’کسی شرپسندکو امن سے کھیلنے کی اجازت نہیں‘،فردوس عاشق اعوان نے افغان صدراشرف غنی کو آئینہ دکھادیا

’کسی شرپسندکو امن سے کھیلنے کی اجازت نہیں‘،فردوس عاشق اعوان نے افغان ...
’کسی شرپسندکو امن سے کھیلنے کی اجازت نہیں‘،فردوس عاشق اعوان نے افغان صدراشرف غنی کو آئینہ دکھادیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھادیا۔پی ٹی ایم سربراہ پشتین کی گرفتاری پر ٹسوے بہانے والے افغان صدر کو عالمی اصول بھی یاددلا تے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہاافغان صدراشرف غنی کا بیان پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔افغان قیادت کو ایسے بیانات سے پہلے بین الاقوامی تعلقات میں عدم مداخلت کے اصولوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کئے گئے سلسلہ وار ٹویٹس میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ’پاکستان کی بہادر مسلح افواج اور غیور عوام نے اپنے لہو سے سے امن کے دیے روشن کیے ہیں۔کسی شر پسند کو امن سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔شرپسندوں کے خلاف قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔‘

انہوں نے کہاپاکستان خود مختار ریاست ہے۔آئین پاکستان سے منحرف عناصر کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی کرنا پاکستان کا قانون ہے۔ کسی اور ملک کا دوسرے ملک میں قانون کی بالادستی کے خلاف بات کرنا سفارتی تقاضوں کے منافی ہے۔

فردوس عاشق کا کہنا تھا کہ ’پاکستان خطے میں امن واستحکام کا داعی ہے۔افغانستان میں قیام امن کے مشترکہ مقصد کے حصول کیلئے ملکرکام کرنے کے خواہاں ہیں۔افغان صدراشرف غنی کی حالیہ ٹویٹ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔افغان قیادت کو ایسے بیانات سے پہلے بین الاقوامی تعلقات میں عدم مداخلت کے اصولوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔‘

واضح رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی ایم سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری پر انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے حامل ملک افغانستان کے صدراشرف غنی کو تشویش لاحق ہوگئی تھی۔ اپنے پیغام میں اشرف غنی کا کہنا تھا کہ انہیں منظور پشتین اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری پر سخت تشویش ہے، وہ اس معاملے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے ظاہر کیے گئے تحفظات کی پرزور تائید کرتے ہیں اور منظور پشتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارا خطہ شدت پسندوں اور دہشتگردکے ظلم کا شکار ہے، ایسے میں خطے کی حکومتوں کو انصاف کیلئے پر امن تحریکوں کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے، اور ان کے خلاف تشدد اور طاقت کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس طرح کی پر امن تحریکوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔

مزید : اہم خبریں /قومی