامیاب نوجوان کے نام سے پروگرام کا آغاز کیا ہے۔اپنے اتحادیوں کو مایوس نہیں کرینگے۔ اس موقع پر جی ڈی اے سیکریٹری جنرل ایاز لطیف پلیجو نے وزیر اعظم سے گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سندھ کو صاف پانی دلوانے کیلئے وزیر اعظم کردار ادا کریں۔

عمران خان

پاکستان کے کسی ہسپتال میں کرونا وائرس کی تشخیص کاکوئی بندوبست نہیں

لاہور)جاویداقبال (خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے چین میں درجنوں انسانی زندگیوں کو نگلنے والا کرونا وائرس پاکستان کے دل لاہور پہنچ گیا ہے اگرچہ سروسز ہسپتال میں اس وائرس میں مبتلا ہو کر سامنے آنے والے دونوں مریضوں کا تعلق چین سے ہے اور وہ حال ہی میں پاکستان آئے ہیں مگر قابل افسوس بات یہ ہے کہ پاکستان اور خصوصی پنجاب کے اندر اور پاکستان کے دل کہلانے والے شہر لاہور کے کسی ہسپتال میں کرونا وائرس کی تشخیص اور تصدیق کے لیے نہ ہی کٹس موجود ہیں اور نہ ہی مخصوص مشینری جس کے ساتھ مریض کے سیمپل لیے جا سکیں ۔ اس کے ٹیسٹ کے لئے پنجاب کو اسلام آباد میں موجود قومی ادارہ صحت میں واقع لبارٹری کا سہارا لینا پڑے گا مگر محکمہ صحت کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس ادارہ میں بھی کرونا وائرس پہلے ٹیسٹ کے لیے مخصوص کٹس ہی موجود نہیں ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے کونے کونے میں چائنیز موجود ہیں اور جن کی تعداد ہزاروں میں ہے یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر چائنییز میں کرونا وائرس موجود ہو مگر چائنیز کے ٹیسٹ ضروری ہیں جو ایئرپورٹس پر ہونا چاہیے مگر پاکستان کے کسی ایک ایئرپورٹس پر تاحال اس ٹیسٹ کے لیے مشینری نصب کی گئی ہے اور نہ ہی ضروری آلات اور نہ ہی اس ٹیسٹ کے لیے بیرون ممالک سے کیپٹکل اور کیٹس منگوائی گئی ہیں جس سے عوام میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے یہاں تک کہ پنجاب میں بار ورڈ روڈ پر واقع صوبہ کے واحد پبلک ہیلتھ کے ادارہ میں بھی اس کرونا وائرس کے ٹیسٹ کا کوئی انتظام موجود نہیں ہے اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر ہارون جہانگیر سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس چونکہ ایک نیا وائرس ہے اس کے ٹیسٹ کے لیے کیٹز باہر سے منگوائی جارہی ہیں بیرون ممالک سے رابطہ قائم کر لیا گیا ہے حکومت پوری طرح الرٹ ہے کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں وائرس سے نپٹنے کے لیے ہر طرح کے بہترین انتظامات کیے جائیں گے تا کہ مریض کا بر وقت علاج اور تشخیص ممکن ہو سکے۔

کرونا ٹیسٹ

یورپی پارلیمنٹ کا مقبوضہ کشمیر الحاق، شہریت قانون کیخلاف 6قرار دادوں پر ووٹنگ کا فیصلہ

برسلز (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)متنازعہ شہریت ترمیمی ایکٹ اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بارے میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی بھارت کیخلاف مسلسل عالمی مہم کے بعد، یورپی یونین (EU) پارلیمنٹ نے نئی دہلی پر دباؤ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یورپی یونین پارلیمنٹ کے 751 ممبروں میں سے 626 نے دونوں امور پر چھ قراردادیں پیش کی ہیں۔ جن میں سے ایک پر 29 جنوری کو بحث ہوگی اور پھر ووٹنگ ہو گی۔ قرارداد میں اس قانون کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ واضح رہے پارلیمنٹ میں اس ہفتہ کے آغاز میں یورپین یونائیٹیڈ لیفٹ نارڈک گرین لیفٹ (جی یو ای/ این جی ایل)گروپ نے قراردادیں پیش کی ہیں، جس پربدھ کو بحث ہوگی اور اس کے ایک دن بعد ووٹنگ ہوگی۔ ہندوستان کی طرف سے اس پرکہا گیا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون مکمل طور سے ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔ ذرائع نے کہا ہے کہ ہندوستان کو امید ہے کہ اس تعلق سے شہریت ترمیمی قانون پر یورپین یونین کے مسودہ کی حمایت اور اس کا جائزہ لینے کیلئے ہندوستان سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔اس تجویز میں اقوام متحدہ کے منشور، حقوق انسانی کی آفاقی اعلامیہ کی شق 15 کے علاوہ 2015 میں دستخط کئے گئے ہندوستان - یورپین یونین اسٹریٹجک پارٹنرشپ جوائنٹ ایکشن پلان اور انسانی حقوق پر یوروپین یونین- ہندو ستا ن موضوعاتی ڈائیلاگ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں ہندوستانی حکام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنیو الے لوگوں کے ساتھ مثبت مکالمہ کریں اور ا متیا ز ی سلوک والے سی اے اے کو منسوخ کرنے کے ان کے مطالبہ پر غور کریں۔قرارد اد میں ہندوستان کے لوگوں کے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون ملک میں شہریت طے کرنے کے طریقے میں خطرناک تبدیلی کریگا۔ اس میں بغیر شہریت والے لوگوں سے متعلق بڑا بحران پوری دنیا میں پیدا ہوسکتا ہے اور یہ بڑے انسانی مصائب کی وجہ بن سکتا ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں ہندوستان میں مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت یہ ترمیمی قانون لے کر آئی ہے جس کے خلاف نہ صرف پورے ہندوستان میں مظا ہر ے ہو رہے ہیں بلکہ یہ مظاہرے اب پوری دنیا میں پھیل گئے ہیں۔

یورپی یونین پارلیمنٹ

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) شہریت ترمیمی قانون این آر سی کیخلاف احتجاج کرنیوالے طلبہ اور دیگر کیساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے معروف اداکار نصیرالدین شاہ، میرا نائیر سمیت تقریبا 300 شخصیات نے اپنے دستخطوں کیساتھ سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت میں کھلا خط جاری کیا ہے۔ اس مکتوب میں ان شخصیات نے خواتین اور طلبہ کے احتجاج کو سلوٹ کرتے ہوئے کہا دستور ہند کے اصولوں کو برقرار رکھنا ہی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہم اس قانون کیخلاف احتجاج کرنیوالوں کیساتھ ہیں۔انڈین کلچر فورم کی طر ف سے تین سوسے زائد معروف بھارتی اداکاروں،دانشوروں اوردیگر اہم شخصیات کے دستخطوں سے جاری ایک بیان میں قانون شہریت اور شہریوں کے قومی رجسٹرکو بھارت کیلئے شدید خطرہ قراردیا۔ بیان میں کہاگیا ہے ہم قانون شہریت اور این آر پی کیخلاف احتجا ج کرنیوالے طلبہ اور دیگر افراد کیساتھ کھڑے ہیں اور بھارت کے دستور جس میں متنوع معاشرے کا وعدہ کیاگیا ہے کی بالادستی کیلئے ان کی کوششوں پر انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ مصنفین انیتاڈیسائی، کرن ڈیسائی، اداکارہ رتنا، جاوید جعفری، نندیتا داس، للیت دوبے، ماہر عمرانیات اشیش نندی، سہیل ہاشمی اور شبنم ہاشمی بھی دستخط کرنیوالوں میں شامل ہیں۔

نصیر الدین شاہ

وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس (آج) منگل کو ہوگا، جس میں آئی جی سندھ کی تقرری سمیت صدر، وزیراعظم کی تنخواہوں اور مراعات ایکٹ 1975میں ترمیم پر غور کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس (آج) منگل کو وزیراعظم ہاوس میں ہوگا، جس میں 15 نکاتی ایجنڈے پرغور کیا جائے گا۔وفاقی کابینہ آئی جی سندھ کی تقرری اورتبادلے سے متعلق طریقہ کار اور صدر اور وزیراعظم کی تنخواہوں اور مراعات ایکٹ1975میں ترمیم پر غور کرے گی جبکہ گندم کی درآمد سے متعلق ای سی سی کے فیصلے کی توثیق کرے گی۔وفاقی کابینہ بھارت سے کیمیکل پیری کسائلین ایک بار درآمد کرنے کی منظوری دے گی اور ممنوعہ اورغیر ممنوعہ بوراسلحہ لائسنس جاری کرنے کے معاملے پر بھی غور کرے گی۔اوگرا کے وائس چیئرمین کی تقرری، پی آئی اے بورڈ کے ڈائریکٹرزکی نامزدگی اور بچوں کے حقوق سے متعلق قومی کمیشن کے قیام کا معاملہ ایجنڈے میں شامل ہیں، اجلاس میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیرسے متعلق وزارت ہاوسنگ کے ایم اویو کی منظوری دے جائے گی۔وفاقی کابینہ کوادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق بریفنگ دی جائے گی جبکہ 8 اور 20 جنوری کیای سی سی اجلاسوں کے فیصلوں اور 8جنوری کوکابینہ کمیٹی توانائی اجلاس کے فیصلوں کی توثیق بھی جائے گی۔

وفاقی

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تیسرا ٹی 20بارش کے باعث منسوخ

لاہور (سپورٹس رپورٹر) پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان تیسرا اور آخری ٹی ٹونٹی میچ بارش کے باعث منسوخ ہوگیا۔ پاکستان اور بنگلادیش کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان سیریز کا تیسرا اور آخری ٹی ٹونٹی میچ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جانا تھا تاہم بارش کے باعث میچ کا آغاز نہ ہوسکا اٹی ٹونٹی میچ کے دوران امپائرز نے کئی مرتبہ گراؤنڈ کا رخ کیا لیکن تواتر کے ساتھ جاری بارش کے سبب میچ شروع ہونے کا امکان پیدا نہ ہو سکا اور یوں 4 بجے تک انتظار کے بعد میچ کو منسوخ کردیا گیا، 3 میچوں پر مشتمل ٹی ٹونٹی سیریز 0-2 سے پاکستان کے نام رہی۔پہلے میچ میں گرین شرٹس نے مہمان سائیڈ کو 5 وکٹوں سے شکست دی تھی اور دوسرا میچ 9 وکٹوں سے باآسانی اپنے نام کیا تھا، عالمی رینکنگ میں پہلی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو تیسرا ٹی ٹونٹی جیتنا بھی ضروری ہے۔علا وہ ازیں پی سی بی کا کہنا ہے کہ منسوخ میچ کی ٹکٹوں کی رقم واپس مل جائے گی۔ تماشائی ٹکٹ دکھا کر کوریئر سروس کی نامزد برانچ سے پیسے لے سکیں گے۔

سیریز پاکستان کے نام

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان

بابر اعظم بہترین کھلاڑی قرار

لاہور (سپورٹس رپورٹر) قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم کو پاکستان اور بنگلا دیش کے خلاف تین ٹی ٹونٹی میچز سیریز کیبہترین کھلاڑی قرار دیدیا گیا۔میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے خلاف سیریز کے تیسرے میچ کے دوران امید نہیں تھی کہ بارش ہو جائے گی۔ جیت کا عزم لیکراسٹیڈیم پہنچے تھے۔کپتان کا کہنا تھا کہ ہوم گراؤنڈ پر سیریز کے دوران سینئر بیٹسمین شعیب ملک، محمد حفیظ نے میری بہت زیادہ مدد کی۔ دونوں سے رہنمائی لیتا رہتا ہوں۔بابر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ سیریز کے دوران قومی ٹیم کے باو?لرز نے اوورز کرائے، اس سیریز کی جیت کے بعد ٹیم کو اعتماد ملا ہے۔ یہ سیریز جیتنا ہمارے لیے ضروری تھا۔

بابر اعظم

نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج ہوگا

لاہور(این این آئی)آئندہ دو ماہ کے لئے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج (منگل) کے روز کیا جائے گا۔ گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر مانیٹری پالیسی کا اعلان کریں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پالیسی ریٹ میں کسی قسم کی تبدیلی کا امکان نہیں اور اسے 13.25فیصد پر ہی بر قرار رکھا جا سکتا ہے۔

مانیٹری پالیسی

شفا ف ٹرائل ہر شہری کا حق، ملزم کی غیر حاضری میں ٹرائل نہیں ہو سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی،جسٹس چودھری محمدمسعود جہانگیر اور جسٹس محمد امیربھٹی پر مشتمل فل بنچ نے سنگین غداری کیس کیخلاف جنرل (ر) پرویز مشرف کی درخواست کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیاہے۔فل بنچ نے 13جنوری کو اپنے مختصر فیصلے کے ذریعے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کااستغاثہ دائر کرنے کا اقدام، خصوصی عدالت کی تشکیل،18ویں آئینی ترمیم کے بعد آرٹیکل 6کا ماضی سے اطلاق اور ملزم کی عدم موجودگی میں خصوصی عدالت کے اختیارسماعت کو آئین،قانون اور اسلامی تعلیمات کے منافی قراردیتے ہوئے کالعدم کردیاتھا،عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں سنگین غداری کے ملزم کیخلاف استغاثہ دائر کرنے کیلئے سیکریٹری داخلہ کو اختیار دینے سے متعلق 29جنوری1994ء کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم کردیاہے۔فاضل بنچ نے 36صفحات پر مشتمل اپنے تفصیلی فیصلے میں اپنے مذکورہ احکامات کی وجوہات بیان کرتے ہوئے قراردیاہے کہ پرویز مشرف پر آئین معطل کرنے کا الزام لگایاگیا جبکہ آئین معطل کرنے یا اسے التواء میں رکھنے جیسے اقدامات 2010ء میں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے دستور کے آرٹیکل6میں شامل کئے گئے،آئین کے آرٹیکل12 کے تحت کسی قانون کا ماضی سے اطلاق نہیں ہوسکتا،پرویز مشرف کے 2007ء کے اقدام پر ان کے خلاف 2013ء میں سنگین غداری کا مقدمہ بنایا گیا جبکہ آئین معطل کرنے کے اقدام کو 2010ء میں آرٹیکل6میں شامل کیا گیا،خصوصی عدالت میں پرویز مشرف کے خلاف عائد کئے گئے الزامات 18 ویں آئینی ترمیم سے پہلے آرٹیکل 6 کا حصہ نہیں تھے، ان کے اس اقدام پر کارروائی آئین کے آرٹیکل12 کے منافی ہے،فاضل بنچ نے اپنے فیصلہ میں سورہ النساء، سورہ ص اور سورہ المائدہ کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے قراردیا ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں انصاف کی فراہمی کا طریقہ وضع کر دیا ہے جو شفافیت، خواہشات کی عدم پیروی اور رحم دلی پر مبنی ہے، عدالت نے اسی وجہ سے قرآنی آیات سے رہنمائی حاصل کی ہے، پرویز مشرف کیخلاف غداری کیس کا آغاز آئینی تقاضوں، ضابطوں اور قانون کے منافی اقدامات سے کیا گیا، اس لئے اس بنیا دپر کھڑاپورا سٹرکچر گر جائے گا، ایگزیکٹو کی جانب سے اٹھایا جانیوالایہ اقدام قانون کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا، پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کی کارروائی آئین کے آرٹیکل 12 کی ذیلی شق 1(اے اور بی)کے تحت غیر قانونی ہے جسے عدالت نظر انداز نہیں کر سکتی،آرٹیکل 232 آئین پاکستان کا منبع ہے جو صدر مملکت کو مخصوص حالات میں ایمرجنسی لگانے کا اختیار دیتا ہے، فاضل بنچ نے مختلف آئینی اور عدالتی حوالوں سے قراردیاہے کہ لاہور ہائی کورٹ کو پرویز مشرف کی درخواست کی سماعت اور اس پر حکم جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے،آرٹیکل 232 اور 12 کی ذیلی شق 2 کو جانچا جائے تو اسے مزید عدالتی تشریح کی ضرورت ہے، فاضل بنچ نے امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا کہ قانون اور انتظامی اقدامات کا عدالتی جائزہ لیا جاسکتاہے،قانون ساز اسمبلی کو آئین سے متصادم قانون بنانے کا اختیار نہیں ہے،آئین کے تحت شفاف ٹرائل ہرشہری کا حق ہے،کسی ملزم کی غیر حاضری میں اس کا ٹرائل نہیں ہوسکتا، کریمنل ترمیمی (سپیشل کورٹ)ایکٹ مجریہ1976ء کے سیکشن9میں خصوصی عدالت کو ملزم کی غیر حاضری میں ٹرائل جاری رکھنے کا اختیار دیاگیا جو کہ آئین سے متصادم ہے، اس لئے 1976ء کے اس قانون کے سیکشن9کو کالعدم قراردیاجاتاہے،عدالت نے قراردیا کہ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے الزام میں کارروائی اور خصوصی عدالت کے قیام کے حوالے سے کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی جو کہ آئینی تقاضہ تھا،اس طرح سے خصوصی عدالت کا قیام کریمنل لاء ترمیمی (سپیشل کورٹ)ایکٹ 1976ء کی دفعہ 4 کی خلاف ورزی ہے، عدالت نے اس سلسلے میں مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے بھی دیئے کہ وفاقی حکومت یعنی کابینہ کی منظوری کے بغیر استغاثہ دائر نہیں ہوسکتاتھا، عدالت نے قراردیا ہے کہ اس وقت کے وزیراعظم کی ہدایت پر استغاثہ دائر کیا گیا،ریکارڈ کے مطابق وزیراعظم نے استغاثہ دائر کرنے کیلئے سیکریٹری داخلہ کو 26جون2013ء کو ہدایت جاری کی جبکہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ اختیار وفاقی حکومت کو تفویض ہوچکا تھا،عدالت نے قراردیا کہ وفاقی حکومت نے 29جنوری1994ء کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کے تحت سنگین غداری کے الزام میں استغاثہ دائر کرنے کا مجاز افسر سیکریٹری داخلہ کو مقررکیا گیا تھا،2013ء میں اس وقت کے وزیراعظم نے اسی نوٹیفکیشن کی بنیاد پر سیکریٹری داخلہ کو پرویز مشرف کیخلاف استغاثہ دائر کرنے کی ہدایت کی،عدالت نے قراردیا کہ یہ ضروری تھا کہ18ویں آئینی ترمیم کے بعد سنگین غداری کی سزا کے قانون مجریہ1973ء کے سیکشن 3میں بھی ترمیم کی جاتی،سیکشن 3حکومت کے مقررکردہ مجاز افسر کو آرٹیکل6کے تحت استغاثہ دائر کرنے کااختیار دیتا ہے جبکہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ اختیار وفاقی حکومت کو منتقل ہوچکا تھا،ان حالات میں وفاقی سیکرٹری داخلہ کو استغاثہ دائر کرنے کااختیار ہی نہیں تھا،اس بنا پر 29جنوری1994ء کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم کیا جاتاہے،جس کے تحت سنگین غداری کے الزام میں استغاثہ دائر کرنے کااختیار سیکرٹری داخلہ کو دیا گیا تھا،یہ فیصلہ مسٹرجسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے تحریر کیاہے جو 36صفحات اور24پیرگرافس پر مشتمل ہے، بنچ کے دیگر دو ارکان نے مسٹر جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی سے اتفاق کیاجس کے بعد یہ متفقہ فیصلہ جاری کیا گیا۔اس عدالتی فیصلہ میں جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف استغاثہ دائر ہونے سے لے کر خصوصی عدالت کی طرف سے سنائی جانے والی سزا تک کے تمام مراحل اور اقدامات کو آئین اور قانون سے متصادم قراردے کر کالعدم کردیاگیاہے۔

لاہور ہائیکورٹ

عمران خان عوام سے کیا گیا ہر وعدہ پورا ہو گا: فردوس

اسلام آباد(نیوزایجنسیاں) معاون خصوصی اطلاعات و نشریات فردوس عاشق نے کہاہے کہ وزیراعظم عمران خان کی سندھ آمد پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی جانب سے استقبال کرنا سیاسی پختگی اور استحکام کی علامت ہے، سیاسی جماعتوں کی جانب سے عوامی مسائل کے حل سے ملک ترقی کرے گا، وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ کو صوبے کا جائزحق دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، عمران خان کا عوام کیلئے کیا گیا ہر وعدہ پورا ہوگا، وزیراعظم کے دورہ ڈیووس میں سابق حکمرانوں سے انتہائی کم اخراجات ہوئے ہیں،بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کیاہے۔پریس کانفرنس سے خطاب میں فردوس عاشق نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا سندھ آمد پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی جانب سے استقبال کرنا سیاسی پختگی اور استحکام کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری نے کاروبارمیں آسانی کیلئے حکومتی اقدامات پر اعتماد کا اظہار کیا ہے،حکومت کاروبار اور غیر ملکی سرمایہ کار کیلئے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ملاقات کی اور وفاقی حکومت کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں میں پیشرفت گفتگو ہوئی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سندھ کے نوجوان کو نوجوان پروگرام کے تحت قرضے دیں گے، تا کہ نوجوان ترقی کر سکیں اور معیشت کی بہتری کیلئے کردار ادا کریں۔پاکستان کی ترقی کیلئے سیاسی پختگی کی ضرورت ہے، اتحادی جماعتیں ہماری طاقت ہیں، عوامی ریلیف کے اقدامات میں ان کا کردار اہم ہے،اتحادیوں کے معاملات حل کرنے کیلئے کمیٹی کام کر رہی ہے، اتحادیوں کے حوالے سے سازشی عناصر کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد جاننے کیلئے بے قرار ہے،نوازشریف کی اصل مرض کی تشخیص ضروری ہے،ڈاکٹر عدنان معاونت کریں، ہر رکن پارٹی ڈسپلن کا پابند بنے۔

فردوس

حالات میں بہتری آرہی ہے، میڈیا مثبت کردار ادا کرے: وزیر داخلہ

ننکانہ صاحب (نمائندہ خصوصی)

وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کہا ہے بھارتی آرمی چیف کی دھمکیاں "جوگرجتے ہیں و ہ برستے نہیں " کے مترادف،پاکستان کا دفاع مضبوط ترین ہاتھوں میں ہے،نواز شریف جب ٹھیک ہو گے واپس آجائیں گے۔ جس معاشرہ میں انصاف نہیں ہوتا وہ ختم ہوجاتا ہے،پاکستان کی معیشت دن بدن بہتر ہورہی اور آئی سی یو سے توباہر آگئی ہے مگر ابھی ہسپتال میں ہے،انشاء اللہ بہت جلد ٹھیک ہوجائیگی،پاکستان کا 80فیصد پیسہ قرض کے سود کی ادائیگی میں جارہا ہے اور 20فیصد ترقیاتی منصوبوں پر صرف کیا جارہا ہے۔پچھلی حکومت نے ڈالر کو مصنوعی سہارا دیا ہوا تھا۔ایف اے ٹی ایف کی فہرست سے انشا اللہ جلد نکل جائیں گے، حالات بہتری کی طر ف جارہے ہیں، میڈیا مثبت کردار ادا کرے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی سی آفس میں میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کیا۔قبل ازیں بریگیڈئیر(ر) اعجاز احمد شاہ نے ڈپٹی کمشنر آفس کے کمیٹی روم میں ضلع بھر میں جاری ترقیاتی کاموں سے متعلق منعقدہ جائزہ اجلا س کی صدارت کرتے ہوئے کہا ترقیاتی سکیموں کیلئے بہترین میٹریل استعمال کیا جائے، معیار اور کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ضلع بھر میں جاری ترقیا تی منصوبے 6ارب42کروڑ کی لاگت سے مکمل کیے جائیں گے، بابا گورنانک انٹرنیشنل یونیورسٹی کے ٹینڈرز کل کھولے جائیں گے جبکہ ہم نے ٹینڈرز کھلنے سے پہلے ہی اس یونیورسٹی کی تعمیر شروع کرادی ہے جو 3سال کے عرصہ میں پایہ تکمیل تک پہنچائی جائے گی۔ اجلاس میں ممبر صوبائی اسمبلی میاں عاطف،ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد،ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اسماعیل الرحمن کھاڑک کے علاوہ دیگروفاقی،صوبائی و ضلعی انتظامیہ کے تمام محکمہ جات کے افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمدنے وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈئیر (ر) اعجاز احمد شاہ کوضلع بھر میں جاری ترقیاتی سکیموں کے بارے میں تفصیلاًآگاہ کیااور بتایا ضلع بھر کی 5اہم شاہراہوں کھیاڑے کلاں سے مانگٹانوالہ روڈ،بڑاگھر سے سیدوالہ روڈ، موڑکھنڈا سے کھیاڑے کلاں،بچیکی سے کلی موڑ جڑانوالہ فیصل آباد روڈ،بچیکی سے ظفر آباد روڈ کو بہت جلد مکمل کرلیا جائے گا۔ضلع میں 113سکیموں پر کام جاری ہے جن میں سے 33مکمل کی جاچکی ہیں اور 79پر تقریباً75فیصد کام کو مکمل کرلیا گیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈئیر (ر) اعجاز احمد شاہ نے کہا تمام متعلقہ افسران جاری ترقیاتی سکیموں کو جلد مکمل کریں۔ اگر کسی بھی سکیم میں ناقص میٹریل استعمال ہونے کی نشاندہی ہوگئی تو ٹھیکیدار اور متعلقہ محکمے کے افسران کیخلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ بعدازاں وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈئیر(ر) اعجاز احمد شاہ نے ضلع بھر میں 17تا 21 فروری انسداد پولیو مہم کے دوران ڈیوٹیاں سر انجام دینے والے محکمہ صحت کے 14ورکرز میں موٹر سائیکلوں کی چابیاں تقسیم کیں۔اس موقعہ پر انکاکہنا تھا پولیو ٹیمیں اپنی ڈیوٹیاں قومی فریضہ سمجھ کر مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپورکردار ادا کریں۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے مقامی مارکی میں پی ٹی آئی عہدیداران کی حلف برداری کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ اس موقعہ پر وزیر داخلہ کا کہنا تھا تحریک انصاف کے ورکر پارٹی کا قیمتی اثاثہ ہیں،ملک وزیر اعظم عمران خان کی قیاد ت میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے، تمام پی ٹی آئی عہدیداران عوام کی خدمت کیلئے اپنی خدمات سر انجام دیکر سرخرو ہوں تاکہ عوام پی ٹی آئی کی حکومت سے مستفید ہوسکیں۔

وفاقی وزیر داخلہ

ریلوے پاکستان کاسب سے کرپٹ ادارہ، اربوں روپے کا خسارہ ہو رہا ہے: چیف جسٹس، شیخ رشید آج سپریم کورٹ طلب

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) سپریم کورٹ نے ریلوے خسارہ کیس میں وزیر ریلویز شیخ رشید، سیکریٹری ریلویز و دیگر کو (آج) منگل کو طلب کرلیا، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ریلوے سے زیادہ کرپٹ پاکستان میں کوئی ادارہ نہیں، ریلوے میں کوئی چیز درست نہیں چل رہی، ریلوے پر سفر کرنیوالا ہر فرد خطرے میں سفر کر رہا ہے، ریلوے میں کوئی چیز درست انداز میں نہیں چل رہی، ہم آج بھی اٹھارویں صدی کی ریل چلا رہے ہیں، مسافر گاڑیوں کا حال دیکھیں۔ پیر کو چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کی،سپریم کورٹ نے ریلوے سے مطلق آڈٹ رپورٹ پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے وزارت لینے والے کو پہلے خود ٹرین پر سفر کرنا چاہیے، آپ کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہونے کے بجائے مینول ہے، ریلوے میں کوئی چیز درست انداز میں نہیں چل رہی، اس سے زیادہ کرپٹ پاکستان میں کوئی ادارہ نہیں،سٹیشن درست ہیں نہ ٹریک اور نہ ہی سگنل، ریل پر سفر کرنے والا ہر فرد خطرے میں سفر کر رہا ہے، ٹرینوں میں نہ مسافر ہیں نہ مال گاڑیاں چل رہی ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آڈٹ رپورٹ نے واضح کر دیا کہ ریلوے کو اربوں روپے کا خسارہ ہو رہا ہے، انتظامیہ سے ریلوے کا نظام چل ہی نہیں رہا۔چیف جسٹس نے وزیر ریلوے کا نام لئے بغیر ریمارکس دیے کہ ریلوے والا روز حکومت گراتا اور بناتاہے، لیکن وزارت سنبھال نہیں پا رہے، ریلوے کا پورا محکمہ سیاست میں پڑا ہوا ہے، آج بھی ہم پاکستان میں اٹھارھویں صدی کی ریل چلا رہے ہیں، جبکہ دنیا بلٹ ٹرین چلا کر مزید آگے جا رہی ہے، ریلوے میں جو آگ لگی تھی اس معاملے کا کیا ہوا؟۔ریلوے کے وکیل نے بتایا کہ معاملے پر انکوائری ہوئی اور دو افراد کے خلاف کارروائی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چولھے میں پھینکیں اپنی کارروائی، ریلوے کے سی او عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے،، اپنے سی ای او کو بلوالیں، کہاں ہیں وہ؟ وکیل ریلوے نے کہا سی ای او اس وقت لاہور میں ہیں۔وکیل ریلوے نے بتایا کہ نوٹس سابق سی او کو گیا تھا اور وہ اب موجود نہیں۔

مزید : صفحہ اول