کیا صدارتی انتخاب تلخ یادیں چھوڑ جائے گا؟

کیا صدارتی انتخاب تلخ یادیں چھوڑ جائے گا؟
کیا صدارتی انتخاب تلخ یادیں چھوڑ جائے گا؟

  



                        مسلم لیگ کا وفد ایم کیو ایم سے مذاکرات کرنے نائن زیرو گیا تو تبصرہ نگار یہ کہتے پائے گئے کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف بھی صدر آصف علی زرداری کی مفاہمتی پالیسی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں، تاکہ پانچ سالہ مدت کے دوران کسی بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مگر یہ کہتے ہوئے وہ بھول جاتے ہیں کہ ملک کی سب سے بڑی عوامی جماعت یعنی پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادی تو اس مفاہمت سے باہر نکل گئے ہیں۔ صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ کر کے پیپلز پارٹی، اے این پی اور ان کی حامی علاقائی جماعتوں نے احتجاج کی جو بنیاد رکھی ہے، کیا وہ آنے والے دنوں میں مفاہمت کا لبادہ اوڑھ لے گی وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ایم کیو ایم کی حمایت کے لئے ایک بہت بڑا قدم اٹھایا ہے، مخالفین اسے یوٹرن کہہ رہے ہیں، کیونکہ ایم کیو ایم کے ساتھ مسلم لیگ ن کی کبھی بھی نہیں بنی۔ حتی کہ دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنما مخالف قائدین پر غلیظ اور رکیک حملے بھی کرتے رہے ہیں۔ خود عوام کو بھی یہ فیصلہ آسانی سے ہضم نہیں ہو رہا، لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ سیاست میں سب جائز ہوتا ہے، تو اس فیصلے کو بھی اسی تناظر میں لیا جانا چاہیے۔ ویسے بھی پیپلز پارٹی کے بائیکاٹ کی وجہ سے وفاقی حکومت کی یہ مجبوری بن گئی تھی کہ وہ سندھ سے منتخب ہونے والے صدر کے لئے حمایت حاصل کرے، ایسا نہ کرنے کی صورت میں صدر جو وفاق کی علامت ہوتا ہے ایک صوبے سے عدم اعتماد کا شکار نظر آنا، پھر چونکہ ممنون حسین کا تعلق ہے بھی سندھ سے، اس لئے وہاں سے اگر انہیں ایک بھی ووٹ نہ ملتا تو بڑی سبکی ہوتی۔ اب ایم کیو ایم کی حمایت کے بعد یہ داغ دھل گیا ہے۔ تاہم اس کے لئے مسلم لیگ ن کو آنے والے دنوں میں کیا سیاسی قیمت چکانی پڑے گی، اس کا فیصلہ تو بعد میں ہو گا، البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ مسلم لیگ ن کو اس صدارتی انتخاب نے اس لحاظ سے ایک اور سیاسی دھچکا پہنچایا ہے کہ اس نے کراچی کے حوالے سے جو اصولی موقف اپنا رکھا تھا۔ اس میں شاید اب اسے واضح تبدیلی لانا پڑے گی۔

پاکستان نجانے کیوں ایسا ملک بن گیا ہے کہ جہاں نان ایشوز اس قدر بڑے مسائل بن کر سامنے آتے ہیں کہ باقی سب کچھ غیر اہم نظر آنے لگتا ہے صدر مملکت جیسے ایک آئینی اور بے ضرر عہدے کا انتخاب اگر ملک میں ایک نئی سیاسی محاذ آرائی کا باعث بن جاتا ہے تو بہت بد قسمتی کی بات ہے عجلت میں کئے گئے فیصلے دوررس اثرات مرتب کرتے ہیں جس طرح پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کا فیصلہ عجلت میں کر کے ایک ٹھہراﺅ والی سیاسی فضا کو پر ارتعاش کر دیا ہے، اسی طرح مسلم لیگ ن کی طرف سے سپریم کورٹ کے ذریعے صدارتی الیکشن کے شیڈول میں تبدیلی بہت سے سوالات چھوڑ گئی ہے اس اقدام نے سپریم کورٹ کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے اور جس تیزی کے ساتھ عدالت عظمیٰ نے راجہ ظفر الحق کی درخواست کو سنا اور فیصلہ دیا، وہ تنقید کی زد میں ہے کیا یہ بہتر نہ ہو تاکہ مسلم لیگ (ن) عدالت جانے سے پہلے سیاسی جماعتوں سے رابطے کرتی، خصوصاً پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کو اعتماد میں لیا جاتا ممکن ہے شیڈول کی تبدیلی پر آمادگی عدالت جانے سے پہلے ہی طے ہو جاتی اور الیکشن کمیشن کو اس تبدیلی پر آمادہ کرنے کے لئے اگر عدالت عظمیٰ جانا پڑتا، تو بات دوسری ہوتی۔ ایسا نہیں کیا گیا اور یکطرفہ فیصلے کا تاثر ابھرا جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی بائیکاٹ پر مجبور ہو گئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ ن اپنے اتحادیوں کی بدولت واضح طور پر اس پوزیشن میں ہے کہ اپنا صدر منتخب کرا سکے، ایک یقینی جیت کو متنازعہ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس کا جواب تو مسلم لیگ ن کی قیادت ہی دے سکتی ہے۔

ایک عام تاثر یہ ہے کہ صدارتی الیکشن سے پیداہونے والی صورتحال کو بالغ نظری کے ساتھ دیکھا اور پرکھا نہیں گیا اگر تو فیصلے صرف اس سوچ کے ساتھ کئے جا رہے ہیں کہ صدارتی انتخاب کو ہر صورت واضح اکثریت کے ساتھ جیتنا ہے، تب تو سب کچھ روا ہے، لیکن اگر بات آنے والے دنوں کی ہو، ملک میں سیاسی استحکام ہو، نظام کو بلاکسی رکاوٹ کے چلنے اور چلانے کی ہو، تو پھر بہت کچھ اور بھی دیکھنا پڑتا ہے، جو نہیں دیکھا گیا پیپلز پارٹی اس وقت ایک اہم پوزیشن میں ہے سندھ میں اس کی تنہا حکومت ہے، سینٹ میں اسے واضح اکثریت حاصل ہے اپوزیشن لیڈر اس کا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کی سیاسی اہمیت ہے مثلاً اب یہی دیکھئے کہ صدارتی الیکشن کی وجہ سے پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان جو خلیج پیدا ہوئی ہے وہ چیئر مین نیب، چیف آف آرمی سٹاف کے تقرر اور چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی کے سلسلے میں کیا مشکلات پیدا نہیں کرے گی۔ پھر اسمبلی کے اندر بھی پیپلز پارٹی حکومت کی بھر پور مخالفت کا فیصلہ کر سکتی ہے جبکہ سینٹ میں اکثریت کی وجہ سے حکومت کو قانون سازی میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سندھ میں اس کی بلا شرکت غیرے حکومت ہے اور عدم تعاون پر آئے تو اس بحران کو پیدا کر سکتی ہے، جو پنجاب میں میاں محمد نواز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ اس وقت کی وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے لئے پیدا کیا تھا۔ پھر آنے والے دنوں میں اگر کراچی کے حالات بہتر نہ ہوئے اور وہاں لاقانونیت اور قتل وغارت گری کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو وزیر اعظم محمد نواز شریف پر دباﺅ پڑے گا کہ وہ حالات کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ تاہم ایک طرف ایم کیو ایم کے ساتھ ان کی مفاہمت اور دوسری طرف سندھ حکومت کی سرد مہری ان کے راستے کی دیوار بن سکتی ہیں یوں ایک طرح سے ان پر بھی ناکامی کا وہی لیبل لگنا شروع ہو جائے گا جس کا پچھلی حکومت ہدف بنی رہی ہے۔

کہا یہ جا رہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے صدارتی الیکشن کا بائیکاٹ نہ کر کے اس انتخاب کی لاج رکھ لی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما تحریک انصاف کے اس فیصلے پر اسے فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ دے رہے ہیں جو بادی النظر میں بہت عجیب بات ہے، کیونکہ پاکستان تحریک انصاف نے مسلم لیگ (ن) کے لئے میدان کھلا نہیں چھوڑا، عمران خان کی حکمت عملی شاید یہ ہے کہ کسی بھی جماعت کا دم چھلہ بننے کی بجائے اپنے فیصلے آپ کئے جائیں۔ اگر تحریک انصاف پیپلز پارٹی کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے انتخاب کا بائیکاٹ کر دیتی تو اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں آنا تھا، البتہ پیپلز پارٹی کا پلڑا مزید بھاری ہو جاتا، اب پاکستان تحریک انصاف صدارتی انتخاب میں حصہ لے رہی ہے تو اس کی جداگانہ شناخت موجود ہے البتہ عمران خان نے پیپلز پارٹی کے موقف کی کھل کر حمایت کی ہے اور اسے درست قرار دیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ صدارتی انتخاب کو ہائی جیک کر لیا گیا ہے بعض لوگ یہ سوال بھی پوچھتے ہیں کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اگر اپنے صدارتی امیدوار کی حمایت کے لئے ایم کیو ایم کے دروازے پر دستک دینا گوارا کر لیا تھا، تو انہوں نے پاکستان تحریک انصاف سے اسی طرح کا بھر پور رابطہ کیوں نہیں کیا۔ آخر وہ بھی تو خیبر پختونخواہ کی سب سے بڑی جماعت ہے اور وہاں حکومت بھی اس کی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ خیبر پختونخواہ سے مولانا فضل الرحمن کی شکل میں انہیں ایک بڑی حمایت حاصل ہو گئی تھی، اس لئے انہوں نے مزید کی ضرورت محسوس نہیں، جبکہ سندھ میں حمایت کے لئے ایم کیو ایم کا سہارا لینا ضروری تھا۔ اس لئے ماضی کے تلخ واقعات کی کڑوی گولی بھی نگلنا پڑی۔

صدارتی انتخاب کا مرحلہ بخیر و عافیت گذر جائے گا۔ یہ آئینی عہدہ بھی مسلم لیگ (ن) کے پاس آجائے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتقال اقتدار کے اس مرحلے کی تکمیل کے بعد ملک میں سیاسی فضا کیا رنگ اختیار کرتی ہے ملک کو جس قسم کے سنگین بحران اور چیلنجوں کا سامنا ہے، اس کی وجہ سے ملک کی سیاست میں استحکام اور برداشت کی اشد ضرورت ہے اللہ کرے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان صدارتی انتخاب کے مسئلے پر جو کشیدگی پیدا ہوئی ہے، وہ دائمی ثابت نہ ہو اور پیپلز پارٹی اپنے رویے سے کوئی ایسی صورتحال پیدا نہ کرے جو ملک میں عدم استحکام کا باعث بنے یہ صورتحال وزیر اعظم محمد نواز شریف کے سیاسی قد کا بھی امتحان ہے۔   ٭

مزید : کالم


loading...