خطرناک ترین کرونا وائرس دراصل کہاں سے شروع ہوا؟ ٹیسٹ کا نتیجہ آگیا، جواب مل گیا

خطرناک ترین کرونا وائرس دراصل کہاں سے شروع ہوا؟ ٹیسٹ کا نتیجہ آگیا، جواب مل ...
خطرناک ترین کرونا وائرس دراصل کہاں سے شروع ہوا؟ ٹیسٹ کا نتیجہ آگیا، جواب مل گیا

  



بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین میں پھیلنے والے خوفناک ’کرونا وائرس‘ نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ وائرس چین کے شہر ووہان سے پھیلنا شروع ہوااور اب تک سائنسدان یہ مفروضہ قائم کیے ہوئے تھے کہ یہ ووہان کی گوشت کی مارکیٹ سے پھیلا جہاں، سانپ، چمگادڑیں، چوہے، لومڑیاں، بھیڑئیے اور دیگر ہر نوع کے جنگلی جانوروں کا گوشت فروخت ہوتا ہے۔ اب اس مفروضے کی تصدیق ہو گئی ہے اور چین کے مرکز برائے انسداد امراض (Centre for Disease Control) نے کئی ہفتے کے ٹیسٹ اور تجربات کے بعد تصدیق کر دی ہے کہ یہ تباہ کن وائرس ووہان کی گوشت کی مارکیٹ سے ہی پھیلا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق مرکز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ نیا وائرس سانپ اور چمگادڑ میں پائے جانے والے وائرسز کے ملاپ سے پیدا ہوا ہے۔ تاہم سانپ اور چمگادڑ کے وائرسز کا ملاپ کیسے ہوا، اس حوالے سے تاحال مفروضے ہی پائے جا رہے ہیں۔ چینی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر کسی سانپ نے چمگادڑ کھائی ہو گی اور پھر اس سانپ کا گوشت اس مارکیٹ میں فروخت کر دیا گیا۔ چمگادڑ کھانے سے سانپ اور چمگادڑ کے وائرسز نے اس نئے وائرس کو جنم دیا جو اس سانپ کا گوشت کھانے سے انسان میں منتقل ہو گیا۔ یہ وائرس اس قدر تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے کہ صرف ایک ماہ میں وائرس سے 3ہزار سے زائد لوگ ہسپتال پہنچ چکے ہیں اور 80افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ یہ اعدادوشمار چینی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ہیں۔ دوسری طرف طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس کے متاثرین کی تعداد 1لاکھ تک ہو سکتی ہے۔ یہ وائرس اب چین سے نکل کر امریکہ، کینیڈا، جاپان، تھائی لینڈ، تائیوان، ملائیشیاءاور ویت نام سمیت دیگر 13ممالک تک پھیل چکا ہے۔

مزید : بین الاقوامی