شفا ف ٹرائل ہر شہری کا حق، ملزم کی غیر حاضری میں ٹرائل نہیں ہو سکتا: لاہور ہائیکورٹ

شفا ف ٹرائل ہر شہری کا حق، ملزم کی غیر حاضری میں ٹرائل نہیں ہو سکتا: لاہور ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی،جسٹس چودھری محمدمسعود جہانگیر اور جسٹس محمد امیربھٹی پر مشتمل فل بنچ نے سنگین غداری کیس کیخلاف جنرل (ر) پرویز مشرف کی درخواست کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیاہے۔فل بنچ نے 13جنوری کو اپنے مختصر فیصلے کے ذریعے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کااستغاثہ دائر کرنے کا اقدام، خصوصی عدالت کی تشکیل،18ویں آئینی ترمیم کے بعد آرٹیکل 6کا ماضی سے اطلاق اور ملزم کی عدم موجودگی میں خصوصی عدالت کے اختیارسماعت کو آئین،قانون اور اسلامی تعلیمات کے منافی قراردیتے ہوئے کالعدم کردیاتھا،عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں سنگین غداری کے ملزم کیخلاف استغاثہ دائر کرنے کیلئے سیکریٹری داخلہ کو اختیار دینے سے متعلق 29جنوری1994ء کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم کردیاہے۔فاضل بنچ نے 36صفحات پر مشتمل اپنے تفصیلی فیصلے میں اپنے مذکورہ احکامات کی وجوہات بیان کرتے ہوئے قراردیاہے کہ پرویز مشرف پر آئین معطل کرنے کا الزام لگایاگیا جبکہ آئین معطل کرنے یا اسے التواء میں رکھنے جیسے اقدامات 2010ء میں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے دستور کے آرٹیکل6میں شامل کئے گئے،آئین کے آرٹیکل12 کے تحت کسی قانون کا ماضی سے اطلاق نہیں ہوسکتا،پرویز مشرف کے 2007ء کے اقدام پر ان کے خلاف 2013ء میں سنگین غداری کا مقدمہ بنایا گیا جبکہ آئین معطل کرنے کے اقدام کو 2010ء میں آرٹیکل6میں شامل کیا گیا،خصوصی عدالت میں پرویز مشرف کے خلاف عائد کئے گئے الزامات 18 ویں آئینی ترمیم سے پہلے آرٹیکل 6 کا حصہ نہیں تھے، ان کے اس اقدام پر کارروائی آئین کے آرٹیکل12 کے منافی ہے،فاضل بنچ نے اپنے فیصلہ میں سورہ النساء، سورہ ص اور سورہ المائدہ کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے قراردیا ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں انصاف کی فراہمی کا طریقہ وضع کر دیا ہے جو شفافیت، خواہشات کی عدم پیروی اور رحم دلی پر مبنی ہے، عدالت نے اسی وجہ سے قرآنی آیات سے رہنمائی حاصل کی ہے، پرویز مشرف کیخلاف غداری کیس کا آغاز آئینی تقاضوں، ضابطوں اور قانون کے منافی اقدامات سے کیا گیا، اس لئے اس بنیا دپر کھڑاپورا سٹرکچر گر جائے گا، ایگزیکٹو کی جانب سے اٹھایا جانیوالایہ اقدام قانون کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا، پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کی کارروائی آئین کے آرٹیکل 12 کی ذیلی شق 1(اے اور بی)کے تحت غیر قانونی ہے جسے عدالت نظر انداز نہیں کر سکتی،آرٹیکل 232 آئین پاکستان کا منبع ہے جو صدر مملکت کو مخصوص حالات میں ایمرجنسی لگانے کا اختیار دیتا ہے، فاضل بنچ نے مختلف آئینی اور عدالتی حوالوں سے قراردیاہے کہ لاہور ہائی کورٹ کو پرویز مشرف کی درخواست کی سماعت اور اس پر حکم جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے،آرٹیکل 232 اور 12 کی ذیلی شق 2 کو جانچا جائے تو اسے مزید عدالتی تشریح کی ضرورت ہے، فاضل بنچ نے امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا کہ قانون اور انتظامی اقدامات کا عدالتی جائزہ لیا جاسکتاہے،قانون ساز اسمبلی کو آئین سے متصادم قانون بنانے کا اختیار نہیں ہے،آئین کے تحت شفاف ٹرائل ہرشہری کا حق ہے،کسی ملزم کی غیر حاضری میں اس کا ٹرائل نہیں ہوسکتا، کریمنل ترمیمی (سپیشل کورٹ)ایکٹ مجریہ1976ء کے سیکشن9میں خصوصی عدالت کو ملزم کی غیر حاضری میں ٹرائل جاری رکھنے کا اختیار دیاگیا جو کہ آئین سے متصادم ہے، اس لئے 1976ء کے اس قانون کے سیکشن9کو کالعدم قراردیاجاتاہے،عدالت نے قراردیا کہ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے الزام میں کارروائی اور خصوصی عدالت کے قیام کے حوالے سے کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی جو کہ آئینی تقاضہ تھا،اس طرح سے خصوصی عدالت کا قیام کریمنل لاء ترمیمی (سپیشل کورٹ)ایکٹ 1976ء کی دفعہ 4 کی خلاف ورزی ہے، عدالت نے اس سلسلے میں مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے بھی دیئے کہ وفاقی حکومت یعنی کابینہ کی منظوری کے بغیر استغاثہ دائر نہیں ہوسکتاتھا، عدالت نے قراردیا ہے کہ اس وقت کے وزیراعظم کی ہدایت پر استغاثہ دائر کیا گیا،ریکارڈ کے مطابق وزیراعظم نے استغاثہ دائر کرنے کیلئے سیکریٹری داخلہ کو 26جون2013ء کو ہدایت جاری کی جبکہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ اختیار وفاقی حکومت کو تفویض ہوچکا تھا،عدالت نے قراردیا کہ وفاقی حکومت نے 29جنوری1994ء کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کے تحت سنگین غداری کے الزام میں استغاثہ دائر کرنے کا مجاز افسر سیکریٹری داخلہ کو مقررکیا گیا تھا،2013ء میں اس وقت کے وزیراعظم نے اسی نوٹیفکیشن کی بنیاد پر سیکریٹری داخلہ کو پرویز مشرف کیخلاف استغاثہ دائر کرنے کی ہدایت کی،عدالت نے قراردیا کہ یہ ضروری تھا کہ18ویں آئینی ترمیم کے بعد سنگین غداری کی سزا کے قانون مجریہ1973ء کے سیکشن 3میں بھی ترمیم کی جاتی،سیکشن 3حکومت کے مقررکردہ مجاز افسر کو آرٹیکل6کے تحت استغاثہ دائر کرنے کااختیار دیتا ہے جبکہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ اختیار وفاقی حکومت کو منتقل ہوچکا تھا،ان حالات میں وفاقی سیکرٹری داخلہ کو استغاثہ دائر کرنے کااختیار ہی نہیں تھا،اس بنا پر 29جنوری1994ء کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم کیا جاتاہے،جس کے تحت سنگین غداری کے الزام میں استغاثہ دائر کرنے کااختیار سیکرٹری داخلہ کو دیا گیا تھا،یہ فیصلہ مسٹرجسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے تحریر کیاہے جو 36صفحات اور24پیرگرافس پر مشتمل ہے، بنچ کے دیگر دو ارکان نے مسٹر جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی سے اتفاق کیاجس کے بعد یہ متفقہ فیصلہ جاری کیا گیا۔اس عدالتی فیصلہ میں جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف استغاثہ دائر ہونے سے لے کر خصوصی عدالت کی طرف سے سنائی جانے والی سزا تک کے تمام مراحل اور اقدامات کو آئین اور قانون سے متصادم قراردے کر کالعدم کردیاگیاہے۔

لاہور ہائیکورٹ

مزید : صفحہ اول