حیرتوں کی تازہ منزل کا اشارہ  (7)

     حیرتوں کی تازہ منزل کا اشارہ  (7)
     حیرتوں کی تازہ منزل کا اشارہ  (7)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

گورڈن کالج پہنچنے پر زندگی کے معمولات تدریسی ٹائم ٹیبل کے مطابق یوں بحال ہوئے جیسے کبھی کراچی گئے ہی نہ ہوں۔ صبح ہوتے ہی کلاس روم ، پھر ڈاکٹر توصیف تبسم اور آفتاب اقبال شمیم والا پروفیسرز مَیس، شام ہوئی تو مری روڈ پر منسٹری آف ڈیفنس کی بغل میں سنیک شیک۔ فرق یہ ہے کہ ہمارے کزن اور بے تکلف دوست فاروق حسن اور خود طاہر اکرام کے لیے اسلام آباد اور راولپنڈی جڑواں شہر تھے جبکہ میرا جیون اُس تکون میں بیت رہا تھا، جس کا عمودی نقطہ واہ کینٹ ہے۔ کسی کسی ویِک اینڈ پر یہ قائمتہ الزاویہ مثلث دیرینہ دوست پروفیسر آصف ہمایوں کی بدولت ایک خوش نما مستطیل میں بدل جاتی جن کے بھائی واہ میں ہمارے گھر سے کوئی ڈیڑھ مِیل دُور رہتے تھے۔ کالج میں رہائشی سہولت کے باوجود میری ہفتہ وار چھٹی اور بیِچ کا کوئی ایک دن واہ میں گزرتا او ر اگلی صبح کالج واپسی ہو جاتی۔

پرنسپل عزیز محمود زیدی کی عادت تھی کہ امتحانی گتہ اور رائٹنگ پیڈ بغل میں دبائے کالج میں گھومتے رہتے۔ ایک دن کلاس سے نکلا تو قاصد چِٹ لیے کھڑا تھا کہ لیکچر ختم ہوتے ہی دفتر میں ملیں۔ دیکھتے ہی کہنے لگے :” گھر سے پیغام ملا ہے کہ آپ کے والد ہسپتال میں ہیں، ابھی چلے جائیں“۔ ”فون کس کا تھا؟“ ”آپ کی بہن میمونہ کا“۔ جوابی کال کی تو معلوم ہوا کہ ہائی بلڈ پریشر کا حملہ ہوا ہے اور سیریس مریضوں کی لِسٹ میں ہیں۔ راولپنڈی ہی میں متعین بھائی زاہد کی مشکوک ملکیتی کار نکالی اور اُنہیں مطلع کرکے روانہ ہو گیا۔ مشکوک اِس لیے کہ اِس فوکسی کے لیے بینک سے ایڈوانس زاہد نے لیا تھا۔ رجسٹریشن ابا کے نام پر ہوئی کیونکہ ہم میں سے وہی گریڈ کے حساب سے ماہانہ کار الاوئنس کے مستحق تھے۔ ڈرائیو البتہ مَیں ہی کرتا کہ باقی دو صاحبان کے پاس گاڑی چلانے کا وقت نہیں تھا۔

پی او ایف ہاسپٹل میں پھوپھی زاد بھائی سہیل محمود نصف شب سے تیمارداری میں مصروف رہے تھے۔ مَیں نے کہا کہ آج کا دن اور رات میری ڈیوٹی ہے، آپ کل سویرے دس بجے آ جائیں۔ اگلی صبح سورج چڑھا تو سہیل محمود سے پہلے طاہر اکرام طلوع ہو گئے۔ مَیں عین اُس دم ابا کو ناشتہ کرا کر لحظے بھر کو اسپتال کے کار پارک میں ایک سائنسی مشاہدہ کر رہا تھا۔ یہی کہ اڈولف ہٹلر کی ڈیزائن کردہ ہماری چھ وولٹ کی اکانومی ماڈل فوکسی اوائل فروری میں سٹارٹ ہوتے ہوئے کہِیں مزاحمت تو نہیں کرے گی۔ امکانی رکاوٹ سے نمٹنے کے لیے نشیبی رُخ پر روکی گئی کار کی کھڑکی کھولی۔ چابی گھمانے کے لیے سِیٹ پر بیٹھا ہی تھا کہ ایک مسکراتی ہوئی مانوس آواز طویل واﺅل ساﺅنڈ کے ساتھ کانوں سے ٹکرائی ”السلام علیکم، سر“۔ اِس موقع پر طاہر کی آمد مسرت سے زیادہ حیرت کا باعث بنی۔

 حیرت اِس سبب کہ پنڈی، اسلام آباد کے موسم میں صبح کی خنکی تاحال برقرار تھی۔ اُس دور میں جی ٹی روڈ کی کوکا کولا فیکٹری پر نکلنے والی ویران و پریشان شاہراہ ِکشمیر پر سو سی سی کاوا سا کا سفر، پھر طاہر کو تو میرے گھر کا پتا بھی معلوم نہیں تھا۔ کہنے لگے ”پی او ایف بورڈ کے سیکرٹری جمیل احمد خاں کا بیٹا رضا ہمارے کالج میں پڑھتا ہے ، اُس نے ایڈریس سمجھا دیا ۔ پر مَیں نے سوچا کہ آپ انکل کے پاس ہوں گے، اِس لیے ہسپتال میں پہلے اُنہیں دیکھ لوں“۔ اب حیرت تو دُور ہو گئی، مگر مسرت؟ مسرت اِس بات کی تھی کہ کار کو دھکیلنے کے لیے ایک سہارا مِل گیا ہے۔ پُرانا فارمولا کہ کوئی ڈھلان پر ذرا سا دھکا دے، ڈرائیور کلچ دبا کر دوسرا گئیر لگائے اور جنبش ہوتے ہی پریم سے کلچ چھوڑ دے۔ اچھا ہوا کہ ہم اِس تکلف کے بغیر گھر پہنچ گئے۔

 یہ تو آغاز ہے۔ والد کے صحت یاب ہو جانے پر بارہا یہ ہوا کہ ویک اینڈ پر طاہر میاں چھٹی گزارنے کے لیے ہماری طرف آ جاتے۔ ہمارے یہاں ابا کے جاننے والوں اور ہمارے دوستوں کے درمیان حدِ فاصل نہیں تھی۔ چنانچہ دن بھر کی بیٹھک میں تاش یا اسکریبل کی بازی کے دوران 1950ءاور60ءکی دہائیوں کے محمد رفیع اور لتا منگیشکر کی آوازیں بھی گونجنے لگتیں۔ کبھی کبھار پروفیسر آصف ہمایوں اپنے بھائی سے ملنے کے بہانے واہ آ جاتے۔ دو ایک موقعوں پر میرے کزن اور سنیک شیک کے کولمبس فاروق حسن بھی شریک ِ محفل ہوئے تو گھر مغربی دنیا کے ’بیڈ اینڈ بریک فاسٹ‘ میں تبدیل ہو گیا۔ آرڈنینس کلب تو تھا ہی میرا حلقہ _¿ نیابت جہاں طاہر اکرام اور پھوپھی زاد بھائی سہیل محمود کے قہقہے الیکشن کمیشن سے پوچھے بغیر بے فکروں کی ٹولی کا انتخابی نشان ہوا کرتے۔ 

 فلمی اصطلاح میں انٹرول کے بعد کی کہانی شروع کروں تو ایک سہ پہر بھائی زاہد، اُن کی بیگم منزہ اور والدین کے ہمراہ ہمارا گھریلو کمیون اسلام آباد کے ایف سیون ون کی جانب روانہ ہوا۔ سٹریٹ چھیالیس کے تین نمبر گھر میں چھوٹی بہن میمونہ کی تاریخ طے کرنے کا عمل البتہ پرانے مراسم کے پیش ِ نظر نجی کارروائی تھی۔ ہماری فوکسی گیٹ میں داخل ہوئی تو ایک جیکٹ پوش موٹر سائیکل سوار ڈرامائی انداز میں آ دھمکا: ”مَیں کافی دیر سے آپ کا پیچھا کر رہا ہوں۔ بزرگوں کو یہیں بیٹھنے دیں۔ آپ اور زاہد صاحب ہماری طرف چلیں۔ دس منٹ کا راستہ ہے، چائے پئیں گے اور گپ ماریں گے“۔ ہنسی ہنسی میں رول یوں بدلے کہ ہماری کار طاہر کے پیچھے پیچھے اُس سڑک پر جا رُکی جس کے متوازی سرفراز اقبال روڈ اب اتاترک ایوینیو سے جا ملتی ہے۔

پاکستان ٹائمز کے چیف رپورٹر شیخ اکرام الحق سے اولین ملاقات کی طرح طاہر اکرام کی امی نے بھی،جو عربی کی استاد تھیں، گفتگو کا آغاز تشویش بھرے لہجے میں کیا۔ ”یہ لڑکا آپ کی بات مانتا ہے۔ اِسے کہیں کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پڑھائی پر توجہ دے۔“ مجھے ایسی باتوں کا جواب نہیں آتا، اِس لیے سوال کو چائے میں گھول کر پی گیا۔ پھر بھی مسز اکرام کی بے تکلفی اور خوشگوار سادہ دلی کا نقش عارضی نہیں تھا۔ زاہد نے باہر نکلتے ہی کہا ”یہ تو بالکل پھوپھو اقبال ہیں۔“ کسی خاتون کو بھرپور عزت دینے کا اِسے ہمارا حتمی معیار سمجھ لیں۔ یہ اندازہ بھی ہوا کہ طاہر کی اکلوتی بہن نبیلہ کا تعلق بھی سلسلہ ءاقبالیہ سے ہے جنہوں نے فون پر پہلی دفعہ بات کی تو یہی شکوہ تھا کہ اِسے سمجھائیں ، سگریٹ بہت پیتا ہے اور پڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتا۔

یہی دن تھے جب واہ والے گھر کے گیٹ پر شام کے جھٹپٹے میں میری بہن میمونہ نے پُلیا پہ بیٹھ کر چائے سے تواضع کرتے ہوئے سفارت کارانہ مہارت سے مکالمے کی گیند لڑھکا ئی: ”آپ سب سے بڑے ہیں، مگر زاہد بھائی کے بعد روبی باجی کی شادی بھی ہو چکی اور اگلے مہینے میری رخصتی ہے ۔ یا تو سوچ لیں کہ اِس کام میں نہیں پڑنا اور اگر پڑنا ہے تو مزید وقت ضائع نہ کیا جائے۔“ پھر پوچھا ”کسی کو جانتے تو ہوں گے نا؟“ کہا ”کچھ کچھ“۔ اور ایک نام لے لیا جس کی جھلک اِس حد تک تھی کہ بقول شہزاد احمد ’بس دُور ہی سے دیکھ لیا اور چل پڑے‘۔ والدین مل کر آئے تو خوش کہ ڈاکٹر نبیلہ نے میک اپ نہیں کیا ہوا تھا۔ زاہد نے یہ کہہ کر مہر لگا دی کہ یار، ہر لحاظ سے ہم سے بہتر لوگ ہیں۔ یہ تھا واقعات کا زمانی تسلسل، پر کچھ بیک سٹیج کہانی بھی ہے جس کا ہیرو مَیں نہیں ہوں ، مرحوم طاہر اکرام ہیں۔ (جاری ہے) 

مزید :

رائے -کالم -