ٹرمپ کا مشرقِ وسطیٰ میں امن پلان،مسئلہ فلسطین کا 2 ریاستی حل پیش کردیا

ٹرمپ کا مشرقِ وسطیٰ میں امن پلان،مسئلہ فلسطین کا 2 ریاستی حل پیش کردیا
ٹرمپ کا مشرقِ وسطیٰ میں امن پلان،مسئلہ فلسطین کا 2 ریاستی حل پیش کردیا

  



واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین اور اسرائیل کے مابین امن کا پلان پیش کردیا۔ ان کے منصوبے کے مطابق فلسطین اور اسرائیل دو علیحدہ ریاستیں ہوں گی، فلسطین کا دارالحکومت مشرقی یروشلم میں ہوگا جبکہ اسرائیل کی یہودی بستیوں کو تحفظ حاصل ہوگا، اس پلان کے مطابق اگلے 4 سال کیلئے یہودیوں کی آباد کاری پر پابندی عائد ہوجائے گی اور فلسطین کا علاقہ ڈبل کردیا جائے گا۔

واشنگٹن میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو سے ملاقات کے موقع پر مشرق وسطیٰ میں امن کا معاہدہ کے نام سے اپنا منصوبہ پیش کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ڈیل آف سنچری قرار دیا۔

ٹرمپ کے امن منصوبے کے مطابق مغربی کنارے میں قائم کی گئی یہودی بستیوں کو تحفظ حاصل ہوگا اور آئندہ 4 سال تک کوئی نئی یہودی بستی نہیں بسائی جائے گی ۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ فلسطین کے نئے دارالحکومت میں پورے فخر کے ساتھ سفارتخانہ کھولے گا، اس امن معاہدے کے تحت فلسطین کے اندر 50 ارب ڈالر کی کمرشل سرگرمیاں ہوں گی اور اگر اس پر ٹھیک سے عملدرآمد ہوا تو فلسطینیوں کیلئے 10 لاکھ نئی نوکریاں پیدا ہوں گی اور کوئی فلسطینی بے گھر نہیں رہے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ٹرمپ نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ نے امن منصوبے کو قبول کرکے بہت بڑا قدم اٹھایا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی رہنماﺅں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے امن معاہدے کو مسترد کردیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی اسے قبول نہ کرے۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /بین الاقوامی