ملکی بربادی میں نوکر شاہی کا کردار

     ملکی بربادی میں نوکر شاہی کا کردار
     ملکی بربادی میں نوکر شاہی کا کردار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 میری پختہ رائے ہے کہ ہمارا اپنا طبع زاد (original ) ادارہ صرف "ادارہ نظام مساجد و مدارس" ہے. دوسرے ادارے پارلیمان کی ننھی سی کونپل کے نکلتے ہی اسے نعلدار بوٹ مسل دیتے ہیں۔کبھی اسے فولادی ہتھوڑا آرڈر آرڈر کے کوس لمن الملک سے قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیتا ہے۔ پارلیمان کبھی پھننگ پتوں تک سینہ تان ہی لے تو "پراجیکٹ" اور "ڈاکٹرائن" نامی امریکی سنڈیاں حملہ آور ہو جاتی ہیں. عوامی ٹیکسوں پر چلتے ہزاروں اسکول یہ سنڈیاں چٹ کر چکی ہیں۔ لیکن 75 سال قبل کے چند سو خیراتی مدارس بغیر امداد کے نصف لاکھ ہو چکے ہیں۔ میں نے ایک جگہ مسائل کا ذمہ دار بیورو کریسی کو ٹھہرایا تو ایک نہایت نفیس، وضعدار اور محبتی بھائی لیکن بالآخر سابق وفاقی سیکرٹری، (اور وہ بھی ڈی ایم جی گروپ)، خفا ہوگئے۔ میں نے پروفیسروں کے "کارہائے نمایاں" پر اپنی ایک تحریر انہیں پڑھائی کہ ملکی بربادی کے باب میں "ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ". تب ان کی خفگی کم ہوئی۔

میں ایک یونیورسٹی سلیکشن بورڈ کا 10 سال رکن رہا۔ اجلاس سے ایک رات قبل پہنچنے پر مجھے گیسٹ ہاو_¿س میں ٹھہرایا جاتا تھا۔ ایک دفعہ ایئرپورٹ سے وہاں پہنچا تو چوکیدار نے ڈرائیور سے مہمان کا نام پوچھا، وہ بولا: "شہزاد صاحب". چوکیدار بولا: "نہیں! ان کا قیام وی آئی پی گیسٹ ہاو_¿س میں ہے". ڈرائیور مجھے وی آئی پی گیسٹ ہاو_¿س لے گیا. حکیم سعید شہید نے میرے پوچھنے پر بتایا تھا؛ "اپنی دو شیروانیوں میں سے ایک ہر رات کو خود دھوتا ہوں. صبح دوسری پہن کر اسے اگلی رات دھوتا ہوں، پہلی تیار ہو چکی ہوتی ہے". میں ان کی پیروی میں اپنی جرابیں رات کو خود دھوتا ہوں. اس رات بھی یہی کیا. اتنے میں وہی پرانے میزبان بابا پھلوں بھری ٹوکری لیے داخل ہوئے۔ مجھے دیکھتے ہی انہیں وہ جھٹکا لگا کہ خود پر قابو نہ پا سکے: "ارے آپ؟ ہائیں ! یہ کیسے". پھر ہاتھ ملائے بغیر ٹوکری سمیت واپس چلے گئے کہ پھل میرا استحقاق نہ تھے۔

کچھ دیر بعد منتظم نے آ کر معذرت کی: "یہ کمرہ آپ کے ہم نام گریڈ 22 کے ایک سیکرٹری کا تھا۔ نام کی مماثلت کے سبب غلطی سے آپ کو مل گیا ہے۔ آپ اسی جیسے اگلے کمرے میں چلے جائیں". میں یہ نہ سمجھ سکا کہ جب کمرے ایک جیسے ہیں، پھل بھی محفوظ ہیں تو سیکرٹری صاحب کوئی اور کمرہ کیوں نہیں لے لیتے۔ جواب ملا: "ہم نے انہیں فون پر بتا دیا تھا کہ ان کا کمرہ نمبر 4 ہے۔ اب وہ مصر ہیں کہ میں 4 نمبر ہی میں جاو_¿ں گا". تھکاوٹ کے مارے میری بری حالت، سامان بکھرا ہوا، گیلی جرابیں اور میں بستر میں گھسا سونے کے قریب, پس معذرت کی کہ یہ جنجال سمیٹنا ممکن نہیں، سیکرٹری صاحب کو دوسرا کمرہ دے دیں۔ اپنے تئیں میں اسے عام سی بات سمجھا۔ بھیانک نتائج کا مجھے معمولی سا اندازہ ہو جاتا تو میرے آپ سمیت ہر ہوش مند آدمی باہر سڑک پر رات گزار لیتا.

صبح وی سی صاحب کے ہاں گیا۔ انہیں افسردہ پایا، پوچھنے پر بولے: "سیکرٹری صاحب کو معلوم ہوا کہ 4 نمبر کمرہ کسی اور کو دے کر انہیں دوسرا کمرہ دیا جا رہا ہے تو انہوں نے بولے بغیر موبائل بند کیا، ڈرائیور کو گاڑی موڑنے کو کہا اور تین سو کلومیٹر دور واپس گھر روانہ ہو گئے۔ یوں بورڈ اجلاس کے لیے مطلوبہ ارکان میں سے ایک کے کم ہونے پر کورم ٹوٹ گیا لہذا اجلاس ممکن نہیں"۔یوںدرجنوں امیدوار غمزدہ ہو گئے۔ اندر کے امیدواروں کی ترقی کا موقع کئی سال آگے چلا گیا۔ اشتہار، آمد و رفت، دفتری اخراجات وغیرہ پر یونیورسٹی لاکھوں خرچ کر چکی تھی اور نتیجہ کمرہ نمبر 4 کی نذر ہو کر صفر۔ لیکن بھیانک نتیجہ یہ نکلا کہ منتظم ملازمت سے معطل ہو گیا۔

یہ نہ سمجھیے کہ اس ایک واقعے سے میں نے حتمی نتیجہ نکال لیا۔ بیوروکریسی، پولیس، عدلیہ، پراسیکیوٹر اور مسلح افواج کے افسر ہماری شریعہ اکیڈمی میں 4 ماہی تربیت کو آتے تھے۔ دو افراد ایک دن کے سفر میں ایک دوسرے کو خوب سمجھ لیتے ہیں، میں تو انہیں تعلیمی دوروں پر 24 سالوں میں درجنوں بار اندرون اور بیرون ملک لے جاتا رہا۔ بلا شبہ تب کے کمانڈر خالد جاوید، مسنگ پرسن والے کرنل انعام الرحیم, تب کے ڈپٹی کمشنر منظور کیانی، تب کے کمشنر انصر خان مرحوم اور سیشن جج سرفراز چیمہ کو میں نے نفیس، دیانت دار، انسان دوست اور مہذب انسان پایا۔ لیکن ہزاروں میں سے ایسے چند افسر ہی دیکھے۔ غالب اکثریت میں کمرہ نمبر 4 والے سیکرٹری جیسے ہی پائے۔

اب آپ سمجھ لیجیے کہ ان اعلیٰ دماغ افسران نے کیسے پی آئی اے کو تباہ کیا ہوگا۔ جنگی پائلٹ ریٹائر ہوا نہیں کہ اسے تجارت پر لگا دیا گیا۔ نیشنل شپنگ کارپوریشن کا کیا نوحہ پڑھوں؟ نیلے پانیوں میں بارود چلانے والا ریٹائر ہوا تو اسے تجارتی جہاز کی کنجیاں تھما دی گئیں۔ ریلوے، اسٹیل ملز اور خسارے کا شکار دیگر ادارے یہی ذہین افراد ہی تو چلا رہے ہیں۔ لودھراں ،تربت، گھوٹکی کو چھوڑیے، اسلام آباد کا ایک سرکاری ہسپتال بتائیے جہاں شریف آدمی جا سکتا ہو۔

 ادھر مردے دفنانے والے عبدالستار نامی درویش نے نجی شعبے میں دنیا کی عظیم ترین ایمبولنس سروس بنا ڈالی۔ میٹرک پاس ملک ریاض نے کھنڈر نما شہروں میں وہ جدید متوازی شہر بنا ڈالے جو یورپی بستیوں کو شرمائیں۔ جماعت اسلامی نے الخدمت نامی تنظیم بنا کر عملاً ایک فلاحی ریاست کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ہزاروں ہسپتالوں، ڈسپنسریوں یتیم خانوں، اسکولوں اور فلاحی کاموں کے ساتھ، لیکن بغیر "ذہین سی ایس ایس" افسران کے۔ کیا یہ متوازی حکومت نہیں؟ بینکوں مالیاتی اداروں سے کھربوں کے قرضے اشرافیہ لوٹ چکی ہے. وزارت قانون، اسٹیٹ بینک وغیرہ کو یہی ذہین افسران ہی تو چلاتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر امجد ثاقب نے اخوت فاﺅنڈیشن کی بنائی تو 22 سال میں فاو_¿نڈیشن 34 لاکھ گھرانوں (تین کروڑ افراد) کو 220 ارب بلا سود قرض دے چکی ہے. لوگوں کا اس پر اعتماد دیکھیے، واپسی کی شرح 99.94 فیصد ہے۔

اگلے پارلیمان سے گزارش ہوگی کہ وہ اس اہم ادارے کے افراد کے چناو_¿، تربیت اور مراعات میں انقلابی تبدیلی لانے والے قوانین، خود انہی کے مشورے سے نافذ کرے۔ ان افسروں کی اکثریت اس دفتری نظام سے اکتا چکی ہے۔ یہ افسر یہیں کے لوگ ہیں لیکن نوآبادیاتی نظام کے آہنی شکنجے میں سب مفلوج ہیں۔ اسے پارلیمان ہی بدل سکتا ہے۔ تو کیا مقتدر قوتیں اگلے پارلیمان کو کام کرنے دیں گی؟ میرے خیال میں روڑے اٹکانے والے تھک چکے ہیں۔ باجوہ ڈاکٹرائن اب راج ہنس گیت (swan song) میں ڈھل چکا ہے جس کے آثار و باقیات سمیٹے جا رہے ہیں، وقت تو لگے گا۔

  

مزید :

رائے -کالم -