صحت کے حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی، محمود خان

  صحت کے حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی، محمود خان

  



 پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے تھانہ گلبہار اور چلڈرن ہسپتال حاجی کیمپ کا اچانک دورہ کیا اور عوام کو خدمات اور سہولیات کی فراہمی کے عمل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اچانک دوروں کا مقصد عوام اور محکموں کو درپیش مسائل کا براہ راست جائزہ لینا ہے۔ شہریوں کی صحت و سلامتی اور معیاری خدمات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، جس کے لئے حکومت ہمہ وقت متحرک ہے، کوئی سیاسی مسئلہ درپیش نہیں، حکمرانی کی بہتری کے حوالے سے اہداف کامیابی سے حاصل کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے چلڈرن ہسپتال کے دورہ کے دوران مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور عوام کو دی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہریوں کی صحت ترجیح ہے، اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ صوبائی حکومت علاج معالجے سے متعلق غریب عوام کو درپیش مسائل سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ ان مسائل کے حل کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں۔ قبائلی اضلاع کے عوام کو صحت انصاف کارڈ کی فراہمی کا عمل شروع ہے جبکہ باقی صوبے کے عوام کو بھی جلد صحت انصاف کارڈ فراہم کر دیئے جائیں گے۔ عمران خان کے وژن کیمطابق خیبرپختونخوا کے تمام شہریوں کو صحت انصاف کارڈ کی فراہمی یقینی بنا رہے ہیں۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ نے تھانہ گلبہار کے اچانک دورہ کے دوران ایف آئی آرز کے اندراج، عوامی مسائل کے حل اور دیگر امور سے متعلق نظام کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ صوبائی حکومت امن و امان کے قیام اور جرائم کی بیخ کنی کے لئے خصوصی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ بطور وزیراعلیٰ ان کا کام ہے کہ عوامی مسائل کا براہ راست جائزہ لوں، اسی مقصد کے تحت اچانک دوروں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ عوام کو معلوم ہونا چاہئیے کہ حکومت متحرک ہے اور اداروں کو صحیح معنوں میں فعال بنا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر تھانہ میں موجود عوام کے مسائل بھی سنے اور موقع پر ہی ان کے حل کے احکاما ت جاری کئے

پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صحافیوں کے ساتھ کئے گئے وعدے اور اعلانات پورے کر رہی ہے، صحافت حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے، نظام میں اصلاحات اور بہتر حکمرانی کے حوالے سے پی ٹی آئی قیادت کے وژن پر عملدرآمد یقینی بنا ئیں گے، اس مجموعی عمل میں صحافی برادری کا کردار اہمیت کا حامل ہے، تحریک انصاف واحد سیاسی جماعت ہے جو صوبے کی تاریخ میں مسلسل دوسری بار بھاری اکثریت سے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی، ہم عوامی توقعات کے مطابق اپنے اہداف کا حصول یقینی بنائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پشاورپریس کلب کے ایگزیکٹیو اراکین کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی اور وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر نے بھی تقریب سے خطاب کیا، جبکہ صوبائی وزراء تیمور سلیم جھگڑا، اشتیاق ارمڑو دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ نو منتخب اراکین اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بحسن خوبی پوری کریں گے اور اپنی برادری کے مسائل کے حل میں کردار ادا کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صحافیوں کی بہتری کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں ہیں اور مزید بھی بہت کچھ کرنا چاہتی ہے۔ صحافت سیاست کا اہم ستون ہے جس کے بغیر کوئی بھی حکومت اچھے طریقے سے نہیں چل سکتی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صحافی مثبت تنقید کریں، ہم خوش آمدید کہیں گے، نظام میں کمزوریوں کی نشاندہی کریں ہم اصلاح کریں گے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ حکومت کے عوامی فلاح میں اٹھائے گئے اقدامات اور کاوشوں کو بھی اجاگر کریں۔ ہم نے مل کر اس صوبے کو آگے لیکر جانا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت صحافیوں سے کئے گئے وعدوں کو بتدریج پورا کر رہی ہے، ہم ایک دوسرے کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔ وزیراعلی نے اس موقع پر پشاور پریس کلب کو گرانٹ ان ایڈ کی صورت میں ڈیڑھ کروڑ روپے کی مالیت کاچیک پیش کیا، انہوں نے خیبریونین آف جرنلسٹس کو بھی پچاس لاکھ روپے کی گرانٹ ان ایڈ کا چیک فراہم کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پریس کلب پشاور کی عمارت کا مسئلہ بھی حل کیا جائیگا، پریس کلب کی انتظامیہ عمارت کی تعمیر نو چاہتی ہے یا کسی دوسری عمارت کا مطالبہ ہے، جو بھی صورتحال ہے حکومتی ٹیم کے ساتھ بیٹھ کر حتمی فیصلہ کیا جائے، حکومت تعاون یقینی بنائے گی۔ انہوں نے اس موقع پر پشاور پریس کلب کی سالانہ گرانٹ تیس لاکھ سے بڑھا کر ساٹھ لاکھ روپے کرنے کا اعلان بھی کیا، اور میڈیا کالونی کا مسئلہ صحافیوں کی خواہش کے مطابق حل کرنے کا یقین دلایا۔ محمود خان نے کہا کہ صوبائی حکومت نئے ضم شدہ اضلاع کے پریس کلبوں کو بھی گرانٹ دیں گی، اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے۔

مزید : صفحہ اول