”چیف صاحب ذراءاعظم سواتی کو بلا کر پوچھیں کہ ۔۔“روف کلاسرا نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے ایسی درخواست کر دی کہ سن کر حکومتی وزیر کے ہوش اڑ جائیں گے

”چیف صاحب ذراءاعظم سواتی کو بلا کر پوچھیں کہ ۔۔“روف کلاسرا نے سپریم کورٹ کے ...
”چیف صاحب ذراءاعظم سواتی کو بلا کر پوچھیں کہ ۔۔“روف کلاسرا نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے ایسی درخواست کر دی کہ سن کر حکومتی وزیر کے ہوش اڑ جائیں گے

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم سواتی نے 2018 کے آخر میں ہمسایوں کے ساتھ جھگڑا اور پھر اسلام آباد پولیس کے سربراہ کی تبدیلی کے معاملے پر وزارت سے استعفیٰ دیا تھا اور وہ اس وقت وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے عہدے پر فائز تھے تاہم کچھ عرصہ کے بعد جب معاملہ ختم ہو گیا تو عمران خان نے انہیں پھر وزارت سونپ دی تھی۔

اس معاملے کو ایک لمبے عرصے کے بعد سینئر صحافی روف کلاسرا نے سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ پھر سے اٹھا دیاہے اور چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد کی توجہ اس طرف دلاتے ہوئے درخواست بھی کر دی ہے ۔آج صبح سپریم کورٹ میں ریلوے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس دوران شیخ رشید بھی عدالت میں پیش ہوئے ، کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا اور سخت ریمارکس بھی جاری کیے ۔

چیف جسٹس گلزار احمد کے ریمارکس پر مبنی خبر کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے سینئر صحافی روف کلاسرا نے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”چیف صاحب ذراءاعظم سواتی کو بلا کر پوچھیں ،جس کے خلافJITنے5رپورٹس سپریم کورٹ میں پیش کیں۔سزا سے بچنے کے لیے فورا استفعی دے دیا۔جونہی ثاقب نثار عہدے سے ریٹائر ہوئے اور انہیں دوبارہ وزیر بنا دیاگیا۔یہ عدالت کے ساتھ مذاق ہے ،وہ بندہ ٓآج پارلیمنٹ چلا رہا ہے جس نے سنگین جرائم پر استعفیٰ دیا تھا۔ یہ عدالت کو مذاق سمجھتے ہیں۔“

یاد رہے کہ اعظم سواتی کی رہائش گاہ کے قریب ایک غریب آدمی نیاز محمد کے ساتھ لڑائی جھگڑے کے معاملے پر ان کے بیٹے کی مدعیت میں اسلام آباد پولیس نے پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزمان نے وفاقی وزیر کے گھر پر حملہ کیا تھا۔اس مقدمے میں پولیس نے ایک بارہ سالہ لڑکے ضیا الدین کا نام بھی درج تھا تاہم سپریم کورٹ نے آئی جی کے تبادلے کا جب نوٹس لیا تو پولیس حکام نے اس کمسن ملزم کو رہا کر دیا۔

ضیا الدین کا کہنا تھا کہ ان کی گائے اعظم سواتی کے فارم ہاو¿س میں گھس گئی تھی جب انھیں واپس لے کر آئے تو مذکورہ وزیر کے کارندوں نے مبینہ طور پر انھیں تشدد کا نشانہ بنایا اور مقدمہ بھی ان ہی کے خلاف درج ہوا۔دوسری طرف وفاقی وزیر اعظم سواتی کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ان کے ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ان کا موقف تھا کہ انھوں نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی لیکن انھیں تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔معاملہ اعلیٰ سطح پر آنے کے بعد تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے اپنی انکوائری میں اعظم سواتی کو قصور وار ٹھہرایا تھا ۔

مزید : قومی