معرکہ ملتان: کون جیتا کون ہارا؟

معرکہ ملتان: کون جیتا کون ہارا؟

  

ملتان کا ضمنی انتخاب جو یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے باعث منعقد ہوا، اپنے اختتام کو پہنچا۔ نتائج توقع کے مطابق رہے، لیکن ہار جیت میں فرق توقعات کے مطابق نہیں تھا، حیران اگر یوسف رضا گیلانی اور ان کی پارٹی ہے تو دوسری طرف ہارنے والے امیدوار کی حمایت کرنے والی جماعتیں بھی ہیں۔ پاکستان کے جغادری تجزیہ نگار اور الیکٹرانک میڈیا کے نو آموز، مگر تند و تیز اینکر حضرات، ہر شخص اس انتخاب اور اس کے نتیجے کو اپنے انداز سے دیکھتے بھی رہے اور تجزیے بھی پیش کرتے رہے، مگر اصل بات کی طرف دھیان دینے کو زیادہ اہم نہیں سمجھا گیا۔ انتخابی اتحاد اور یوسف رضا گیلانی کے سابقہ الیکشن میں حاصل کردہ دوٹوں میں کمی کے بارے میں تو بہت بات کی گئی، لیکن سب سے اہم بات، یعنی انتخابی عمل میں انتظامی مشینری کے کردار اور سیاسی جماعتوں کے منافقانہ طرز عمل کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ یہ دونوں ایسے معاملات ہیں، جن کی بنیاد پر آنے والے انتخابات کا منظر سامنے رکھا جا سکتا ہے۔

سکندر بوسن اور ان کی تازہ جماعت تحریک انصاف کا کردار ایک طرف، تحریک انصاف کا دعویٰ کہ وہ کسی ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی اور چند ماہ قبل جاوید ہاشمی اور شاہ محمود قریشی کے انتخابات کا بائیکاٹ اس کا باقاعدہ اظہار بھی تھا، مگر پہلے اویس لغاری کے انتخاب میں حصہ لینا اور اب سکندر بوسن کی جانب سے انتخاب میں بھر پور شرکت تحریک انصاف کی صاف ستھری اور منافقانہ سیاست کے خلاف نعرے بازی کے برعکس نظر آتی ہے۔ ساتھ ہی سکندر بوسن کے ساتھ رات کی تاریکی میں خفیہ طور پر ذوالفقار کھوسہ کے مذاکرات اور اس کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) کا اپنے امیدوار کے بجائے سکندر بوسن کی حمایت....جھوٹ، فریب اور منافقانہ سیاست کی ایک مکمل تصویر ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی مقامی قیادت سے لے کر اعلیٰ قیادت تک ایک دوسرے کے رہنماﺅں پر جتنے رکیک حملے کرتے رہتے ہیں اس کے بعد کس منہ سے ایک ہی امیدوار کے پوسٹروں اور بینروں پر ایک طرف عمران خان اور دوسری طرف نواز شریف کے فوٹو کے ساتھ انتخابی عمل میں شریک رہے۔

ایک طرف صاف ستھری، سونامی اور تبدیلی کے دعویداروں کے ساتھ ساتھ اسلام اور اسلامی اصولوں کی بنیاد پر سیاست کرنے والوں کا کردار تھا تو دوسری طرف سیاست میں ہر چیز جائز کی بنیاد پر یوسف رضا گیلانی اپنے بیٹے کی مہم چلا رہے تھے۔ یوسف رضا گیلانی نے اپنے بیٹے کی الیکشن مہم کا آغاز اپنے ٹرین مارچ سے کیا اوراس غرض سے ٹرین کے باقاعدہ روٹ کو تبدیل کر کے قانون کی پہلی خلاف ورزی کی گئی۔ یوسف رضا گیلانی اپنی نا اہلی، کرپشن اور اقربا پروری کے مکمل تجربات کے ساتھ ساتھ جوڑ توڑ اور”لڑاﺅ اور سیاست کرو“ کے ہنر پر پورا عبور رکھتے ہیں۔ موجودہ انتخاب میں انہوں نے اپنے تمام ہنر مکمل طور پر استعمال کئے۔ ایک طرف اپنے ایک مخالف (جس کے خلاف یوسف رضا گیلانی کے ہی فرنٹ مین نے قتل کا مقدمہ درج کرایا ہوا تھا) کی جان قتل کے مقدمے سے چھڑا کر اپنی حمایت پر مجبور کیا تو دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے ناراض امیدوار کو اگلے انتخاب میں صوبائی اسمبلی کی ٹکٹ کے وعدے پر ایوان صدر میں ایک رات بمعہ خاندان وی آئی پی مہمان نوازی سے لطف اندوز فرمایا موصوف ساری رات اپنے دوستوں کو ایوان صدر سے ٹیلیفون کر کے اپنے میزبانوں کے وعدوں اور ضمانتوں سے آگاہ کرتے رہے۔ ایک طرف سیاسی جوڑ توڑ کا میدان گرم تھا تو دوسری طرف ہزاروں افراد کو بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام اور بیت المال کے فنڈ سے کروڑوں روپیہ نقد بانٹا گیا ۔اس کے ساتھ ساتھ وفاقی محکموں میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر سینکڑوں نوکریوں کے تقرر نامے گھر گھر جا کر تقسیم کئے گئے۔ یہ تمام عمل اپنی جگہ، ضلعی انتظامیہ کا کردار سب سے اہم تھا۔ گزشتہ ساڑھے چار سال سے شہباز شریف کا اپنی نجی اور سرکاری میٹنگوں میں ایک جملہ پورے صوبہ پنجاب میں مشہور رہا ہے کہ مَیں سارے پنجاب کا وزیر اعلیٰ ہوں، ماسوائے راولپنڈی کے، وہاں اختیار چودھری نثار کا ہے، ڈیرہ غازی خان کے وہاں ذوالفقار کھوسہ کا اختیارہے اور ملتان کے یہاں انتظامی طور پر یوسف رضا گیلانی کا اختیار ہے۔ ان تینوں اضلاع میں ساری انتظامی مشینری، جس میں پٹواری اور ایس ایچ او سے لے کر کمشنر ڈی سی او کے علاوہ آر پی او اور سی پی او تمام انتظامیہ وزیر اعلیٰ کے بجائے نثار علی خان، ذوالفقار کھوسہ اور یوسف رضا گیلانی کے این او سی کے بغیر نہ تعینات ہو سکتی تھی اور نہ ہی تبدیل۔

ملتان کی مکمل ضلعی انتظامیہ گزشتہ ساڑھے چار سال سے صرف یوسف رضا گیلانی کی وفا دار اور تابعدار ہے اور اس حوالے سے عوام تو ایک طرف، وہ مسلم لیگ (ن) کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین، حتیٰ کہ مقامی صوبائی وزیر کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ یہی وجہ تھی کہ پوری انتخابی مہم اور پھر انتخاب والے دن پیپلز پارٹی کے جلسوں اور جلوسوں میں کھلم کھلا نہ صرف جدید اسلحے کی نمائش دیکھی گئی، اس کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ کے نظارے بھی ٹی وی چینلوں پر سارے ملک کے عوام نے دیکھے۔ انتخاب والے دن سندھ سے آئے ہوئے سو سے زائد مسلح افراد (عبدالقادر گیلانی کے سسر پیر پگاڑا کے بھائی کی جانب سے بھیجے گئے) پورے حلقہ انتخاب میں ایک پولنگ اسٹیشن سے دوسرے پولنگ اسٹیشن پر جدید اسلحے سے لیس ہو کر گشت کرتے رہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ حلقہ انتخاب میں کینٹ کا شہری علاقہ بھی شامل تھا، جس میں قدم قدم پر چیک پوسٹیں قائم ہیں، جہاں عام شہری کو دن میں دسیوں مرتبہ تلاشی اور شناخت کے عمل سے گزرنا پڑتاہے، لیکن سید یوسف رضا گیلانی کے مسلح افراد کو نہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے روکا گیا اور نہ ہی عسکری انتظامیہ نے اپنا اختیا ر استعمال کیا۔

یہ ہے وہ مکمل تصویر معرکہ ملتان کی جس میں ایک بار پھر پاکستان میں اچھے دن اور اچھی حکمرانی کا خواب دیکھنے والے ہار گئے، کرپشن، اقربا پروری، دھونس دھاندلی اور بے اصول افراد کے گورو ایک بار پھر فتح مند قرار پائے۔ دونوں طرف سے جھوٹ، فریب اور بے اصول افراد کے گروہ اپنی طالع آزمائیوں اور شعبدہ بازیوں میں مصروف رہے اور

دعوے جمہوریت، اسلام اور تبدیلی کے بلند کرتے رہے، لیکن یہ ساری بات تو ایک طرف، خود عوام اور ووٹر (جن کے بارے میں جغادری تجزیہ نگار اور چیختے چنگھاڑتے اینکر حضرات بلند بانگ دعوے کرتے نظر آتے ہیں) کی خواہشات بھی اسی منافقانہ اور پُرفریب سیاست کے سہارے ہی مکمل ہو سکتی ہیں....ووٹ کے بدلے نوٹ، چاہے زکوٰة سے ملے اور چاہے بیت المال سے

اپنی اولاد اور بھائی بہن کے لئے نوکری کے پروانے چاہے حق ہو یا نہ، اسی نظام کے سہارے ہی حاصل ہو سکتے ہیں۔ مَیں ذاتی طور پر اسی حلقہ انتخاب کا رہائشی ہوں اور میرے نام کا اندراج بطور ووٹر اسی حلقہ انتخاب میں ہے گزشتہ تمام انتخابات میں میرے پاس برائی اور کم برائی کی چوائس ہی موجود رہی ہے۔ آزاد اور خود مختار میڈیا گزشتہ دس سال سے تبدیلی اور بہتری کے خواب دکھانے میں مصروف ہے تو دوسری طرف تبدیلی اور صالح قیادت کا خواب دکھانے والے ہیں، لیکن ہم سب اس گلے سڑے نظام کے کنویں سے چالیس ڈول نکالنے میں مصروف ہیں۔ گلے سڑے نظام کا کتا کنویں میں ہی موجود ہے تو ایسے میں تبدیلی اور سنہرے دنوں کے خواب کیسے پورے ہو سکتے ہیں؟ سابقہ انتخابات کی طرح اس انتخاب میں بھی اصول اور سچ کی سیاست کے ساتھ تبدیلی کے خواب دیکھنے والے پھر ہار گئے اور منافقانہ اور پُرفریب سیاست کے علمبردار پھر جیت گئے۔ دونوں طرف لالچ، فریب اور منافقت کے تاجر مصروف عمل تھے۔ ایک گروہ جیت گیا اور دوسرا گروہ ناکام رہا۔ اگلے انتخاب میں یہ نئے ہتھکنڈوں کے ساتھ میدان میں ہوں گے، لیکن اچھے دن اور اچھی حکمرانی کا خواب دیکھنے والے کہاں جائیں؟....کیا مکمل ناکامی ہی ان کا مقدر ہے۔

مزید :

کالم -