سیکیورٹی، ڈالر، عدل، انصاف معاشرے کی ضرورت(1)

سیکیورٹی، ڈالر، عدل، انصاف معاشرے کی ضرورت(1)
 سیکیورٹی، ڈالر، عدل، انصاف معاشرے کی ضرورت(1)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


خبر تھی کہ حکومت غیر ملکیوں کو رہائش کے لئے سعودی عرب، ترکی، ملائشیاء، کینڈا، نارتھ امریکہ کی طرح ایک لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے پر رہائشی اجازت دے گی ایک بات ذہن میں ہے اور سب پاکستانی بھی رکھیں کہ حکومت کے موجودہ سیٹ میں پاکستانی دفاعی پالیسی یا ملکی سلامتی کے بارے میں کمزوری یا کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں لیکن  پاکستان اگر کسی بھی پالیسی کے مطابق غیر ملکیوں کو رہائش دیتا ہے تو وہ پاکستان کے شہری ہوں گے حکومت کے ترجمان فواد چودھری کے لئے لکھتا چلوں بے شک پاکستان میں بے شمار سیکورٹی ادارے کام کر رہے ہیں مجھے کسی کے کام پر اعتراض نہیں لیکن محترم پاکستان میں پہلے ہی لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی غیر ملکی آباد ہو چکے ہیں دوسرے صوبوں کا بھی پنجاب کی طرح حال ہوگا پنجاب کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں غیر ملکی غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہیں اور یہ کمزور لوگ نہیں ہیں تقریباً تمام پنجابی پاکستانی ان سے خوف زدہ ہیں ان غیر ملکیوں کے بڑے بڑے کاروبار ہیں پلازے ہیں مارکیٹیں ہیں شناختی کارڈ بڑے بڑے محلات کوٹھیوں کے مالک ہیں پاکستانی معیشت پر غیر قانونی غیر ملکیوں کا دباؤ ہے پاکستان اپنی آبادی کے لحاظ سے منصوبے تیار کرتا ہے لیکن شہروں کی آبادی کئی گنا زیادہ ہے چند ہفتے پہلے ٹاؤن شپ (جناح ٹاؤن) لاہور یں ایل ڈی اے نے 195ء دوکانیں گرائیں ان پر تمام غیر ملکیوں نے غیر قانونی طور پر قبضہ کیا ہوا تھا جو کہ پندرہ سال سے زیادہ۔

ایل ڈی اے والے کیوں خاموش تھے اتنی دیر خاموشی کیوں۔ جو روزانہ کا کھیل بھتہ خوری۔ اب انہیں لوگوں نے 195 کی بجائے ٹاؤن شپ کی تمام سڑکوں فٹ پاتھوں پر 200 سے زیادہ دکانیں اور ٹمپریری ریڑیاں لگالی ہیں بے شک سارے پنجاب میں تجاوزات مافیہ کورونا بیماری سے طاقت ور ہے لیکن ٹاؤن شپ اردگرد کے تمام علاقے تجاوزات مافیہ کے قبضے میں ہیں تمام بازار سکڑ گئے ہیں۔محترم ابھی یہ لوگ غیر قانونی ہیں میرے پاکستان میں غیر ملکی ایجنٹوں کے سہولت کار بننے والوں کی کمی نہیں،جن لوگوں نے ابھی تک پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔ میرے ملک میں تمام سیکیورٹی ادارے ہیں ملکی سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہیں لیکن مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ایران سے روزانہ لاکھوں لیٹر پٹرول، ڈیزل بلوچستان کراچی کس طرح آتا ہے اور کراچی کا سمندر کن کن لوگوں کے لئے سونے کی کان ہے اور یہ بھی بتانا ضروری نہیں پاکستان میں کن کن علاقوں سے گاڑیاں اور اسلحہ ناجائز طریقوں سے آتا ہے اور پاکستان سے پنجاب سے چوری ہونے والی گاڑیاں کہاں جاتی ہیں۔ عام شہری بھی ان باتوں سے باخبر ہے تو پھر جن اداروں کے لوگوں کی ڈیوٹی ہے وہ کیوں نہیں اپنے فرائض پورے کرتے اسی طرح بہت مثالیں دی جا سکتی ہیں کہ معاشرے میں 40/50 سال سے زیادہ عرصے سے خود غرضی مفاد پرستی اور لوٹ مار  کا رواج ڈال دیا گیا ہے۔


میری عمر یا میری عمر کے زیادہ لوگوں نے جنرل ایوب خاں، محترمہ فاطمہ جناح صاحبہ کا الیکشن دیکھا ہوگا کہ پاکستان کے بانی اور پاکستان بننے کی جدوجہد میں شامل عظیم ہستی کے ساتھ کیا سلوک کیا صرف اقتدار کے حصول کے لئے اس وقت کے سیاستدانوں اور دوسرے لوگوں کو محترمہ فاطمہ جناح صاحبہ کا مقابلہ کرتے ہوئے شرم محسوس ہونی چاہئے تھی لیکن ابھی بھی کئی لوگ سیاسی لیڈر زندہ ہیں جنہوں نے ایوب خاں کا ساتھ دینے کے لئے محترمہ کی توہین کرنے کے اقدامات کئے بہر حال گزرش کا مقصد ہے کہ پاکستان میں ڈالروں کے بغیر افغانی، چینی باشندے آباد ہیں کیا حکومت بے خبر ہے کہ ہر شہر میں غیر قانونی لوگ آباد ہیں چند دن پہلے سعودی عرب ریاض میں 10 ہزار لوگوں کا کنسٹرٹ ہوا جو انڈین فلمی لوگوں نے کیا سعودیوں نے خوب انجوائے کیا۔  اور یہ دو سو سال کے بعد اصحاب اکرام اور نبی اکرمؐ کی سرزمین پر کوئی اس طرح کا پروگرام ہوا ہے کسی امام مسجد نے اس پروگرام کو یہود و نصاریٰ اور حکومت وقت کو برا بھلا کہا تو سیکورٹی نے اسی وقت سٹیج سے زبردستی اتارا اور شام تک پھانسی دے دی گئی،پاکستان میں کون سا دن اور کون سا اپوزیشن کا بندہ ہے جو حکومت کے خلاف جھوٹے سچے دعوے نہیں کرتا برا بھلا نہیں کہتا اخلاق سے گری ہوئی باتیں بھی کی جاتی ہیں۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر موجود ہے بہر حال وہاں بادشاہت ہے، اس سکیم پر دوبارہ غور کریں ایک چھوٹی سی بلکہ سچی مثال دیتا ہوں کہ ہم لوگ معاشرتی طور پر اکثریت میں سوچ سے عاری ہیں اس کو بھیڑ چال کہتے ہیں اس کی مثال سیالکوٹ کا واقعہ بھی ہے مثلاً مسجد کے سپیکر پر جیسے ہی اعلان ہوتا ہے حضرات فلاں ابن فلاں نعوذ باللہ توہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے لہٰذا اس بدبخت گستاخ کو جہنم واصل کر نے کے لئے تمام عاشقان رسولؐ فوراً محمدی چوک پہنچو۔ پھر کیا  تھا اعلان سنتے ہی دودھ میں پانی ملانے والا بھولا گجر، مرچوں میں پسی ہوئی ایٹنیں ڈالنے والا محمد دین پنساری اپنے صاحب کو رشوت اکٹھی کر کے دینے والا بابو چپڑاسی۔

ایک ہی بلیڈ سے کئی کئی داڑھیاں مونڈھنے والا بشیرہ نائی۔ کئی ہفتے کے استعمال شدہ گندے تیل میں جلیبیاں بنانے والا منیر حلوائی۔ کھوتے اور مرے ہوئے جانوروں کا گوشت بیچنے والا ماجھا قصائی۔ ساری رات فحش فلمیں دیکھنے والا نوجوان جمی پرنس لفنگا۔ لوگوں کو جعلی ادویات فروخت کرنے والا میٹرک فیل ڈاکٹر راشد۔ لوگوں کو دیسی کپیاں اور چرس سپلائی کرنے والا عارف جہاز، رشوت اور ناجائز فروشی کے بھتے سے اپنی جیبیں بھرنے والا انسپکٹر حاجی مشتاق اور یتیم رشتہ داروں کی جائیدادوں پر قبضہ کرنے والا مولوی حاجی فضل کریم سبھی کے سبھی اپنی دوکانیں بند کر کے بغیر کوئی ثبوت مانگے گستاخ کو جہنم واصل کرنے دوڑ پڑے آخر اس طرح معاشرے میں بگاڑ کیوں پیدا ہوا۔ عدل و انصاف اس کو کہتے ہیں ملزم ایک 15 سال کا لڑکا تھا ایک سٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ بھاگنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔ مزاحمت کے دوران سٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹ گیا عدالت کے جج نے فرد جرم سنی اور لڑکے سے پوچھا تم نے واقعی کچھ چرایا تھا بریڈ اور پنیر کا پیکٹ۔ لڑکے نے اعتراف کر لیا۔ جج نے کہا کیوں مجھے ضرورت تھی لڑکے نے مختصر سا جواب دیا۔ جج، خرید لیتے۔ پیسے نہیں تھے۔ گھر والوں سے لے لیتے۔ گھر میں صرف ماں ہے بیمار اور بے روز گار بریڈ اور پنیر اس کے لئے چرائی تھی۔ تم کچھ کام نہیں کرتے، کرتا تھا ایک کار واش میں۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن چھٹی کی تو انہوں نے نکال دیا تم کسی سے مدد مانگ لیتے۔ صبح سے مانگ رہا تھا کسی نے ہیلپ نہیں کی۔ جرح ختم ہوئی جج نے فیصلہ سنانا شروع کر دیا۔ چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں عدالت میں موجود ہر شخص۔ مجھ سمیت اس چوری کا مجرم ہے میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ 10 ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جا سکتا یہ کہہ کر جج نے 10 ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے۔

مزید :

رائے -کالم -