چینی خاتون کی چمگادڑ کھانے کی ویڈیو وائرل، لیکن یہ لڑکی دراصل کون ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں

چینی خاتون کی چمگادڑ کھانے کی ویڈیو وائرل، لیکن یہ لڑکی دراصل کون ہے؟ ...
چینی خاتون کی چمگادڑ کھانے کی ویڈیو وائرل، لیکن یہ لڑکی دراصل کون ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں

  



بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین سے پھیلنے والے ہولناک کرونا وائرس نے دنیا کو خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ وائرس سانپ کا گوشت کھانے یا چمگادڑ کا سوپ پینے سے انسانوں میں پھیلا۔ سانپ کا گوشت اور چمگادڑ کا سوپ چینی شہریوں میں بے حد مقبول ہیں۔ یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد بھی ایک چینی لڑکی نے اپنی چمگادڑ کا سوپ پینے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دی جس پر لوگوں نے اسے قتل کی دھمکیاں دینی شروع کر دی ہیں۔ دی مرر کے مطابق اس لڑکی کا نام ’وینگ منگ یون ہے۔ اس کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کسی ریسٹورنٹ میںبیٹھی ہوتی ہے اور اس کے سامنے چمگادڑ کے سوپ کا پیالہ رکھا ہوتا ہے۔ پیالے کے اوپر چمگادڑ بھی لگی ہوتی ہے جسے وینگ ہاتھ میں اٹھا کر لوگوں کو دکھاتی اور سوپ کی شان میں قصیدے پڑھتی ہے۔

مگر دنیا تو اس چمگادڑ کے سوپ سے ایسی خوفزدہ ہوئی بیٹھی تھی کہ ویڈیو پوسٹ ہوتے ہی انٹرنیٹ پر بھونچال آ گیا اور لوگوں نے وینگ کو کھری کھری سنانی شروع کر دیں۔ کئی لوگوں نے اسے قتل کی دھمکیاں دیں اور کہا کہ ایسی لڑکی کو جینے کا کوئی حق نہیں جو دنیا بھر کے خطرے میں مبتلا ہونے کے باوجود چمگادڑ کے سوپ کی تشہیر کر رہی ہے۔ شاید وینگ کو ویڈیو پوسٹ کرتے وقت اس صورتحال کا اندازہ نہیں تھا۔ جب اتنا شدید ردعمل آیا تو اس نے لوگوں سے معافی مانگتے ہوئے وضاحت پیش کی کہ یہ ویڈیو 2سال قبل بنائی گئی تھی جو اس نے اب پوسٹ کی ہے۔ چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’وائبو‘ پر وینگ نے لکھا کہ ”میں آپ سب لوگوں سے معافی مانگتی ہوں، مجھے چمگادڑ کا سوپ نہیں پینا چاہیے تھا۔ بہرحال یہ ویڈیو دو سال پرانی ہے۔ ویڈیو پوسٹ کرتے وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ چمگادڑ کے سوپ کا اس وائرس سے کوئی تعلق ہے۔ ویڈیو پوسٹ کرنے کا مقصد صرف مقامی لوگوں کی ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا تھا۔“

مزید : بین الاقوامی