کرونا وائرس لاہور اور ملتان بھی پہنچ گیا، 3مریض سروسز 2نشتر ہسپتال داخل،چین میں 80افراد ہلاک 461کی ہالت نازک

کرونا وائرس لاہور اور ملتان بھی پہنچ گیا، 3مریض سروسز 2نشتر ہسپتال داخل،چین ...

  



لاہور (جنرل رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں کرونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کی تعداد 5 ہوگئی،3 سروسز ہسپتال لاہور جبکہ 2 نشتر ہسپتال ملتان میں زیر علاج ہیں۔ نشتر ہسپتال میں داخل دو مریضوں میں سے ایک مریض پاکستانی شہری ہے، سروسز ہسپتال میں داخل تینوں مریضوں کا تعلق چینی شہر ووہان سے ہے۔ تمام مریضوں کے سیمپل ہانک کانگ لیبارٹری کو بھجوا دئیے گئے ہیں، 24 سے 48 گھنٹوں میں رپورٹس آنے کے بعد ہی علاج کا آغاز کیا جاسکے گا، تمام مشکوک مریضوں کو آئیسولیشن اور انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔اسروسز ہسپتال لاہور میں کرونا وائرس میں مبتلا دو مریض داخل کیے گئے ہیں دونوں مریضوں کا تعلق چین سے ہے اور وہ دونوں چینی باشندے ہیں گزشتہ دنوں پاکستان آئے ایک کا نام لیلی اور دوسرے کا نام جگ جی بتایا جاتا ہے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دونوں کو گورنمنٹ آفیسرز بلاک میں رکھا گیا ہے اور ڈاکٹروں کا کہناہے کہ دونوں میں کرونا وائرسکی علامات پائی جا رہی ہے تاہم ان کے ضروری ٹیسٹ لے کر مزید تصدیق کے لئے اسلام آباد بھجوا دیے گئے ہیں سروسز ہسپتال میں میں کرونا وائرس کے مریضوں کی موجودگی کے باعث خوف و ہراس پھیل گیا ہے بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں مریض کرونا وائرس کی علامات کے ساتھ ایمرجنسی میں داخل ہوئے ڈاکٹروں نے وارڈ میں منتقل کرلیا اور کچھ وقت مریضوں کے درمیان رہے اجیسے ہی یم ایس کو ملی تو انہوں نے فوری طور پر انہیں الگ آفیسرز بلاک میں بھجوا دیا دونوں مریضوں کو تیز بخار ہے فلو بھی۔ ہے اور ڈاکٹر انہیں سوفیصد کرونا وائرس کے مریض قرار دے رہے ہیں جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جب تک رپورٹ نہیں آ جاتی تب تک ان مریضوں کو سوفیصد کرونا وائرس کے مشتبہ مریض ہی کہیں گے دوسری طرف سروسز ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم شہزاد چیمہ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے مشتبہ مریض کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز و دیگر عملے کو حفاظتی لباس مہیا کر دیا گیا ہے ڈاکٹر چیمہ نے کہا کہ سروسز ہسپتال انتظامیہ نے کرونا وائرس کے مشتبہ مریض کا علاج معالجہ کرنے والے ڈاکٹرز کو مکمل حفاظتی لباس پہنا دئیے حفاظتی لباس پی پی ای میں میں ماسک، گلوز، گوگلز بھی شامل ہیں ایم ایس نے مزید کہا ک سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی میں کرونا وائرس کاونٹر قائم کر دیا گیا حفاظتی لباس مہیا کرنے کا مقصد ڈاکٹرز و دیگر عملے کو مہلک وائرس سے بچانا ہے.ڈاکٹر سلیم چیمہ نے نے مزید کہا کہ ہم پوری طرح الرٹ ہیں ہم نے ایمرجنسی میں تمام تر انتظامات مکمل کر لیے ہیں آفیسرز بلاک کو کرونا وائرس بلاک کا درجہ بھی دیا جارہا ہے یہ بلاک اگر ایسے مریض آئے تو ان کے لیے مختص کر دیا جائے گا. دوسری طر ف کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر پاک چین سرحد پر طبی معائنہ کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے چین سے آنے والوں کو چین سے ہی ہیلتھ سرٹیفکیٹ لیکر آنا ہوگا۔ پاک چین سرحد دو فروری کو کھولی جارھی ھے اس دوران چین سے آنے والے افراد کو ہیلتھ سرٹیفکیٹ لیکر پاکستان آنا ھوگا۔پاکستان میں داخل ھونے پر بھی مسافروں کا طبعی معائنہ کیا جائے گا اس مقصد کے لیے سوست میں وفاقی وزارت صحت اور گلگت بلتستان محکمہ صحت کی جانب سے کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیا جائے گا جہاں چین سے آنے والے مسافروں کا طبعی معائنہ کیا جائے گا۔کمشنر گلگت ڈویژن عثمان احمد نے پامیر ٹائمز کو بتایا کہ پاک چین سرحد دو فروری سے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے سرحد آٹھ فروری تک کھلی رہیگی اس دوران چین میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے 150 سے زائد کنٹینرز پاکستان آئینگے۔سرحد کو اس مقصد کے تحت خصوصی طور پر کھولا جارہا ہے۔عثمان احمد کے مطابق۔ چین سے آنے والے پاکستانی باشندوں اور چینی ڈرائیوروں کو بھی ہیلتھ سرٹیفکیٹ کے بغیر پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ھوگی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ہیلتھ ریگولیشن اینڈ کورآرڈینیشن ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے عوام کو بچانے کے لیے مربوط اور موثر اقدامات کو یقینی بنا رہے ہیں،اسلام آباد سمیت تمام بڑے ائیرپورٹس پر سکریننگ کاونٹر قائم کردئیے ہیں تمام ہسپتالوں کے سربراہان کو ایمرجنسی صورت حال سے نمٹنے کیلئے اقدامات کو یقینی بنائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرونا وائرس سے بچاو کیلئے جائزہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔اجلاس میں میجر جنرل ڈاکٹر عامر اکرام سربراہ قومی ادارہ صحت ڈی جی ہیلتھ، پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر پلیتھا ماہی پالا اور تمام سرکاری ہسپتالوں کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ چین کی وزارت خارجہ کے ساتھ بیجنگ سے مسلسل رابطے میں ہیں،چینی صوبے وہان میں 500 کے قریب رجسٹرڈ طلباء ہیں جبکہ نان رجسٹرڈ کو شامل کر کے یہ تعداد 500 سے 800 کے درمیان بنتی ہے،چین نے کیرونا سے متاثرہ علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندی لگا رکھی ہے،اس وقت تک ہماری اطلاعات کے مطابق کوئی پاکستانی اس وائرس سے متاثر نہیں ہے۔ کا کرونا وائرس ایشو کے حوالے سے اہم بیان میں انہوں نے کہا ہم نے نان رجسٹرڈ طلباء کی رجسٹریشن کے لیے دو افسران مامور کر دیے ہیں اور ان کے نمبرز بھی سفارتخانے کی ویب سائٹ پر مشتہر کر دیے،پاکستانی طلباء رجسٹریش یا کسی بھی معلومات کے حصول کیلئے سفارتخانے سے رابطہ کر سکتے ہیں،ہم چین میں اپنے سفارت خانے، بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ اور پاکستان میں تعینات چین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں،ہم نے کھانا نہ ملنے کی شکایت پر بھی بیجنگ میں چین کی وزارت خارجہ سے رجوع کیا ہے انہوں نے بتایا ہے کہ سیل شدہ علاقے میں تین وقت کا کھانا بھجوا رہے ہیں،تمام احتیاطی تدابیر اپنائی جا رہی ہیں لہذا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے،وزیراعظم عمران خان نے کروناوائرس خطرے کے پیش نظر حکمت عملی بنانے بین الوزارتی اجلاس بلانے کی ہدایت کر دی وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بین الوزارتی اجلاس معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی زیر صدارت منعقد کیا جائے گا،اجلاس میں سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز اور سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری ہوابازی، صوبائی سیکرٹریز صحت اور چیئرمین این ڈی ایم اے، سرجن جنرل پاکستان آرمی و دیگر سینئر افسران بھی شرکت کریں گے، وزیراعظم آفس کی جانب سے متعلقہ وزارتوں کو مراسلہ ارسال کیا گیا

کرونا وائرس

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک،شِنہوا)چین کے صحت حکام پیر کو نے اعلان کیا ہے کہاتوار تک ملک بھر میں نمونیا کے باعث 2744کرونا وائرس کے مریضوں کی تصدیق ہوئی جن میں سے 461کی حالت نازک ہے۔پیر کے روز قومی صحت کمیشن کے اعداد وشمار سے معلوم ہوا کہ اتوار کو 769نئے تصدیق شدہ،3806نئے مشتبہ مریض سامنے آئے اور اس بیماری کے باعث ہوبے میں 24ہلاکتیں ہوئیں۔اتوار تک نمونیا کے باعث 80ہلاکتیں ہوئیں جبکہ کل 51افراد صحت یاب ہوئے اور ابھی تک 5794مشتبہ مریض موجود ہیں۔کمیشن نے کہا ہے کہ کل 32799 افراد کو طبی طور پر چیک پائے گئے ہیں ان میں سے 583کو طبی طور پر زیر مشاہدہ رکھنے کے بعد اتوار کو فارغ کردیا گیا ہے جبکہ دیگر 30453مریض طبی طورپر زیر مشاہدہ ہیں۔اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہانگ کانگ اور مکا خصوصی اختیار علاقے اور تائیوان میں 17واقعات کی تصدیق ہوئی ہے۔ان میں سے ہانگ کانگ میں 8، مکا میں 5 اور،تائیوان میں 4۔غیرملکوں میں تھائی لینڈ میں 7،جاپان میں 3،جمہوریہ کوریا میں 3،امریکہ میں 3،ویت نام میں 2، سنگاپور میں 4، ملائیشیا 3 میں،نیپال میں 1،فرانس میں 3اور آسٹریلیا میں 4واقعات کی تصدیق ہوئی ہیں۔چین نے بہار تہوار چھٹیوں میں اتوار 2فروری تک 3دن تک توسیع کا اعلان کردیا ہے اس کا مقصد کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی کوششیں کرنا ہے۔سٹیٹ کونسل جنرل آفس نے ایک سرکلر میں کہا ہے کہ ملک بھر کی یونیورسٹیوں، پرائمری اور سکینڈری اسکولوں اور کنڈرگا رٹنز میں سمسٹر کا آغاز ملتوی کردیا گیا ہے،سمسٹر شروع کرنے کے مناسب وقت کا اعلان متعلقہ تعلیمی حکام کریں گے۔سرکلر کے مطابق یہ اقدام اجتماع کم کرنے،کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے، اور چینی عوام کی صحت کو بہتر تحفظ میں مدد دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

چین ہلاکتیں

مزید : صفحہ اول