چیئر مین نیب سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے وفد کی ملاقات، تعمیری تعاون کے فروغ پر اتفاق
اسلام آباد (این این آئی)قومی احتساب بیورو کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے چار رکنی وفد نے چیئرمین فرانسوا ویلیریئن کی قیادت میں نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ملاقات کی۔ترجمان کے مطابق ملاقات میں شفافیت، احتساب، بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے وفد میں جسٹس (ر) ضیاء پرویز، ایڈووکیٹ دانیال مظفر اور کاشف علی شامل تھے جبکہ اس موقع پر نیب کے ڈپٹی چیئرمین سہیل ناصر اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران بدعنوانی کو ایک عالمی مسئلہ قرار دیتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ کرپشن قانون کی حکمرانی اور عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچاتی ہے، اس لئے اس کے تدارک کے لئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے وفد کو نیب میں متعارف کرائی گئی اصلاحات سے آگاہ کیا جن میں ڈیجیٹل نظام، مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر تحقیقات، بلاک چین اینالیسس اور ڈیجیٹل فارنزک ٹیکنالوجی شامل ہیں۔چیئرمین نیب نے کہا کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں 2025 کے دوران 62 کھرب روپے کی ریکارڈ رقوم برآمد کی گئیں جبکہ گزشتہ 3 سال میں مجموعی برآمدگیاں 115 کھرب روپے تک پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیب کے عوام دوست اقدامات میں علاقائی دفاتر میں سہولت مراکز، احتساب و کاروباری سہولت سینٹرز، گواہوں کے تحفظ کا نظام اور کھلی کچہریوں کا انعقاد شامل ہے جن کے ذریعے جعلی ہاؤسنگ اور سرمایہ کاری سکیموں سے متاثرہ 115,587 افراد کو ریلیف فراہم کیا گیا۔چیئرمین نیب نے کہا کہ اگرچہ بدعنوانی سے متعلق عالمی اشاریوں کو اہمیت دی جاتی ہے تاہم نیب کی توجہ نتائج پر مبنی نظام پر ہے جس میں اثاثوں کی موثر برآمدگی اور بڑے مقدمات میں کامیاب کارروائیاں شامل ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ نیب اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل باہمی تعاون سے مستند اعداد و شمار کے تبادلے کے ذریعے زیادہ درست اور حقائق پر مبنی جائزے تیار کر سکتے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے وفد نے نیب کی اصلاحاتی کوششوں اور بدعنوانی کے خلاف بین الاقوامی معاہدوں پر عملدرآمد کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ دونوں اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ پاکستان میں شفافیت، دیانت داری اور اچھی حکمرانی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے باہمی روابط، استعداد کار میں اضافے اور تعمیری تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا تاکہ بدعنوانی کے خلاف عالمی معیار کے مطابق دیانت داری کا کلچر پروان چڑھایا جا سکے۔
نیب
