”اگر ہم ایشیاءکپ کھیلے تو پھر۔۔۔“ بھارت نے بالآخر چپ کا روزہ توڑ دیا

”اگر ہم ایشیاءکپ کھیلے تو پھر۔۔۔“ بھارت نے بالآخر چپ کا روزہ توڑ دیا
”اگر ہم ایشیاءکپ کھیلے تو پھر۔۔۔“ بھارت نے بالآخر چپ کا روزہ توڑ دیا

  



نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ایشیاءکپ پاکستان میں منعقد کیا گیا تو ہم اس میں شرکت نہیں کریں گے البتہ کسی نیوٹرل مقام پر ٹورنامنٹ کھیلنے کیلئے بات چیت پر تیار ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بی سی سی آئی کے ایک افسر نے کہا کہ ”سوال یہ نہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اس کی میزبانی کر رہا ہے بلکہ مسئلہ وینیو اور موجودہ صورتحال کا ہے، یہ بہت واضح ہے کہ ہمیں اس ٹورنامنٹ میں شرکت کیلئے نیوٹرل مقام کی ضرورت ہو گی کیونکہ کسی بھی ٹورنامنٹ میں شرکت کیلئے بھارتی ٹیم کسی طرح بھی پاکستان کا دورہ نہیں کر سکتی، اگر ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) بھارت کے بغیر ایشیاءکپ کرانا چاہتی ہے تو پھر الگ بات ہے، لیکن اگر بھارت نے یہ ٹورنامنٹ کھیلنا ہے تو پھر پاکستان میں اس کا انعقاد نہیں ہو سکتا، نیوٹرل مقام پر کھیلنا ہمیشہ سے ایک آپشن رہا ہے اور ہم نے 2018ءمیں اس پر عمل بھی کیا ہے۔“

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایشیاءکپ 2018ءکی میزبانی بی سی سی آئی نے کی تھی اور یہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں کھیلا گیا تھا کیونکہ اس وقت بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی حالات کشیدہ تھے جس کے باعث بھارت میں کھیلنے کیلئے قومی کھلاڑیوں کے ویزوں کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا تھا۔

واضح رہے کہ پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) وسیم خان نے گزشتہ دنوں خبر رساں اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایشیاءکپ میں بھارت کیخلاف میچز نیوٹرل مقام پر کھیلنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ہم نہیں سمجھتے کہ بھارتی ٹیم پاکستان آئے گی، لیکن ان کیخلاف میچ یو اے ای میں کھیلنے کی آپشن موجود ہے۔

مزید : کھیل