جب تک فراڈ کرنے والے 50لوگ فارغ نہ کیے بہتری نہیں آئے گی،چیف جسٹس پاکستان،سرکاری گھر کرائے پر دینے والے افسروں کیخلاف فوجداری کارروائی کا حکم

جب تک فراڈ کرنے والے 50لوگ فارغ نہ کیے بہتری نہیں آئے گی،چیف جسٹس ...
جب تک فراڈ کرنے والے 50لوگ فارغ نہ کیے بہتری نہیں آئے گی،چیف جسٹس پاکستان،سرکاری گھر کرائے پر دینے والے افسروں کیخلاف فوجداری کارروائی کا حکم

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے سرکاری گھروں کی خلاف قانون الاٹمنٹ پر ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران رہائش پذیرافسران کی تفصیلات طلب کرلیں اور سرکاری گھرکرائے پر دینے والے افسروں کیخلاف فوجداری کارروائی کا حکم دیدیا،چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک فراڈ کرنے والے 50لوگ فارغ نہ کیے بہتری نہیں آئے گی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سرکاری گھروں کی خلاف قانون الاٹمنٹ پر ازخودنوٹس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی ،عدالت نے کہا کہ اسلام آباد کے کتنے سرکاری گھروں پر قبضہ ہے، آگاہ کیا جائے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جب تک فراڈ کرنے والے 50لوگ فارغ نہ کیے بہتری نہیں آئے گی،80فیصدافسران نے سرکاری گھر کرائے پر دے رکھے ہیں،افسران نے اپنے گھر بنا لیے لیکن سرکاری گھر چھوڑنے کو تیار نہیں۔

چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ سرکاری گھروں پر زبردستی قابض افسران بے ایمان ہیں،کیا سرکاری گھر کرائے پر دینے والے افسران نوکری پر رہنے کے قابل ہیں؟ چیف جسٹس نے سیکرٹری ہاوَسنگ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسران کو گھر دینا ہی بند کر دیں،سیکرٹری ہاﺅسنگ نے کہا کہ سرکاری گھروں کے حوالے سے کام کر رہے ہیں، اسلام آباد کے 1517 سرکاری گھروں کا قبضہ واگزار کرالیا،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ قبضہ کرنے والے افسران کےخلاف کیا کارروائی ہو رہی ہے؟ سرکاری افسران کےخلاف آپ کی کارروائی کا بھی الٹا ہی نتیجہ نکل رہا۔

سپریم کورٹ نے سرکاری گھروں میں رہائش پذیر افسران کی تفصیلات طلب کر لیںاورسرکاری گھرکرائے پر دینے والے افسروں کیخلاف فوجداری کارروائی کا حکم دیتے ہوئے ازخودنوٹس کی سماعت 2ہفتے تک ملتوی کردی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد