بھارت میں کسانوں کا احتجاج

بھارت میں کسانوں کا احتجاج
بھارت میں کسانوں کا احتجاج

  

بھارت میں کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔ اس احتجاج کی وجہ کیا ہے اور مودی سرکار اس پر کیوں ڈٹی ہوئی ہے اور کہہ رہی ہے کہ اس کی جاری کردہ زرعی اصلاحات کو واپس لینے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تو ان دونوں نکات پر میڈیا میں سیر حاصل تبصرے اور جائزے آ چکے ہیں۔بادی النظر میں اس کالم کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن چونکہ اس احتجاج کو اب تیسرا مہینہ جا رہا ہے اور چوتھا شروع ہونے کو ہے اور نیز 26جنوری کو انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں جو کچھ ہوا اس کے اثرات کیا ہوں گے اس پر قارئین کے ساتھ چند باتیں شیئر کرنے کو جی چاہ رہا ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ یہ احتجاج صرف ہریانہ اور پنجاب کے سکھ کسانوں کی طرف سے نہیں کیا جا رہا بلکہ اس میں ہندوستان کے طول و عرض کے کسان شامل ہیں۔ انڈیا کی 67 فیصد آبادی کا پیشہ زراعت ہے اس لئے یہ اندازہ لگانے میں کچھ مشکل درپیش نہیں ہو گی کہ اگر یہ احتجاج بھارت کی تمام یا غالب کسان آبادی کی طرف سے ہے تو اس کا اظہار اس احتجاج میں دیکھنے میں نہیں آ رہا…… اس کی دو وجوہات معلوم ہوتی ہیں۔ایک تو بھارت کی آبادی کا بڑا طبقہ RSS اور ہندوتوا کے زیر اثر ہے اس لئے وہ مودی کا ساتھ چھوڑنے کو تیار نہیں۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ہندوؤں میں حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ملک گیر مثالیں موجود نہیں۔ جبکہ سکھ اس تجربے سے گزر چکے ہیں۔ جب اندرا گاندھی کی وزارت عظمیٰ کے دور میں امرتسر کے دربار صاحب پر دھاوا بول کر اس پر قبضہ کر لیا گیا تھا تو سارے وسطی اور مغربی بھارت میں گویا آگ لگ گئی تھی۔ اندرا سرکار نے اگرچہ وقتی طور پر سکھوں کے جذبات کے آگے بند باندھ لیا تھا۔ لیکن دنیا نے دیکھا کہ بہت جلد اندرا اور اس کے بیٹے کو سکھوں کے ہاتھوں قتل کا سامنا ہوا…… اور خالصتان کی تحریک کو بھی اسی دور میں زیادہ تقویت حاصل ہوئی۔

نریندر مودی بھارت کا دوسرا وزیراعظم ہے جو اس انجام کو پہنچنے کا خواہاں نظر آتا ہے۔ بھارت کے کٹر ہندوؤں نے مودی کو ہلاشیری دی ہے کہ اگر اس بار بھی یونین سرکار سکھوں کی ڈیمانڈ کے آگے جھک گئی تو ہندوتوا کا ملک گیر ایجنڈا پورا نہ ہو سکے گا۔ اس لئے آپ نے یہ بھی دیکھا کہ جس منظم طریقے سے سکھ کسانوں نے نومبر 2020ء میں احتجاج کا سلسلہ شروع کیا وہ انتظام و تنظیم بھارت کے غیر سکھ کسانوں میں دیکھنے کو نہیں ملی…… اگر ایسا ہوتا تو26جنوری کو جب دہلی پر مغرب کی طرف سے یلغار ہوئی تھی اگر مشرق کی طرف سے بھی اسی طرح کی احتجاجی یلغار کی جاتی تو مودی حکومت کے ہوش ٹھکانے آ جاتے۔ لیکن باایں ہمہ انڈیا کی سکھ برادری کی جرات و ہمت کو سلام کہنا چاہیے کہ وہ تن تنہا ان مظاہروں میں شریک رہی ہے اور ہے اور مستقبل میں اس کا کیا ہوگا اس سلسلے میں کوئی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔

دوسری بات یہ ہے کہ سکھوں کے قومی استقلال اور پامردی کی بھی ایک تاریخ ہے……سکھوں نے جس طرح مغل شہنشاہوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کی افواجِ قاہرہ کے سامنے ڈٹ گئے اور گوریلا وارفیئر کے وہ تمام داؤ پیچ ایجاد کئے جو بعد میں چی گویرا، فیڈل کاسترو اور ماؤزے تنگ نے آزمائے اور کامیابیاں حاصل کیں۔ سکھوں کی اس پامردی کا ادراک مغلوں نے تو نہ کیا لیکن انگریز مغلوں سے زیادہ زیرک تھے اس لئے انہوں نے جب 1846ء میں دریائے ستلج کے کنارے سبراؤں کے مقام پر رنجیت سنگھ کے جانشینوں کو شکست دی تو فاتح ہونے کے باوجود خالصہ فوج کو اپنی آغوشِ التفات میں لے کر اسی سال (1846ء میں) برٹش انڈین آرمی میں سکھوں کو بھرتی کر لیا اور ان کو ایسی مراعات سے نوازا جو انڈیا کی دوسری اقوام کو نہ دی گئیں۔

ڈوگرے، ہندو، جاٹ، مرہٹے، گورکھے اور مسلمان تو انڈین آرمی میں پہلے سے موجود تھے لیکن انگریز نے ان سب اقوام سے بڑھ کر سکھوں کو مختلف قسم کی ’نوازشات‘ سے سرفراز کیا…… یہ ایک الگ موضوع ہے اور اس پر تاریخ ہند میں بہت سا مواد موجود ہے۔ میں صرف ایک حقیقت کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کروانی چاہتا ہوں۔1857ء کی جنگ آزادی کا مطالعہ کیجئے اور دیکھئے کہ دہلی پر بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں جب مسلم (اور ہندو) فوج نے قبضہ کر لیا تھا اور قریب تھا کہ برطانویوں کی ہندوستان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رختِ سفر باندھنے پر مجبور ہونا پڑتا کہ پنجاب کے سکھوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا……اور تاریخ کا رخ موڑ دیا۔

1846-47ء میں انگریز نے رنجیت سنگھ کے جانشینوں کی خالصہ فوج کو شکست دینے کے بعد ان پر مراعات کے ڈونگرے برسائے تو ان مہربانیوں کا صلہ اسے دس برس بعد جنگ آزادی میں دہلی پر اپنا قبضہ دوبارہ برقرار رکھنے کی جنگ میں سکھوں کی طرف سے ملا۔ اگر سکھ یونٹیں پنجاب کے طول و عرض سے اکٹھی ہو کر دہلی کی طرف مارچ نہ کرتیں اور مغلوں کی سرکوبی نہ کرتیں تو آج برصغیرکی تاریخ مختلف ہوتی ……1857ء کی جنگِ آزادی میں مغلوں کی شکست میں سکھوں کا جو رول تھا وہ گویا اسی رول کا اعادہ تھا جو مغل حکمرانوں (بالخصوص اورنگ زیب کی وفات کے بعد ان کے جانشینوں کے خلاف) سکھوں نے ادا کیا تھا۔

مجھے اس امر میں کوئی شک نہیں کہ اگرچہ اب تک مودی سرکار نے اپنا زرعی پیکیج واپس نہیں لیا لیکن 26جنوری کو جو کچھ ہوا اور جس بے خوفی اور دلیری سے سکھوں نے مودی کی پولیس فورس کو اپنے آگے لگایا اس نے اس حقیقت کو آشکار کر دیا کہ سکھ اپنے ماضی کو نہیں بھولے۔

تیسری بات یہ ہے کہ مودی سرکار نے سکھ کسانوں کے احتجاج کو تتر بتر کرنے کے لئے جو پولیس استعمال کی اس کے پاس بانسوں کی بنی لاٹھیاں تھیں۔ ان کو بارودی ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت نہیں دی گئی تھی جبکہ اندرا نے ایسا نہیں کیا تھا اور انڈین آرمی کو گولڈن ٹمپل کے اندر داخل ہونے کے احکام صادر کر دیئے تھے۔ لیکن آپ نے دیکھا کہ یونین حکومت نے انڈین آرمی کو آن کال بھی نہیں رکھا۔ اگر سرحدی پولیس کو بھی استعمال کرنے کی آپشن آزمائی جاتی تو ہندوستان کی سکھ افواج (آرمی، نیوی، ائر فورس) کے جذبات و احساسات کا سخت امتحان ہوتا۔ مودی سرکار کشمیر میں پہلے ہی مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے میں سکھوں سے زیادہ ہندوؤں کو استعمال کر چکی ہے۔انڈین آرمی میں سکھوں کی تعداد اور خاص کر سینئر رینکس میں ان کی کثرت، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہلی کی مرکزی حکومت پنجاب اور ہریانہ کے سکھوں پر ایک حد سے زیادہ تیغ زنی کرنے کے حق میں نہیں۔

گوگل پر انڈین آرمی میں سکھوں کی تعداد آپ کو کبھی نہیں ملے گی۔ لیکن اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سکھ فوج کی جنم بھومی بھارت کی وہی دو ریاستیں ہیں جن کے کسان احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کسانوں کے سپوت انڈین آرمی کا بازوئے شمشیرزن ہیں۔ احتجاج کے دوران جس منظم انداز سے یہ تحریک چلائی گئی ہے اور اس کے انتظام و انصرام کے جو مظاہر ہمارے سامنے آئے ہیں، وہ انڈیا کے کسی بھی دوسرے حصے کی آبادی کے مقابلے میں حیران کن حد تک منظم اور مربوط ہیں۔ پنجاب اور ہریانہ کی خواتین جس طرح اپنے شوہروں، بھائیوں، بیٹوں اور رشتہ داروں کی ہمت بندھا رہی ہیں یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ یہ تحریک اب چوتھے مہینے میں داخل ہو رہی ہے اور مہینے بھی وہ کہ جن میں سخت سردی تھی موسلا دھار بارشیں ہوتی رہی ہیں اور آج بھی سردی کا زور تھما نہیں۔ ان ماؤں، بہنوں اور بیویوں کے بیٹے، بھائی اور شوہر کسان بھی ہیں لیکن ان کا دوسرا پیشہ فوجی ملازمت ہے۔ جس طرح آج پاکستان کی دیہی آبادی کا پہلا پیشہ زراعت اور دوسرا فوجی سروس ہے اسی طرح انڈیا کی ان ریاستوں میں بسنے والے خاندان بھی یا کسان خاندان ہیں یا فوجی خانوادے!…… ان دو پیشوں کے علاوہ اور پیشے بھی ہیں لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

مودی بظاہر ابھی تک ڈٹا ہوا ہے۔ اس کی پشت پر ہندوستان کا وہ صنعتی اور کاروباری طبقہ ہے جس کی جیبیں تو بھاری ہیں لیکن بازوؤں میں لڑنے کا دم خم نہیں، محنت مزدوری کرنے کا یارا نہیں اور فوج کی ملازمت میں رہ کر دشمن کے آگے سینہ سپر ہو جانے کی جرات نہیں۔ اس غضب کی سردی میں کھلے آسمان تلے شامیانوں کی چھاؤں میں راتوں کو زمستانی ہواؤں کے تھپیڑے کھانا اور بارشوں میں بھیگنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان مظاہرین کی جیبیں بھلے خالی ہوں لیکن رگوں میں دوڑنے والا خون گرم ہے اور وافر مقدار میں ہے…… اسی خون  کے بارے میں اقبال نے کہا تھا:

اگر لہو ہے بدن میں تو خوف ہے نہ ہراس

اگر لہو ہے بدن میں تو دل ہے بے وسواس

ملا جسے یہ متاعِ گراں بہا اس کو

نہ سیم و زر سے محبت ہے، نے غمِ افلاس

مزید :

رائے -کالم -