معاشرے میں برداشت کو فروغ دینا ہو گا،ابراہیم نقشبندی
لاہور(پ ر)معروف روحانی و اصلاحی شخصیت حافظ محمد ابراہیم نقشبندی نے جامع مسجد شاہ جمال میں باہمی احترام اور معاشرتی امن کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے جھگڑوں، تلخی اور انتشار کی بنیادی وجہ ایک دوسرے کی بات نہ سننا اور جذبات میں آکر فوری ردِعمل دینا ہے انہوں نے کہا کہ اسلام انسان کو ضبط، تحمل اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگر ہر شخص بات مکمل سنے، معاملے کو سمجھے اور پھر جواب دے تو گھروں، محلوں اور اداروں میں بے شمار تنازعات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ غصے میں دیا گیا ردِعمل اکثر فساد کا سبب بنتا ہے، جبکہ سوچ سمجھ کر دیا گیا جواب اصلاح اور بہتری کی راہ ہموار کرتا ہے حافظ محمد ابراہیم نقشبندی نے کہا کہ میاں بیوی کے جھگڑے، والدین اور اولاد کے اختلافات، دفاتر میں تنازعات اور سماجی جھگڑے زیادہ تر اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے کی بات برداشت سے نہیں سنتے انہوں نے نبی کریم ؐ کی سیرت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ ؐ مخالفین اور ناپسندیدہ گفتگو کو بھی تحمل سے سنتے۔
اور ایسا جواب دیتے تھے جو دلوں کو جوڑنے والا ہوتا تھا یہی طرزِ عمل ایک پرامن اور مہذب معاشرے کی بنیاد ہے انہوں نے نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا اور روزمرہ زندگی میں جذباتی ردِعمل سے بچیں، کیونکہ ایک غلط جملہ یا فوری فیصلہ تعلقات اور ساکھ دونوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ صبر اور سمجھداری اختیار کرنا کمزوری نہیں بلکہ مضبوط کردار کی علامت ہے۔
