گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضا فے کی گنجائش موجود ہے، محکمہ زراعت

گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضا فے کی گنجائش موجود ہے، محکمہ زراعت

  



ؒٓلاہور(لیڈی رپورٹر) محکمہ زراعت نے کہا ہے کہ گندم ہمارے ملک کی ایک اہم فصل ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو مستقل بنیاد پر پورا کرنے کیلئے گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کی گنجائش موجود ہے۔ ترجمان کے مطابق گندم کی فی ایکڑبہتر پیداوار میں زمین کی تیاری، اچھے بیج و قسم کا انتخاب، متوازن کھاد، بروقت کاشت اور جڑی بوٹیوں کی تلفی کے ساتھ ساتھ گندم کی بیماریوں کے انسداد کی بھی بہت اہمیت ہے۔پچھلے برس گندم کی پیداوار میں کمی کی وجوہات میں کنگی یا رسٹ کی بیماری شامل ہے۔ یہ مشاہدہ میں آیا ہے کہ بھوری کنگی کے پھیلاؤکیلئے موزوں ترین درجہ حرارت20 تا25،زرد کنگی کیلئے10 تا20اورسیاہ کنگی کیلئے20 تا35ڈگری سینٹی گریڈ ہیبھوری یا خاکی کنگی کا حملہ تقریباً پنجاب کے تمام اضلاع میں یکساں طور پر ہوتا ہے اور بیماری کی وبائی صورت پیدا ہونے پر پیداوار میں کمی کا باعث بنتی۔بھوری کنگی بالحاظ نقصان خطرناک ہے۔ بیماری کا حملہ عام طور پر پودے کے پتوں پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے خاکی رنگ کے دھبے لائنوں کی بجائے بے ترتیب اور منتشر ہوتے ہیں۔ بڑھوتری کی اگیتی حالت میں حملہ ہونے پر پودے کمزور ہو جاتے ہیں اور پودے کا خوراک بنانے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ بعض اوقات پیداوار میں 50 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔ گندم پر حملے کی صورت میں فی ایکڑپیداوار میں 10 سے 30 فیصد تک کمی واقع ہوتی ہے۔ وبائی حملے کی صورت میں ناقص قوت مدافعت کی اقسام گندم مزید کنگی پھیلا کر بہتر قوت مدافعت کی حامل اقسام گندم پر اثر انداز ہوکر پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہیں۔

زرد کنگی کا حملہ عام طور پر پنجاب کے شمالی اور کچھ وسطی اضلاع (راولپنڈی تا فیصل آباد) میں زیادہ ہوتا ہے۔ پچھلے سالوں میں بارانی علاقوں (اسلام آباد، فتح جنگ، چکوال، حسن ابدال، نوشہرہ اور پشاور وغیرہ) میں زیادہ ہوا ہے اور معاشی نقصان کی حد بھی زیادہ رہی ہے۔عام طور پر اس کا حملہ پتوں پر ہی ہوتا ہے جبکہ انتہائی شدید حملے کی صورت میں سٹے بھی متاثر ہوتے ہیں۔اس کی پہچان یہ ہے کہ پودے کے پتوں پر زرد رنگ کے چھوٹے چھوٹے دھبے متوازی قطاروں میں یا لائنوں میں صف بستہ ہوتے ہیں۔ وبائی حملے کی صورت میں اس کا نقصان بھوری کنگی سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔سیاہ کنگی کے حملے کی صورت میں عموماً بھورے یا کالے رنگ کے دھبے پتوں کی ڈنڈیوں یا تنے پر ظاہر ہوتے ہیں جو کہ بعد میں پھٹ جاتے ہیں اور سیاہ رنگ کا سفوف باہر نمودار ہوتا ہے۔ کاشتکار گندم کی فصل کا باقاعدگی سے معائنہ کریں اور فصل پرکنگی کے حملہ کی صورت میں پھپھوندکُش زہروں کا استعمال محکمہ زراعت (توسیع و پیسٹ وارننگ) کے مقامی فیلڈ عملہ کے مشورہ سے کریں۔

مزید : کامرس